Book Name:Wo Hum Main Say Nahi

( احیاء علوم الدین، کتاب آداب الالفۃ۔۔۔الخ، بیان معنی الاخوۃ۔۔۔الخ، ۲/ ۲۰۱)   

بھائی چارہ کس سے کیا جائے؟

        حضرت سیِّدُنا علی المرتضیکرّم اللّٰہ تعالی وجہہ الکریمنے فرمایا : فاجر سے بھائی بندی نہ کر کہ وہ اپنے فعل کو تیرے لیے مزین کریگا (یعنی سنوارے گا)اور یہ چاہے گا کہ تو بھی اس جیسا ہوجائے اور اپنی بدترین خصلت کو اچھا کرکے دکھائے گا، تیرے پاس اس کا آنا جاناعیب اور شرم کا باعث ہے اور بیوقوف سے بھی بھائی چارہ نہ کر کہ وہ خود کو مشقت میں ڈال دے گا اور تجھے کچھ نفع نہیں پہنچائے گااور کبھی تجھے نفع پہنچانا چاہے بھی تونقصان پہنچادے گا، اس کی خاموشی بولنے سے بہتر ہے اس کی دُوری نزدیکی سے بہتر ہے اور موت زندگی سے بہتر اور جھوٹے سے بھی بھائی چارہ نہ کر کہ اس کے ساتھ معاشرت تجھے نفع نہ دے گی، تیری بات دوسروں تک پہنچائے گا اور دوسروں کی تیرے پاس لائے گا اور اگر تو سچ بولے گا پھر بھی وہ سچ نہیں بولے گا۔ (تاریخ دمشق، ۴۲/ ۵۱۶)

بھائی چارے کی سچائی کی علامت

        حضرت سیدنافضیل بن عیاض رَحْمَۃُ  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : بھائی چارے کی سچائی میں سے یہ بھی ہے کہ بندہ اپنے بھائی کی عزت فقر(محتاجی)کی حالت میں اس سے کہیں زیادہ کرے جتنی عزت اس کی غنا(امیری) کی حالت میں کرتا تھا کیونکہ فقر غنا سے افضل ہے اور اس کا بھائی اپنے فقر کے سبب نہیں بلکہ اپنے مقام ومرتبے کی وجہ سے زیادہ عزت کا مستحق ہے ۔(تنبیہ المغترین، ص ۲۱۰) 

 حضرت سیدناابوحازِم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم فرماتے ہیں :  جب تُو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ   کے لئے کسی سے بھائی چارہ قائم کرے تو اس سے دنیا داروں جیسا معاملہ نہ کراور بغیر بدلہ کی خواہش کے بکثرت اس کی مدد کر تاکہ تمہارے بھائی چارے کو دوام ملے۔(تنبیہ المغترین، ص۲۰۹)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !             صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(23) نماز میں کوّے کی طرح ٹھونگیں مار نے والا ہم سے نہیں

سرکارِ مدینہ، قرارِ قلب وسینہ صَلَّی  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ٹھونگیں مارنے سے منع کیااور ارشاد فرمایا : لَیْسَ مِنَّا مَنْ یَنْقُرُ نَقْرَالْغُرَابِ یعنی جو کوّے کی طرح ٹھونگیں مارے وہ ہم سے نہیں ۔

  (جامع الاصول للجزری، مقدار الرکوع والسجود، ۵/ ۳۸۲، حدیث : ۳۴۹۷)

        حضرتِ سیِّدُنا عبد الرحمن بن شِبْل رَضِیَ  اللہ تَعَالٰی عَنْہُ بیان کرتے ہیں :  رسولُاللّٰہصَلَّی  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے کوے کی طرح ٹھونگے مارنے ، جانوروں کی طرح بازو بچھانے اور آدمی کو مسجد میں اپنی جگہ مقررکرلینے سے منع فرمایا ہے جیسے اُونٹ اپنی جگہ مقرر کرلیتا ہے۔(ابو داوٗد ، کتاب الصلاۃ ، باب صلاۃ من لا یقیم ۔۔۔الخ ، ۱/  ۳۲۸ ، حدیث :  ۸۶۲)

             مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحَنّان فرماتے ہیں : یعنی ساجِد(سجدہ کرنے والا) سجدہ ایسی جلدی جلدی نہ کرے جیسے کوّا زمین پر چونچ مارکر فورًا اٹھالیتا ہے۔

(مراۃ المناجیح، ۲/۸۷ )

 نماز میں تعدیل ارکان واجب ہے

        نماز میں تعدیل ارکان یعنی رکوع وسجودو قومہ( یعنی رکوع سے سیدھا کھڑاہونا)و جلسہ( یعنی دو سجدوں کے درمیان سیدھا بیٹھنا)میں کم از کم ایک بار سُبْحٰنَ اﷲِکہنے کی قدر (مقدار)  ٹھہرنا (واجب ہے) ۔ (بہار شریعت، ۱/ ۵۱۸) نماز ی کوچاہئیے کہ اپنی نماز میں فرائض، واجبات، سنن اور مستحبات کا لحاظ رکھے اورعاجزی وانکساری اور خشوع وخضوع کی کیفیت پیداکرے۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !              صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(24) حاسد اور چغل خورہم سے نہیں

         رسولِ اکرم ، نُورِ مُجَسَّمصَلَّی  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا ارشاد عبرت نشان ہے :  حسد کرنے والے، چغلی کھانے والے اور کاہن کے پاس جانے والے کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی میرا اس سے کوئی تعلق ہے ۔(مجمع الزوائد، کتاب الادب، باب ما جاء فی الغیبۃ و النمیمۃ، ۸/ ۱۷۲، حدیث : ۱۳۱۲۶)

حسد کی تعریف

        کسی کی دینی یا دُنیاوی نعمت کے زَوال (یعنی اس سے چھن جانے) کی تمنا کرنایا یہ خواہش کرنا کہ فُلاں شخص کو یہ یہ نعمت نہ ملے ، اس کا نام ’’حَسَد‘‘ ہے۔(الحدیقۃ الندیۃ، ۱/ ۶۰۰) حَسَدکرنے والے کو ’’حاسِد ‘‘ اورجس سے حَسَد کیا جائے اُسے ’’محسود‘‘ کہتے ہیں ۔

حسد کی حقیقت

        حسد کی حقیقت یہ ہے کہ جب کسی(مسلمان)بھائی کواللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  کی نعمت ملتی ہے تو حاسد انسان اسے ناپسند کرتا ہے اور اس بھائی سے نعمت کا زوال چاہتا ہے۔ اگر وہ اپنے بھائی کو ملنے والی نعمت کو ناپسند نہیں کرتا اور نہ اس کا زوال چاہتا ہے بلکہ وہ چاہتا ہے کہ اسے بھی ایسی ہی نعمت مل جائے تو اسے رشک کہتے ہیں ۔(احیاء علوم الدین، کتاب ذم الغضب۔۔۔الخ، بیان حقیقۃ الحسد۔۔۔الخ، ۳/  ۲۳۴)

حسد ایمان کو بگاڑتا ہے

        رسولِ اکرم ، نُورِ مُجَسَّم صَلَّی  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : حسد ایمان کو ایسا بگاڑتا ہے جیسے ایلوا ( ایک کڑوے درخت کا جما ہوا رس)شہد کو بگاڑتا ہے۔(الجامع الصغیر، حدیث : ۳۸۱۹، ص۲۳۲)

ابلیس و فرعون سے بڑھ کر شریرکون؟

        مروی ہے کہ ایک مرتبہ ابلیس نے فرعون کے دروازے پر آکر دستک دی ، فرعون نے پوچھا :  کون ہے ؟ ابلیس نے کہا :  اگرتُو خدا ہوتا تو مجھ سے بے خبر نہ ہوتا ، جب اندر داخل ہوا تو فرعون نے کہا :  کیا تُو زمین میں اسے جانتا ہے جو تجھ سے اور مجھ سے بڑھ کر شریر ہے ؟ کہنے لگا :  ہاں !حسد کرنے والا اور میں حسد کی وجہ سے ہی اس مشقت میں ہوں ۔  (تفسیر کبیر، ۱/  ۲۲۶)   

 سب سے پہلا گناہ

 



Total Pages: 26

Go To