Book Name:Wo Hum Main Say Nahi

(12)مسلمان کے ساتھ بد دیانتی کرنے والا ہم سے نہیں

         سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگارصلَّی  اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :  لَیْسَ مِنَّا مَنْ غَشَّ مُسْلِمًا أَوْضَرَّہُ أَوْ مَاکَرَہیعنی جس نے کسی مسلمان کے ساتھ بددیانتی کی یا اسے نقصان پہنچایا یا دھوکا دیا وہ ہم سے نہیں ۔(جامع الاحادیث، ۶/ ۱۹۰، حدیث : ۱۸۰۹۶)

قیمت بڑھ جانے پر بھی نہ بڑھائی

        حضرت سیِّدُنا سَری سَقَطی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ  اللہ القَوِی  نے باداموں کا ایک ’’کُرّ‘‘ (ایک پیمانے کانام) 60 دینار میں خریدا اور اپنے روزنامچے (ہرروزکے حساب لکھنے کی کتاب ) میں اس کا نفع تین دینار لکھ دیا ، گویا کہ انہوں نے ہر دس دینار پر صرف آدھا دینار نفع لینا بہتر خیال فرمایا ۔ کچھ ہی دنوں میں باداموں کا ایک ’’کُرّ‘‘90 دینار کا ہو گیا ۔ دَلّال (کمیشن ایجنٹCommission Agent/)  آیا اور اس نے بادام طلب کئے ، آپ رَحْمَۃُ  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا :  لے لو ! ۔ اُس نے پوچھا :  کتنے کے ؟ فرمایا :  63 دینار کے ۔ دلّال بھی نیک لوگوں میں سے تھا ، اس نے کہا :  اس وقت یہ بادام 90 دینار کے ہو چکے ہیں ۔ آپ رَحْمَۃُ  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا :  میں نے ایک عہد کیا ہے جسے میں ہرگز نہیں توڑ سکتا ، لہٰذا میں انہیں 63 دینار میں ہی فروخت کروں گا ۔ دلّال نے جواب دیا :  میں نے بھی اپنے اور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ   کے مابین اس بات کا عہد کررکھا ہے کہ کسی مسلمان کو دھوکا نہیں د وں گا ۔ اس لئے میں آپ سے یہ بادام90دینار میں ہی خریدوں گا ۔(احیاء علوم الدین ، ۲ /۱۰۲)

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اللّٰہ تعالٰی ہم سب کو مسلمانوں کا خیر خواہ بنائے، ان کو نقصان پہنچانے یا دھوکہ دینے سے بچائے۔ جو خوش نصیب دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہو جاتا ہے وہ لوگوں کو تکلیف دینے ، مسلمانوں کا مال لوٹنے جیسے بڑے بڑے گناہوں سے تائب ہو کر سنتو ں کے مطابق اپنی زندگی گزارنے والا بن جاتا ہے چنانچہ

میں چوریاں کرتا تھا

        (پنجاب ، پاکستان) کے مقیم اسلامی بھائی اپنی زندگی کے سابقہ احوال کچھ اس طرح قلم بند کرتے ہیں :  گھر میں مذہبی ماحول ہونے کے باوجود افسوس اسلامی اَحکام کی بجاآوری سے کوسوں دور تھا ۔ چند روپے کی خاطر چوریاں کرنا، راہ گیروں کی جیبیں صاف کرنااور ان کے مال کو ہڑپ کر جانا میرا شیوہ بن چکا تھا ۔ شایدیہ اچھی صحبت سے دوری کا نتیجہ تھا جس کی وجہ سے میں برائیوں کے سمندر میں ڈوبتا جارہاتھا۔ہوا کچھ اس طرح کہ مدنی ماحول سے منسلک ایک باعمامہ اسلامی بھائی جو سفید لباس زیب تن کئے ہوئے تھے میرے پاس تشریف لائے اور نہایت ہی محبت بھرے انداز میں سلام و مصافحہ کرنے کے بعد مجھے نیکی کی دعوت دینے لگے اور آخرت کی ہمیشہ رہنے والی زندگی کوسنوارنے کے لئے اعمال صالحہ کرنے کی ترغیب دلانے لگے ۔ دوران گفتگو بذریعہ انفرادی کوشش انہوں نے مجھے دعوت اسلامی کے ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع کی دعوت دی۔ یوں اجتماع کی حاضری کا سلسلہ شروع ہو گیا ۔ اجتماع کی برکت سے آہستہ آہستہ دعوت اسلامی کی محبت دل میں گھر کرتی چلی گئی ۔شیخ طریقت ، امیر اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا نورانی جلوہ خواب میں دیکھا تو میرا ایمان تازہ ہوگیا ۔آپ انتہائی سادہ مگر صاف وشفاف لباس زیب تن کئے اور سبز عمامہ کا تاج سجائے ہوئے تھے، آپ کے چہرے پر بزرگی کے آثار نمایاں نظر آرہے تھے ، پھر وہ وقت بھی آیا کہ میں نے سر کی آنکھوں سے دیدارِامیرِ اہلسنّت کا شرف پایا ، دولتِ دیدار ملنے کے بعد نسبت ِعطار سے مشرف ہونے کے لئے بے قرار ہوگیا اور جلد ہی آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے دامن سے وابستہ ہوکر عطاری بن گیا ۔ نسبتِ عطار حصے میں کیا آئی میری زندگی میں سنتوں کی بہار آگئی ، چہرے پر داڑھی سجالی ، سر پر سبز عمامہ شریف پہن لیا اور مدنی حلیہ بھی اپنا لیا تادمِ تحریر شہر مشاورت میں مدنی انعامات کا ذمہ دار ہوں اور مدنی کام کرنے کے لئے کوشاں ہوں ۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !          صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(13) علما کا حق نہ پہچاننے والا میری امت سے نہیں

