Book Name:Wo Hum Main Say Nahi

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !        صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد   

جس کی آواز اچھی نہ ہو؟

       مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحَنّان فرماتے ہیں : ہر شخص کی آواز اس کے لحاظ سے ہوگی، ایک ہی شخص اپنی آواز بُری بھی نکال سکتا ہے اور کچھ اچھی بھی تو قرآن کی تلاوت میں اچھی آواز استعمال کرو یہ مطلب نہیں کہ جس کی آواز اچھی نہ ہو وہ تلاوت قرآن ہی نہ کرے۔(مراٰۃ المناجیح، ۳/ ۲۷۴)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !           صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

عورت کا اجنبیوں کے سامنے تلاوت کرنا

    مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحَنّان فرماتے ہیں : عورتوں کو اذان دینا ، تکبیر کہنا، خوش الحانی سے اجنبیوں کے سامنے تلاوت قرآن کرنا سب ممنوع ہے عورت کی آوازبھی سترہے۔(مراٰۃ المناجیح، ۶/ ۴۴۵) مفتی صاحب ایک اور جگہ لکھتے ہیں : جو عورت قاریہ ہو وہ بھی اپنی قرأت عورتوں کو سنائے مردوں کو نہ سنائے کہ عورت کی آواز کا بھی پردہ ہے ۔

(مراٰۃ المناجیح، ۸/ ۵۹)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !         صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

قرآن پڑھنے کا طریقہ

        حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا :  اے قرآن والو ! قرآن کو تکیہ نہ بناؤ اور دن رات اس کی تلاوت کرو جیسا کہ تلاوت کا حق ہے اور قرآن کا اعلان کرو اسے خوش آوازی سے پڑھو اس کے معنٰی میں غور کرو تاکہ تم کامیاب ہو اور اس کا ثواب جلدی نہ مانگو کہ اس کا ثواب بہت ہے۔

( شعب الایمان، باب فی تعظیم القرآن، فصل فی ادمان تلاوتہ، ۲/ ۳۵۰ ، حدیث : ۲۰۰۷)

       مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحَنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت لکھتے ہیں :  یعنی قرآن شریف پر سر رکھ کر نہ لیٹو کہ یہ بے ادبی ہے قرآن سے بے فکر نہ ہوجاؤ کہ اس کی تلاوت میں سُستی کرو، اس پر عمل نہ کرو ، دوسرے معنی قوی ہیں جیسا کہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے ۔(’’جیسا کہ اس کی تلاوت کا حق ہے‘‘کے تحت مفتی صاحب  رَحْمَۃُ  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتے ہیں : ) اس جملہ میں دو حکم ہیں ہمیشہ قرآن پڑھنا اور دُرست پڑھنا، قرآن کا حق تلاوت یہ ہے کہ ا س کی تلاوت صحیح طریقہ سے کرے اور اس پر عمل کرے رضائے الٰہی کے لئے پڑھے نہ کہ محض لوگوں کو خوش کرنے کے لیے۔ رب  تَعَالٰی فرماتاہے :  

اِنَّ الَّذِیْنَ یَتْلُوْنَ كِتٰبَ اللّٰهِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ     (پ۲۲، فاطر : ۲۹)

ترجمہ کنزالایمان : بیشک وہ جو اللّٰہ کی کتاب پڑھتے اور نماز قائم رکھتے ہیں ۔

        یہاں (صاحبِ) مرقات نے فرمایا کہ قرآن کریم پر تکیہ لگانا اس کی طرف پاؤں پھیلانا اس پر کوئی اور کتاب رکھنا اس کی طرف پیٹھ کرنا اسے پھینکنا وغیرہ سخت منع ہے  [1]؎ ، قرآن کریم کو چومنا ، سر پر رکھنا مستحب ہے ، اس سے فال نکالنا حرام ہے ۔ (مفتی صاحب رَحْمَۃُ  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ مزید لکھتے ہیں : )قرآن کریم خوش اِلحانی سے پڑھو اور قرآن کے ذریعہ لوگوں سے غنی و بے نیاز ہوجاؤ، (لفظ تَغَنُّوا) گانے کے معنی میں نہیں کہ قرآن شریف گا کر پڑھنا حرام ہے۔ تدبُّر ِقرآن علما کا اور ہے بے علم لوگوں کا کچھ اور! علما تو اس کے معنی و اَحکام میں غور کریں عوام یہ سمجھ کر پڑھیں کہ یہ و ہ الفاظ ہیں جو نبی کریم صلَّی اللّٰہ علیہ وسلَّماور تمام صحابہ (عَلَیْہِمُ الرِّضوَان)نے پڑھے تھے ، اللّٰہ اکبر! ہمارے کہاں نصیب کہ وہ الفاظ ہماری زبان پر بھی آئیں ۔(مفتی صاحب رَحْمَۃُ  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ مزید لکھتے ہیں : )تلاوتِ قرآن، تعلیمِ قرآن، تجویدِ قرآن کا ثواب آخرت میں ملے گا جو تمہارے علم و فہم سے وَراء ہے تم صرف یہاں ہی اس کا ثواب نہ لو یعنی دنیا کو اسی کا مقصد نہ بنالو۔(مراٰ ۃ المناجیح ، ۳/ ۲۷۴)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !            صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

قرآن کریم دُرست پڑھا جائے

         میرے آقااعلیٰ حضرت، امامِ اہلِسنّت، مجدِّدِ دین وملّت ، مولانا شاہ امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن لکھتے ہیں : بلاشبہ اتنی تجوید جس سے تصحیحِ حروف ہوا ور غلط خوانی سے بچے فرضِ عین ہے۔(فتاویٰ رضویہ مخرجہ ، ۶/۳۴۳)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !         صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد   

قرآن کریم سیکھنے والوں کے حلقے بنا دیتے

        جامع مسجد دِمشق میں حضرت سیِّدُنا ابودَرداء رَضِیَ  اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کی خدمت میں نمازِ فجر کے بعد لوگ قرآن سیکھنے کے لئے جمع ہوجاتے ، آپ ان لوگوں کے دس دس افراد پر مشتمل حلقے بنادیتے اور ہر حلقے پر ایک نگران مقرر فرماتے جو اُن کو پڑھاتااور ان کی غلطیوں کی اِصلاح کرتا۔آپ رَضِیَ  اللہ تَعَالٰی عَنْہُ خود مِحراب میں تشریف فرماہوکر انہیں ملاحظہ فرماتے، اگرکسی نگران کو کوئی مسئلہ دَرپیش ہوتا تو وہ آپ کی خدمت میں رجوع کرتا۔(معرفۃ القراء الکبار، ۱/ ۴۱)

اونچا سننے کے باجود غلطی پکڑ لیا کرتے

        حضرت سیِّدُنا امام قالون رَحْمَۃُ  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ اونچا سنتے تھے لیکن اس کے باوجودآپ تلاوت کرنے والے کے ہونٹوں کو دیکھ کر اس کی غلطی کی نشان دہی فرمادیا کرتے تھے۔

 



1     فتاویٰ امجدیہ جلد 4 صفحہ 441 پر ہے : جان بوجھ کر قراٰنِ پاک کو زمین پر پھینکنا کُفر ہے۔

(کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب ، ص۱۹۴)                                                                                              



Total Pages: 26

Go To