Book Name:Wo Hum Main Say Nahi

(16)غیر جنس سے مشابہت کرنیوالا ہم میں سے نہیں

   رسولِ اکرم ، نُورِمُجَسَّم صَلَّی  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : لَیْسَ مِنَّا مَنْ تَشَبَّہَ بِالرِّجَالِ مِنَ النِّسَاءِ وَلَا مَنْ تَشَبَّہَ بِالنِّسَائِِ مِنَ الرِّجَالِیعنی جوعورت مردوں کی اور جو مرد عورتوں کی مشابہت اختیار کرے وہ ہم سے نہیں ۔(مسند احمد، مسند عبد اللہ بن عمرو، ۲/ ۶۴۰، حدیث : ۶۸۹۲)

صبح وشام غضب میں ہوتے ہیں

        سرکارِمدینۂ منوّرہ، سردارِمکّۂ مکرّمہ صَلَّی  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا :  عورتوں سے مُشابہت اختیار کرنے والے مرد اور مردوں سے مشابہت کرنے والی عورتیں صبح شام اللّٰہ تعالٰی کی ناراضی اور اس کے غضب میں ہوتے ہیں ۔ (شعب الایمان، باب فی تحریم الفروج، ۴؍۳۵۶، الحدیث : ۵۳۸۵)

تین شخص کبھی جنت میں داخل نہ ہو ں گے

        ایک اور روایت میں ہے کہ سرکارِ مدینہ، راحت قلب و سینہصَلَّی  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ عبرت نشان ہے :  تین شخص کبھی جنت میں داخل نہ ہو ں گے [1]؎  :  (۱)دیُّوث (۲)مردانی عورتیں اور (۳)شراب کاعادی۔صحابہ کرامعلیہم الرضوان نے عرض کی شراب کے عادی کو تو ہم نے جان لیا، دیُّوث کون ہے ؟تو آپ صَلَّی  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا :  وہ شخص جو اس بات کی پرواہ نہیں کرتا کہ اس کے گھر والوں کے پاس کون کون آتا ہے؟ہم نے عرض کی :  مردانی عورتیں کون ہیں ؟تو آپصَلَّی  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : جو مردوں کی مشابہت اختیار کرتی ہیں ۔(مجمع الزوائد، کتاب النکاح، باب فیمن یرضی لاھلہ بالخبث، ۴/ ۵۹۹، حدیث : ۷۷۲۲ )

مردانہ جوتے پہننے والی ملعون ہے

        اُمُّ المومنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ  اللہ تَعَالٰی عَنْہُ اسے ایک عورت کے بارے میں پوچھا گیا جومردانہ جوتا پہنتی تھی، اس پر حدیث روایت فرمائی کہ مَردوں سے تَشَبُّہ کرنے والیاں ملعون ہیں ۔( ابوداؤد، کتاب اللباس، باب فی لباس النساء ، ۴/ ۸۴، حدیث : ۴۰۹۹)

مرد کا بال بڑھانا کیسا؟

       میرے آقااعلیٰ حضرت، امامِ اہلِسنّت، مجدِّدِ دین وملّت ، مولانا شاہ امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن  فرماتے ہیں :  سینہ تک بال رکھنا شرعاً مرد کو حرام، اور عورتوں سے تشبُّہ اور بحکمِ احادیثِ صحیحہ کثیرہ معاذاﷲباعثِ لعنت ہے۔(فتاوی ضویہ ، ۶/ ۶۱۰)

 فتاوی رضویہ جلد21 صفحہ 600پر ہے :  (مرد کو)شانوں سے نیچے ڈھلکے ہوئے عورتوں کے سے بال رکھنا حرام ہے۔ مرد کو زنانی وضع کی کوئی بات اختیار کرنا حرام ہے ۔ رسول اللّٰہ  صَلَّی  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اس پر لعنت فرمائی ہے۔   