        رسولِ اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صَلَّی  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمان ہے :  لَیْسَ مِنْ اُ مَّتِیْ مَنْ لَمْ یُجِلَّ کَبِیْرَنَا وَیَرْحَمْ صَغِیْرَنَا وَیَعْرِفْ لِعَالِمِنَا حَقَّہیعنی جو ہمارے بڑوں کا حق نہ پہچا نے ، ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کر ے اورہمارے علما کا حق نہ پہچانے(یعنی ان کا احترام نہ کرے)وہ میری امت سے نہیں ۔ (مسند احمد، مسند الانصار، ۸/ ۴۱۲، حدیث : ۲۲۸۱۹)

        تین شخص ایسے ہیں جن کے حقوق کومنافق ہی ہلکا جانے گا

         مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیت صَلَّی  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : تین شخص ایسے ہیں جن کے حقوق کومنافق ہی ہلکا جانے گا : (۱)جسے اسلام میں بڑھاپا آیا (۲)عالمِ دین اور (۳)انصاف پسند بادشاہ۔(المعجم الکبیر، ۸/ ۲۰۲، حدیث : ۷۸۱۹)

 بادشاہی تو اِسے کہتے ہیں (حکایت)

        خلیفہ ہارون رشید اپنے لشکر کے ساتھ شہر رِقَّہ میں پڑاؤ کئے ہوئے تھا، حضرت سیِّدُنا عبدُ اللّٰہ بن مبارک رَحْمَۃُ  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کا وہاں سے گزر ہوا تو اس قدر ہجوم ہوا کہ لوگوں کی جوتیاں ٹوٹنے لگیں اور اُفق غبار آلود ہو گیا، خلیفہ کی ایک کنیز محل کے بُرج سے یہ عظیم الشان منظر دیکھ رہی تھی ، حیرانی کے عالم میں پوچھنے لگی :  یہ کیا ہوا ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ خراسان شہر کے عالم حضرت سیِّدُنا عبدُ اللّٰہ بن مبارک رَحْمَۃُ  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ رِقَّہ تشریف لائے ہیں اوریہ تمام افراد ا ُن کے استقبال کے لئے جمع ہوئے ہیں ، یہ سن کر وہ کنیز بے ساختہ پکار اٹھی :  اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ   کی قسم! بادشاہی تواسے کہتے ہیں ، ہارون کی حکومت کیا ہے اس کے لئے تو لوگ حکومتی کارندوں کے دباؤ میں آ کر جمع ہوتے ہیں ۔(تاریخ بغداد، ۱۰/ ۱۵۵)

 شُرَفا کی عزت اوراہلِ علم کی تعظیم وتوقیر کرنا

         کروڑوں حنفیوں کے عظیم پیشوا، سِراجُ الْاُمّۃ، کاشِفُ الغُمَّۃ، امامِ اعظم، فَقیہِ اَفْخَم حضرت سیِّدُنا امام ابو حنیفہ نعمان بن ثابت رَضِیَ  اللہ تَعَالٰی عَنْہُ اپنے شاگردِ رشید امام ابو یوسف رَحْمَۃُ  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کو وصیت کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں : تم ہر شخص کو اس کے مرتبے کے لحاظ سے عزت دینا، شُرَفاء کی عزت اوراہلِ علم کی تعظیم وتوقیر کرنا ، بڑوں کاادب واحترام اور چھوٹوں سے پیارومحبت کرنا، عام لوگو ں سے تعلق قائم کرنا، فاسق وفاجر کو ذلیل ورُسوا نہ کرنا، اچھے لوگوں کی صحبت اختیار کرنا، سلطان کی اِہانت کرنے سے بچنا، کسی کوبھی حقیر نہ سمجھنا، اپنے اخلاق و عادات میں کوتاہی نہ کرنا، کسی پر اپنا راز ظاہر نہ کرنا، بغیر آزمائے کسی کی صحبت پر بھروسہ نہ کرنا، کسی ذلیل وگھٹیاشخص کی تعریف نہ کرنااورکسی ایسی چیزسے محبت نہ کرنا جوتمہارے ظاہری حال کے خلاف ہو۔

( امام اعظم کی وصیتیں ،



Total Pages: 26

Go To