Book Name:Wo Hum Main Say Nahi

!کبھی کبھی تو سوئیوں والا ماش کے آٹے کا پُتلا اور تعویذ وغیرہ بھی گھر سے برآمد ہو جاتا ہے ۔ اورپھرلوگ ایسے’’بابا جی‘‘پر اندھا بھروسہ کر لیتے ہیں اور خاندان بھر میں غیبت وبہتان تراشی کا بد ترین سلسلہ چل نکلتا اورنتیجتاً ہرا بھر ا لہلہاتا خاندان تاخت وتاراج ہو کر رہ جاتا ہے ۔ یاد رکھئے !بِلاثُبُوتِ شَرعی صرف عامِلوں اور باباؤں کے کہنے پر اگر آپ نے کسی سے کہا : مَثَلاً ہماری بھابھی جادو کرواتی ہے تو یہ بُہتان ، گناہِ کبیرہ ، حرام اور جہنَّم میں لیجانے والا کام ہوا اور اگر کسی نے چھپ کر واقِعی جادو کروا بھی دیا ہواور آپ کو یقینی طور پر پتا چل گیاہو تب بھی اُس مخصوص فرد کا جادو کے حوالے سے بِلامَصلَحتِ شرعی کسی سے تذکِرہ کرنا غیبت ہے۔خیال رہے!عاملوں یا باباؤں کابتانا شرعی ثُبُوت نہیں کہلاتا۔(غیبت کی تباہ کاریاں ، ص۲۲۵)   

جادو سے حفاظت کے تین مدنی پھول

(۱)  سورۂ فلق اور سورۂ ناس کی تلاوت(حکایت )

        حضرت سیِّدُنا عقبہ ابن عامررَضِیَ  اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ :  میں رسولُاللّٰہصَلَّی  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ساتھجُحْفَۃ اوراَبْواء کے درمیان سفر کر رہا تھاکہ اچانک ہمیں آندھی اور سخت تاریکی نے گھیر لیا تو آپ صَلَّی  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ’’ سورۃُ الْفَلَقْ‘‘ا ور’’سورۃُ النَّاسْ‘‘کے ذریعے پناہ مانگی اور فرمانے لگے :  اے عقبہ! ا ن دونوں سورتوں کے ساتھ پناہ مانگا کرو کہ کسی نے ان دونوں کے ساتھ پناہ مانگنے والے کی طرح پناہ نہیں مانگی ۔ (ابوداوٗد، کتاب الوتر، باب فی المعوذتین، ۲/ ۱۰۴، حدیث : ۱۴۶۳)

        مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحَنّان اس حدیث ِپاک کے تحت فرماتے ہیں :  اس سے معلوم ہوا کہ یہ دونوں سورتیں صرف جادو کے لئے ہی نہیں بلکہ دوسری آفتوں میں بھی کام آتی ہیں اگر ان کا تعویذ لکھ کر ساتھ رکھا جائے تو بھی اَمان ملتی ہے قرآنی آیات سے تعویذ جائز ہے۔( مراٰۃ المناجیح، ۳/ ۲۵۲)

(۲)  روزانہ عجوہ کھجور کھانے والا جادو سے محفوظ رہے

         فرمانِ مصطَفٰے صَلَّی  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہے : جو کوئی صُبْح سَویْرے سات عَجْوَہ چھوہارے کھائے تو اسے اس دن زہر اور جادو نقصان نہ دے گا ۔

( بخاری، کتاب الاطعمہ، باب العجوۃ، ۳/ ۵۴۰، حدیث : ۵۴۴۵)

          مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحَنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں : عَجْوَہمدینہ منورہ کے اعلیٰ قسم کے چھوہارے ہیں ۔ ان کا رنگ سیاہ ہوتا ہے ان پر کچھ دھاریاں قدرتی ہوتی ہیں ۔ عَوَالِی مَدِیْنہ میں ایک باغ ہے۔ جس میں عَجْوَہکے دو درخت ایسے ہیں جنہیں حضور صَلَّی  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اپنے دستِ اَقدس سے لگایا، اب کچھ کم پھل دیتے ہیں فقیر نے ان درختوں کو بوسہ دیا ہے اور اس کے پھل کے11 دانے اپنے ساتھ لایا تھا۔ اس کا ایک دانہ ایک ریال کا ملتا ہے ، واقعیعَجْوَہ کھجور میں یہ تاثیر ہے مگر عَجْوَہمدینہ منورہ کا ہو ۔