(17)بدلہ لینے کے خوف سے سانپ نہ مارنے والا ہم سے نہیں

        حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ عبرت نشان ہے :  مَنْ رَأَیَ حَیَّۃً فَلَمْ یَقْتُلْہَا مَخَافَۃَ طَلْبِہَا فَلَیْسَ مِنَّایعنی جوسانپ دیکھے پھربدلہ کے خوف سے اسے نہ مارے وہ ہم سے نہیں ۔(المعجم الکبیر، ۷/ ۷۸، حدیث : ۶۴۲۵ )

 کیاسانپ کو مارنے والے سے اس کی ناگنی بدلہ لیتی ہے؟

       مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحَنّان فرماتے ہیں : یعنی ہماری سنت کا تارِک ہے۔پہلے جہلائِ عرب کہتے تھے اور جہلائِ ہند اب تک کہتے ہیں کہ سانپ کو مارنے والے سے اس کی ناگنی بدلہ لیتی ہے اس لئے سانپ کو مت مارو۔اس فرمان عالی میں اسی خیال کی تردید ہے بھلا سانپنی یعنی ناگن کو کیا خبر کہ کس نے مارا ہے؟لوگوں میں مشہور ہے کہ مارے ہوئے سانپ کی آنکھوں میں مارنے والے کا فوٹو آجاتا ہے اس فوٹو سے ناگن، قاتل کو پہچان لیتی ہے اس لئے سانپ کو مارکر اس کا سر جلا دیا جاتا ہے تاکہ آنکھوں میں فوٹو نہ رہے مگر یہ بھی غلط ہے اس کا سر جلادینا اسے مار ڈالنے کے لئے ہے، وہ لاٹھی کھاکر بیہوش ہوجاتا ہے لوگ مردہ سمجھ کرچھوڑ دیتے ہیں ، وہ کچھ عرصہ بعد پھر ہوش میں آکر چلا جاتا ہے آگ میں جلانا اس لیے ہے تاکہ واقعی مر جائے۔خیال رہے کہ جب تک سانپ اُلٹا نہ پڑ جائے کہ پیٹ اوپر آجائے تب تک وہ زندہ ہے۔(مراٰۃ المناجیح ، ۵/  ۶۷۸)   

نقصان دینے والے حیوانات کو مارنا جائز ہے

        وہ حیوانات جو تکلیف دیتے ہیں ان کو مارنا جائز ہے جیسے کاٹنے والا کتا، نقصان پہنچانے والی بلی۔ (درمختار، کتاب الخنثی، مسائل شتی، ۱۰/ ۵۱۷)اسی طرح چیل، کوا، چوہا، گرگٹ، چھپکلی، سانپ، بچھو، کھٹمل، مچھر، پِسُّو، مکھی وغیرہ خبیث و مُوذی جانوروں کا مارنا( بھی جائز ہے) اگرچہ حرم میں ہو۔(بہار شریعت ، ۱/ ۱۰۸۲)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !          صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(18)جس نے سلام کا جواب نہ دیا وہ ہم سے نہیں

        حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : مَنْ اَجَابَ السَّلامَ فَہُوَلَہٗ وَمَنْ لَّمْ یُجِبِ السَّلامَ فَلَیْسَ مِنَّایعنی جس نے سلام کا جواب دیا ثواب پائے گا اور جس نے سلام کا جواب نہ دیا وہ ہم سے نہیں ۔(الاذکار، کتاب السلام، باب فی آداب ومسائل من السلام، ص۲۰۸، حدیث : ۷۰۷)

100میں سے 90رحمتیں کسے ملتی ہیں ؟

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!جب کوئی مسلمان سلام کرے تو اُس کاجواب فورًا اوراتنی آوازسے دینا واجِب ہے کہ سلام کرنے والا سُن لے، سلام و ملاقات کی بڑی فضیلت ہے چنانچہ فرمانِ



 1      حضرتِ سیِّدُنا علامہ عبد الرء ُوف مناوی  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْھَادِی   فرماتے ہیں : اس حدیث میں کلام اس شخص کے بارے میں ہے جو ان چیزوں کو حلال جانتے ہوئے کرے ، تو ایسا شخص کبھی جنت میں داخل نہ ہوگا ۔    (فیض القدیر ، حرف الثاء ، ۳/ ۴۳۰ ، تحت الحدیث : ۳۵۳۰ )



Total Pages: 26

Go To