Book Name:Wo Hum Main Say Nahi

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !  صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(9)جو ہم پر تلوار اٹھائے وہ ہم سے نہیں

        سرکارِ دو عالم، نُورِ مجَسَّم  صَلَّی  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ عبرت نشان ہیمَنْ سَلَّ عَلَیْنَا السَّیْفَ فَلَیْسَ مِنَّا یعنی جو ہم پر تلوار سونتے وہ ہم سے نہیں ۔

 (مسلم، کتاب الایمان، باب قول النبی من حمل علینا السلاح، ص۶۵، حدیث : ۹۹)   

            مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحَنّان اس حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں : جو شخص کسی مسلمان پرتلوار سونت لے اگر چہ اس کے قتل کا اِرادہ نہ بھی کرے تب بھی مسلمانوں کی جماعت (یعنی طریقے)سے خارج ہے کیونکہ اس نے مسلمانوں کا سا کام نہ کیا، مسلمان پر ظلماً ہتھیار اٹھانا بھی حرام ہے۔ ( مراٰۃ المناجیح، ۵/ ۲۵۴)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !        صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(10)جو برائی سے منع نہ کرے وہ ہم سے نہیں

        رسولِ بے مثال، بی بی آمِنہ کے لال صَلَّی  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمان ِعالیشان ہے : لَیْسَ مِنَّا مَنْ لَّمْ یَرْحَمْ صَغِیْرَنَا وَیُوَقِّرْکَبِیْرَنَا وَیَأْمُرْ بِالْمَعْرُوْفِ وَیَنْہَ عَنِ الْمُنْکَریعنی جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے ، ہمارے بڑوں کی تعظیم نہ کرے ، اچھی باتوں کا حکم نہ کرے اور بری باتوں سے منع نہ کرے وہ ہم سے نہیں ۔(ترمذی، کتاب البروالصلۃ، باب ما جاء فی رحمۃ الصبیان، ۳/ ۳۶۹، حدیث :  ۱۹۲۸)

        مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحَنّان حدیث ِپاک کے اِس حصے (جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے ، ہمارے بڑوں کی تعظیم نہ کرے )کے تحت فرماتے ہیں :  یعنی اپنے سے چھوٹوں پر رحم نہ کرے، اپنے سے بڑوں کا ادب نہ کرے، چھوٹائی بڑائی خواہ عمر کی ہو خواہ علم کی خواہ درجہ کی !یہ فرمان بہت عام ہے۔خیال رہے صَغِیْرَنَا  اورکَبِیْرَنَا فرماکر یہ بتایا کہ چھوٹے بڑے مسلمانوں کا ادب ان پر رحم (کرنا)چاہیے یہ قید بھی زیادتی اہتمام کے لئے ہے ورنہ کافر ماں باپ کا بھی مادری ادب ، کافر چھوٹے بھائی پر بھی قرابت داری کا رحم چاہیے جیساکہ فقہاء کے فرامین اور دوسری روایات سے معلوم ہوتا ہے یوں ہی ان کے حقوقِ قرابت ادا کرے۔(اشعہ)

        مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحَنّان حدیثِ پاک کے اس حصے (اچھی باتوں کا حکم نہ کرے اور بری باتوں سے منع نہ کرے ) کے تحت فرماتے ہیں : ہرشخص اپنی طاقت اور اپنے علم کے مطابق دینی احکام لوگوں میں جاری کرے یہ صرف علما کا ہی فرض نہیں سب پر لازم ہے۔حاکم ہاتھ سے برائیاں روکے، عالم عام زبانی تبلیغ سے یہ فرض انجام دیں فی زمانہ اس سے بہت غفلت ہے۔ (مراٰ ۃ المناجیح ، ۶/  ۵۶۰)

بددعا کے بجائے دعا فرمائی(حکایت )