 ( مرقات)(مراٰۃ المناجیح ، ۶/ ۲۳)

(۳)سال بھر جادو سے حِفاظت

مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحَنّان فرماتے ہیں : اگر اس رات(یعنی شبِ براء َت)کوسات پتے بَیری (یعنی بَیر کے دَرخت)کے پانی میں جوش د ے کر (جب پانی نہانے کے قابل ہو جا ئے تو)غُسل کرے تو اِنْ شَآءَ اللّٰہُ الْعَزِیز تمام سا ل جادو کے اثر سے محفوظ رہے گا۔  (اسلامی زندگی، ص۱۳۵)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !  صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

جادو ٹونہ کروانے کا الزام

         شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت بانی ٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطارؔ قادری دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ ’’پردے کے بارے میں سوال جواب ‘‘  میں بصورت سوال جواب تحریر فرماتے ہیں :

ٍسُوال : آج کل عامِل کی باتوں میں آ کر رشتے دار ایک دوسرے کے بارے میں جادو کابُہتان رکھ دیتے ہیں یہ کیسا ہے؟

جواب : کسی مسلمان پر بُہتان رکھنا حرام اور جہنَّم میں لے جانے والا کام ہے۔ عامِل کے بتانے یا خواب یا فال یااِستخارے کے ذَرِیعے پتا چلنے کو شَرعی ثُبُوت نہیں کہتے کہ جس کو بنیاد بنا کر کسی مسلمان کی طرف ان گناہوں کو منسوب کیاجا سکے۔یہاں شرعی ثُبوت یہ ہے کہ یا تو ملزَم خود اِقرار کرلے کہ میں نے جادو کیا یا کروایا ہے، یا دو مسلمان مرد یا ایک مسلمان مرد اور دو مسلمان عورَتیں گواہی دیں کہ ہم نے اِس کو خود جادو کرتے یا کرواتے دیکھا ہے۔(پردے کے بارے میں سوال جواب، ص۳۹۱)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !  صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(8)مسلمان کو دھوکا دینے والا ہم سے نہیں

        اللّٰہ کے محبوب، دانائے غیوب، منزّہٌ عنِ العُیُوبصَلَّی  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا :  مَنْ غَشَّنَا فَلَیْسَ مِنَّایعنی جس نے ہمارے ساتھ دھوکا کیا وہ ہم سے نہیں ۔

(مسلم، کتاب الایمان، باب قول النبی ۔۔۔الخ، ص۶۵، حدیث :  ۱۰۱)

        مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحَنّان فرماتے ہیں : غَشَّنَا میں ضمیرِ متکلِّم سے مراد سارے مسلمان ہیں یا اہلِ عرب یا اہلِ مدینہ یعنی جس نے مسلمانوں کو یا اہلِ عرب کو اہلِ مدینہ کو دھوکہ دیا وہ ہماری جماعت سے نہیں ۔(مراٰۃ المناجیح ، ۵/  ۲۵۴)

دھوکا کسے کہتے ہیں ؟

        حضرت علامہ عبدالرء ُو ف مَناویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ  اللہ القَوِی  ’’فَیضُ الْقَدِیر شرح جامع الصغیر‘‘ میں لکھتے ہیں : اَلْغِشُّ سَتْرُ حَالِ الشَّیْئِیعنی کسی چیز کی(اصلی) حالت کو پوشیدہ رکھنا دھوکا ہے۔(فیض القدیر، ۶/ ۲۴۰، تحت الحدیث : ۸۸۷۹) تیسری صدی ہجری کے جلیل القدر محدث، فقیہ اور کثیر کتابوں کے مصنف حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن اسحٰق بغداد



Total Pages: 26

Go To