Book Name:Wo Hum Main Say Nahi

        حضرت سیِّدُنا جابر رَضِیَ  اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ ایک آدمی حضور اکرم صَلَّی  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں تنگدستی کی شکایت لے کرحاضر ہواتو حضورصَلَّی  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اُسے شادی کرنے کا حکم ارشاد فرمایا۔(درمنثور، پ۱۸، النور، تحت الآیۃ : ۳۲، ۶/ ۱۸۹)

نکاح کرو  اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ    تمہیں غنی کردے گا

        حضرت سیِّدُناابو بکر صدیق رَضِیَ  اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ اللّٰہ  تعا لیٰ نے تمہیں نکاح کا حکم دیا ہے اس کی اطاعت کرو، اللّٰہ   تَعَالٰی نے تمہارے ساتھ جو غَنَا (مالداری) کا وعدہ کیا ہے اللّٰہ   تَعَالٰی اسے پورا کرے گا۔( کنز العمال، کتاب النکاح، قسم الافعال، ۸/ ۲۰۳، جزئ : ۱۶، حدیث : ۴۵۵۷۶)

تین آدمیوں کی مدد اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  کے ذمہ کرم پر ہے

        نبی کریم صَلَّی  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : تین آدمیوں کی مدداللّٰہ  تَعَالٰی کے ذمہ کرم پر ہے ۔ نکاح کرنے والا جو پاکدامنی کا ارادہ رکھتا ہو، مکاتب غلام جو مال دینے کا ارادہ رکھتا ہو، اوراللّٰہ   تَعَالٰی کی راہ میں جہاد کرنے والا۔( ترمذی، کتاب فضائل الجہاد، باب ماجاء فی المجاہد۔الخ، ۳/  ۲۴۷، حدیث :  ۱۶۶۱)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !          صلَّی اللّٰہُ ت عالٰی علٰی محمَّد

   

(21)جو نکاح پر قدرت رکھتا ہو پھر بھی نہ کرے وہ ہم سے نہیں

        خاتَمُ الْمُرْسَلین، رَحمَۃٌ لِّلْعٰلمینصَلَّی  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ عبرت نشان ہے : مَنْ قَدَرَعَلٰی اَنْ یَنْکِحَ فَلَمْ یَنْکِحْ فَلَیْسَ مِنَّا یعنی جو نکاح پر قدرت ہونے کے باوجود نکاح نہ کرے وہ ہم سے نہیں ۔(دارمی، کتاب النکاح، باب الحث علی النکاح، ۲/ ۱۷۷، حدیث : ۲۱۶۴)

نکاح کے فوائد

          نکاح کے فوائد بے شمارہیں ۔ ان میں سے نیک اولاد کا ہونا ، شہوت کا ختم ہونا، گھرکی دیکھ بھال اور قبیلے کا بڑھنا بھی ہے اور ان کے نان ونفقہ کا بندو بست کر کے ان کے ساتھ رہنے میں مجاہدے کاثواب حاصل ہوتاہے، اگربیٹا(اولاد) نیک ہو تو اس کی دعا سے برکت حاصل ہوگی اور اگر فو ت ہوجائے تو (بروزِقیامت تیرا)شفیع ہوگا۔(احیاء علوم الدین، کتاب آداب النکاح، فوائد النکاح، ۲/ ۳۲ ملخصاً)

 میرا طریقہ نکاح ہے

        خاتَمُ الْمُرْسَلین، رَحمَۃٌ لِّلْعٰلمینصَلَّی  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشادفرمایا : مَنِ اسْتَنَّ بِسُنَّتِیْ فَہُوَمِنِّیْ وَمِنْ سُنَّتِی النِّکَاحُ یعنی جس نے میری سنت کو اختیارکیا وہ مجھ سے ہے اور میری سنت میں نکاح بھی ہے۔(مصنف عبدالرزاق، کتاب النکاح، باب وجوب النکاح وفضلہ، ۶/  ۱۳۵، حدیث : ۱۰۴۱۹)   

نکاح کرنا کب سنّت ہے ؟

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اگر مہر، نان و نَفْقہ دینے اورازدواجی حقوق پورے کرنے پر قادر ہواور شہوت کا بہت زیادہ غلبہ نہ ہو تو نکاح کرنا سنت ِ مؤکدہ ہے۔ ایسی حالت میں نکاح  نہ کرنے پر اَڑے رہنا گناہ ہے ۔اگر حرام سے بچنا۔۔ یا۔۔اِتباعِ سنّت ۔۔یا۔۔ اولاد کا حصول پیش ِ نظر ہو توثواب بھی پائے گااور اگر محض حصول ِ لذت یا قضائے شہوت مقصود ہو تو ثواب نہیں ملے گا ، نکاح  بہر حال ہوجائے گا ۔(ماخوذ از بہارشریعت، ۲/ ۴)

نکاح کرنا فرض بھی ہے اور حرام بھی!

    نکاح کبھی فرض، کبھی واجب ، کبھی مکروہ اوربعض اوقات تو حرام بھی ہوتا ہے۔چنانچہ اگر یہ یقین ہو کہ نکاح  نہ کرنے کی صورت میں زناء میں مبتلا ہوجائے گا تو نکاح کرنا فرض ہے۔ایسی صورت میں نکاح  نہ کرنے پر گناہ گار ہوگا۔ اگر مہرونفقہ دینے پر قدرت ہو اور غلبۂ شہوت کے سبب زنا یابدنگاہی یامشت زَنی میں مبتلاء ہونے کا اندیشہ ہو تو اس صورت میں نکاح واجب ہے اگر نہیں کرے گا توگناہ گار ہوگا۔ اگریہ اندیشہ ہو کہنکاح کرنے کی صورت میں نان ونفقہ یا دیگر ضروری باتوں کو پورا نہ کر سکے گا تو اب نکاح  کرنا مکروہ ہے۔ اگر یہ یقین ہو کہ نکاح کرنے کی صورت میں نان و نَفْقہ یا دیگر ضروری باتوں کو پورا نہ کر سکے گا تو اب نکاح  کرنا حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے(ایسی صورت میں شہوت توڑنے کے لئے روزے رکھنے کی ترکیب بنائے)۔ (ماخوذ از بہارشریعت، ۲/ ۴)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !        صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

(22) جو بھائی چارہ قائم نہ کرے وہ ہم سے نہیں

        رسولِ اکرم ، نُورِمُجَسَّم صَلَّی  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ رحمت نشان ہے :  لَیْسَ مِنَّا مَنْ لَّمْ یُوَقِّرْ کَبِیْرَنَا وَیَرْحَمْ صَغِیْرَنَا وَیُؤَاخِیْ فِیْنَاوَیَزُوْریعنی جو ہمارے بڑوں کی عزت، چھوٹوں پر رحم نہ کرے ، مسلمانوں کے ساتھ بھائی چار ہ اور ملاقات نہ کرے وہ ہم سے نہیں ۔(المعجم الأوسط، ۳/ ۳۴۹، حدیث : ۴۸۱۲)

عزت کرو عزت پاؤ

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  اگرآج ہم اپنے سے بڑوں کی عزت نہیں کریں گے تو کل ہمارا بھی کوئی احترام نہیں کرے گا اور اگر آج ہم اپنے بڑوں کو عزت دیں گے اور ان کا احترام کریں گے تو کل اس کا پھل ہم دیکھیں گے چنانچہ

بزرگوں کا احترام کرنے کی فضیلت