        حضرت سیِّدُنا ابراہیم اَطَرُوش رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہکا بیان ہے کہ حضرت سیِّدُنا معروف کرخیعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِ الْقَوِی ایک دن بغداد شریف میں دریائے دجلہ کے کنارے تشریف فرما تھے کہ ایک کشتی میں سوار چند نوجوان ہمارے پاس سے گزرے جو گانے بجانے اور شراب نوشی میں مصرو ف تھے۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے ساتھ موجود حضرات نے عرض کی : کیا آپ نہیں دیکھتے کہ یہ لوگ کھلے عام اللّٰہ  عَزَّ وَجَلَّ  کی نافرمانی میں مشغول ہیں ، ان کے لئے بددعا فرمائیے۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے آسمان کی طرف ہاتھ بلند فرمائے اور بارگاہِ خداوندی میں عرض گزار ہوئے : اے میرے مالک ومولی!میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ جس طرح تو نے انہیں دنیا میں خوش رکھا ہے اسی طرح انہیں آخرت میں بھی خوش وخرم رکھنا۔ساتھیوں نے عرض کی : ہم نے تو آپ سے ان کے لئے بددعا کرنے کی گزارش کی تھی نہ کہ دعا کرنے کی۔ارشاد فرمایا : اللّٰہ    عَزَّوَجَلَّ    اگر انہیں آخرت میں خوش رکھنا چاہے گا تو دنیا میں توبہ کی توفیق مرحمت فرمائے گا اور اس میں تمہارا کوئی نقصان نہیں ہے۔(احیاء علوم الدین، کتاب الخوف والرجاء، بیان فضیلۃ الرجاء، ۴/ ۱۹۰)

میں اور تم قیامت میں یوں آئیں گے

        رسولِ اکرم ، نُورِ مُجَسَّمصَلَّی  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے حضرت ِسیدنا اَنَس رضی  اللہ تعالی عنہ سے اِرشاد فرمایا : بڑوں کی عزت کرو ، چھوٹوں پر رحم کرومیں اور تم قیامت میں یوں آئیں گے۔رسولِ اکرم ، نُورِ مُجَسَّمصَلَّی  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اپنی انگلیوں کو ایک ساتھ ملایا۔(المطالب العالیہ، کتاب الرقاق، باب الوصایا النافعۃ، ۷/ ۵۷۰حدیث : ۳۱۴۳)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !      صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(11)لوگوں کا مال لوٹنے والا ہم سے نہیں

        سرکارِنامدار، مدینے کے تاجدار صَلَّی  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمان ہے : مَنِ انْتَہَبَ نُہْبَۃً مَشْہُوْرَۃً فَلَیْسَ مِنَّایعنی جو سر عام لوٹ مچائے وہ ہم سے نہیں ۔

 (ابو داؤد، کتاب الحدود، باب القطع فی الخلسۃ، ۴/ ۱۸۴، حدیث : ۴۳۹۱)

         مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحَنّان حدیث ِپاک کے اس حصے’’جو سر عام لوٹ مچائے‘‘ کے تحت فرماتے ہیں :  یعنی جو ظالم کھلے بندوں لوگوں کا مال چھین لے اور لوگ منہ تکتے رہ جائیں ایسا ظالم ہمارے طریقہ ہماری جماعت سے خارج ہے، اسلام سے نکل جانا مراد نہیں کہ یہ جرم فسادِ عمل ہے فسادِ عقیدہ نہیں ۔خیال رہے کہ ڈاکو کے ہاتھ نہ کٹیں گے بلکہ ڈکیتی کی سزائیں مختلف ہیں بعض صورتوں میں اس کو سولی دی جائے گی۔(مراٰۃ المناجیح ، ۵/  ۳۰۵)

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مسلمان تو مسلمان !اسلام میں کسی غیر مسلم کا مال بھی زبر دستی لینے کی اجازت نہیں ہے، چنانچہاعلیٰ حضرت ، مجدِّدِ دین وملت شاہ امام احمد رضاخان  علیہ رحمۃ الرحمن سے ’’فتاوی رضویہ شریف‘‘ میں ایک سوال ہوا : کیا فرماتے ہیں علمائے دین ا س مسئلہ میں کہ  ہندو کامال مسلمان زبردستی کھاسکتا ہے یانہیں ؟تو جواب دیا : زبردستی مال کھانے والے ایک دن بڑا گھر (قیدخانہ)دیکھتے ہیں ۔ واللّٰہ تعالٰی اعلم۔(فتاوی رضویہ ، ۱۹/ ۶۸۷)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !          صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

 



Total Pages: 26

Go To