Book Name:Wo Hum Main Say Nahi

( احیاء علوم الدین، کتاب النیۃ۔۔۔الخ، بیان تفصیل الاعمال۔۔۔الخ، ۵/  ۹۹)

امیرِ اہلِسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ اور ناراض پڑوسی (حکایت )

       شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ اپنے رسالے ’’جنتی محل کا سودا‘‘ کے صفحہ 33پر لکھتے ہیں : یہ اُن دنوں کی بات ہے جب میں شہید مسجد ، کھارادَر، بابُ المدینہ کراچی میں اِمامت کی سعادت حاصل کرتا تھا، اور ہفتے کے اکثر دن بابُ المدینہ کے مختلف علاقوں کی مسجِدوں میں جا کر سنّتوں بھرے بیانات کر کرکے مسلمانوں کو دعوتِ اسلامی کا تعارُف کروا رہا تھااور اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ    مسلمانوں کی ایک تعداد میری دعوت قبول کر چکی تھی اور دعوتِ اسلامی اٹھان لے رہی تھی مگر ابھی دعوتِ اسلامی ایک کمزور پودے ہی کی مِثل تھی ۔واقِعہ یوں ہوا کہ مُوسیٰ لین، لیاری، بابُ المدینہ میں جہاں میری قِیام گاہ تھی وہاں کامیرا ایک پڑوسی کسی ناکردہ خطا کی بناء پر صرف وصرف غَلَط فہمی کے سبب مجھ سے سخت ناراض ہو گیا اور بِپھر کرمجھے ڈھونڈتا ہواشہید مسجد پہنچا۔میں وہاں موجود نہ تھا بلکہ کہیں سنّتوں بھرا بیان کرنے گیا ہوا تھا، لوگوں کے بقول اُس شخص نے مسجِدمیں نمازیوں کے سامنے میرے بارے میں سخت برہمی کا اظہار کیا اور کافی شور مچایا اور اعلان کیا کہ میں الیاس قادری کے (کارناموں ) کابورڈ چڑھاؤں گا وغیرہ۔ میں نے کوئی انتِقامی کاروائی نہ کی نیز ہمّت بھی نہ ہاری اور اپنے مَدَنی کاموں سے ذرہ برابر پیچھے بھی نہ ہٹا۔ خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ چند روز کے بعد جب میں اپنے گھر کی طرف آ رہا تھا تو وُہی شخص چند لوگوں کے ہمراہ مَحَلّے میں کھڑا تھا، ، میری کسوٹی کا وقت تھا، ہمّت کی اور اُس کی طرف ایک دم آگے بڑھ کر میں نے کہا : ’’ اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ‘‘ اِس پر اُس نے باقاعدہ منہ پھیرلیا، اَلْحَمْدُ لِلّٰہ    عَزَّوَجَلَّ   میں جذبات میں نہ آیا بلکہ مزید آگے بڑھ کرمیں نے اُس کو بانہوں میں لیا اور اُس کا نام لے کر مَحَبَّت بھرے لہجے میں کہا : ’’بَہُت ناراض ہو گئے ہو!‘‘میرے یہ کہتے ہی اُس کا غصّہ ختم ہوگیا، بے ساختہ اُس کی زَبان سے نکلا : نابھئی نا! الیاس بھائی کوئی ناراضگی نہیں ! اور پھر۔۔۔پھر۔۔۔ میرا ہاتھ پکڑ کر بولا :  چلو گھر چلتے ہیں آپ کو میرے ساتھ ٹھنڈی بوتل پینی ہوگی۔‘‘ اور اَلْحَمْدُلِلّٰہ   عَزَّوَجَلَّ   اپنے گھر لے جا کر اس نے میری خیرخواہی کی۔

ہے فَلاح و کامرانی نرمی و آسانی میں        ہر بنا کام بِگڑ جاتا ہے نادانی میں

ڈوب سکتی ہی نہیں موجوں کی طُغیانی میں     جس کی کشتی ہو محمد کی نگہبانی میں

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !          صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

برائی کو بھلائی ختم کرتی ہے

       میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!یہ اُصول یاد رکھئے! کہنَجاست کونَجاست سے نہیں پانی سے پاک کیا جاتا ہے۔لہٰذا اگر کوئی آپ کے ساتھ نادانی وشدّت بھرا سُلوک کرے تب بھی آپ اُس کے ساتھ نرمی و مَحَبَّت بھرا سُلوک کرنے کی کوشِش فرمائیے ۔ اِنْ  شَآءَاللہ  عَزَّوَجَلَّ   اِس کے مُثبَت نتائج دیکھ کر آپ کا کلیجہ ضَرور ٹھنڈ ا ہو گا۔ حضرت سیدنا حکیم لقمان رَضِیَ  اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے اپنے بیٹے سے فرمایا : اے میرے بیٹے!جو شخص یہ کہتا ہے کہ برائی کو برائی دور کرتی ہے وہ جھوٹ بولتا ہے۔اگر وہ سچا ہے تو دوآگیں روشن کرے اور دیکھ لے کہ کیا ایک آگ دوسری کو بجھاتی ہے ۔برائی کو تو بھلائی دور کرتی ہے جیسے آگ کو پانی بجھاتا ہے۔(المستطرف، الباب الثانی والثلاثون، ۱/۲۶۹)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !           صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(20)جس نے تنگدستی کے خوف سے شادی نہ کی وہ ہم سے نہیں

  حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک  صَلَّی  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمان دلنشین ہے : مَنْ تَرَکَ التَّزْوِیْجَ مَخَافَۃَ الْعَیْلَۃِ فَلَیْسَ مِنَّا یعنی جس نے تنگدستی کے خوف سے شادی نہ کی وہ ہم سے نہیں ۔

(جامع الاحادیث، ۷/ ۱۶۵، حدیث : ۲۱۶۳۰)

رِزْق  اللّٰہ عَزَّوَجَلّ َکے ذمہ کرم پر ہے

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!رزق کا وعدہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  نے اپنے ذمہ کرم پر لیا ہے چنانچہ ارشاد باری  تَعَالٰی ہے :  

وَ مَا مِنْ دَآبَّةٍ فِی الْاَرْضِ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ رِزْقُهَا  (پ۱۲، ھود : ۶)

ترجمہ کنز الایمان : اور زمین پر چلنے والا کوئی ایسا نہیں جس کا رزق اللّٰہکے ذمّہ کرم پر نہ ہو   

            لہذا یہ ذہن ہر گز مت بنائیے کہ شادی کرنے سے خرچ بڑھے گا اور تنگدستی کا شکار ہو جاؤں گا ، ا للّٰہ  عَزَّوَجَلَّ   نے قرآنِ پاک میں ارشاد فرمایا :  

وَ اَنْكِحُوا الْاَیَامٰى مِنْكُمْ وَ الصّٰلِحِیْنَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَ اِمَآىٕكُمْؕ-اِنْ یَّكُوْنُوْا فُقَرَآءَ یُغْنِهِمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖؕ-وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ(۳۲) (پ۱۸، النور : ۳۲)

ترجمہ کنز الایمان : اور نکاح کردو اپنوں میں ان کا جو بے نکاح ہوں اور اپنے لائق بندوں اور کنیزوں کا اگر وہ فقیر ہوں تو اللّٰہ انہیں غنی کردے گا اپنے فضل کے سبب اوراللّٰہ  وسعت والا علم والا ہے ۔

        مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحَنّان اس آیت مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں : اس سے معلوم ہوا کہ کبھی نکاح  غَنَا   (خوشحالی)کا سبب ہوجاتاہے کہ اس کے سبب اللّٰہ تعالی فقیر کو غنی کر دیتا ہے ، عورت خوش نصیب ہوتی ہے ۔(نور العرفان، پ۱۸، النور، زیر آیت : ۳۲)

            صدرُ الافاضِل حضرتِ علّامہ مولیٰنا سیِّد محمد نعیم الدّین مُراد آبادیعلیہ رحمۃُ اللّٰہِ الہادیاِس آیت کے تحت لکھتے ہیں : اس غَنَا (خوشحالی)سے مراد یا قناعت ہے کہ وہ بہترین غَنَا(خوشحالی)ہے جو قانِع (قناعت کرنے والے )کو تَرَدُّدْسے بے نیاز کر دیتا ہے یا کفایت کہ ایک کا کھانا دو کے لئے کافی ہو جائے جیسا کہ حدیث شریف میں وارد ہوا ہے یا زوج و زوجہ کے دو رزقوں کا جمع ہو جانا یا فراخی بہ برکتِ نکاح۔(خزائن العرفان ، پ۱۸، النور، زیر آیت : ۳۲)   

 شادی’’تنگدستی‘‘کو ختم کرتی ہے

 



Total Pages: 26

Go To