Book Name:Qoot ul Quloob Jild 2

پہلے اسے پڑھئے

اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی کا شُمار ان ذی قدر اوّلین اَصحابِ تَصَوُّف میں ہوتا ہے جنہوں نے مَعْرِفَتِ باری تعالیٰ کے اَنمول موتیوں کو صفحاتِ قِرطاس پر بکھیر دیا تاکہ رہتی دنیا تک ان اَنمول موتیوں کی قدر کرنے والے اَصحابِ نظر رب اکبر عَزَّ  وَجَلَّکے قُرب سے سرشار ہوں۔ زیرِ نظر کتاب یعنی قُوْتُ الْقُلُوب میں موجود ایسے ہی نایاب موتیوں کی چمک دمک صدیوں سے اَصحابِ نظر کو بھاتی اور وَرطۂ حیرت میں ڈالتی آرہی ہے، مگر یاد رکھئے! موتی ہمیشہ گہرے سمندر میں غوطہ لگانے والوں کو ہی ملتے ہیں اور ساحِل پر کھڑے ہو کر ڈوبتے سورج کے پر لطف نظاروں میں کھوجانے والے محروم رہتے ہیں۔ چنانچہ پندرھویں صدی کی عظیم علمی و رُوحانی شخصیت، شیخِ طریقت، امِیرِ اہلسنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطّار قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی خواہش و فیضانِ نظر سے اس کتاب کا ترجمہ تبلیغِ قرآن و سنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کی مجلس المدینۃ العلمیہ میں شروع ہوا۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ  وَجَلَّ! اس ترجمہ کی دوسری جلد آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ اس جلد میں آپ پڑھیں گے:

٭۔۔۔۔۔ اِسلام میں سب سے پہلے کون سی قولی و فعلی بدعتیں پیدا ہوئیں؟

٭۔۔۔۔۔ بِدْعَتوں کی روک تھام کے لیے اَسلاف کے اَقدامات

٭۔۔۔۔۔ عِلْمِ ایمان و یقین کی تمام عُلُوم پر فضیلت      ٭۔۔۔۔۔ آثار و اَخبار کے نقل کرنے کی فضیلت

٭۔۔۔۔۔ توبہ کے فرائض، فضائل اور تائبین کے اَوصاف کا بیان

٭۔۔۔ مَقامِ صَبْر کی شرح اور صابِرین کے اَوصاف     ٭۔۔۔ مَقامِ شکر کی شرح اور شاکِرین کے اَوصاف

٭۔۔۔۔ مَقامِ رجا کی شرح اور اہلِ رجا کے اَوصاف     ٭۔۔۔ مَقامِ خوف کی شرح اور خائفین کے اَوصاف

٭۔۔۔۔ سَلْبِ ایمان کے مُتَعَلِّق اَسلاف کے اَقوال     ٭۔۔۔۔ مَقامِ زہدکی شرح اور زاہدین کے اَحْوَال

٭۔۔۔۔۔ زُہْد کی حقیقت،زہد کے اَحْکام کی تفصیل اور و زاہدکے اَوصاف کا بیان

 

٭۔۔۔۔۔ مَقامِ تَوَکُّل کی شرح اور مُتَوَکِّلِین کے اَحْوَال و اَوصاف

٭۔۔۔ مَقاماتِ تَوَکُّل                  ٭۔۔۔ اَسباب و اَوَاسِط کابیان       ٭۔۔۔۔۔ کسب و مَعاش کا تذکرہ

٭۔۔۔۔۔ مُتَوکِّل کے لیے عِلاج کرنے اور نہ کرنے کا بیان

اَلْمَدِیْنَۃُ الْعِلْمِیَہسے ہر عربی کِتاب کا ترجمہ کم وبیش16مراحل  سے گزر تا ہے ، جن میں ترجمہ، تقابل،نظرثانی،تقابلِ آیات وترجمہ،فارمیٹنگ،پروف ریڈنگ،تخریج،تفتیش تخریج،مُفید وناگزیر حواشی، آیاتِ قرآنیہ کی پیسٹنگ، شَرْعی تفتیش ، مُشکِل اَلفاظ کی تسہیل واِعراب اور فائنل پروف ریڈنگ وغیرہ ایسے کٹھن اور جاں سوز مَراحِل شامِل ہیں،پیشِ نَظَر ترجمہ کوآپ تک پہنچانےکے لئے شعبہ تَراجِمِ کُتُب(عربی سے اُردو) اور اَلْمَدِیْنَۃُ الْعِلْمِیَہکے جن مَدَنی عُلَمائے کرام نے مذکورہ  مراحِل طے کرنے کے لئے مُسَلْسَل کوششیں اور کاوِشیں کی ہیں ان کے اَسمائے گرامی یہ ہیں:ابرار اخترالقادری،محمدگل فرازعطاری اَلمدنی،فاروق احمدعطاری اَلمدنی سَلَّمَہُمُ الْغَنِی۔نیزاس کِتاب کی شرعی تفتیش دارُالافتا کے نائب مفتی محمد حسان رضا عطاری المدنی اور سینئر متخصص ابو مصطفی محمد ماجِد رضا عطاری المدنی زِیْدَعِلْمُہُما نے فرمائی۔

اللہ عَزَّ  وَجَلَّکی بارگاہ میں دعا ہے کہ ہمیں اس کتاب کو پڑھنے،اس پر عمل کرنے اور دوسرے اسلامی بھائیوں بالخصوص مفتیانِ عِظام اور عُلَمائے کِرام کی خدمتوں میں تحفۃً پیش کرنے کی سعادت عطا فرمائے اور ہمیں اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اِصلاح کی کوشش کرنے کے لئے مَدَنی اِنعامات پر عمل اور مَدَنی قافلوں میں سَفَر کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور دعوتِ اسلامی کی تمام مَجالِس بَشمول مجلس اَلْمَدِیْنَۃُ الْعِلْمِیَہ کو دن دونی  اور رات چوگُنی ترقی عطا فرمائے۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

شعبہ تراجم کتب(مَجْلِس اَلْمَدِیْنَۃُ الْعِلْمِیَہ)

 

قولی و فِعْلی بِدْعَات

پہلی بدعت

پہلے زمانے میں لوگ جب آپَس میں مِلتے تو ایک دوسرے سے پوچھتے: کیا حال چال ہیں؟ اس سے مُراد یہ پوچھنا ہوتا کہ ”مُجاہدہ و صَبر میں اپنے نَفس کے مُتَعَلّق اور ایمان و عِلْمِ یقین کی زیادتی میں دل کی حالت کے مُتَعَلّق کچھ بتائیے؟“ بسا اَوقات وہ یہ مُراد لیتے کہ ”پَروَرْدگار عَزَّ  وَجَلَّ سے اپنے مُعامَلہ کی خبر دیجئے؟“ اور یہ بھی بتائیے کہ”دنیا و آخِرَت کے اُمُور کی اَنْجام دَہی میں آپ کی حالَت کیسی ہے؟ ان میں زِیادَتی ہوئی یا کمی؟“اس طرح وہ اپنے دِلوں کے اَحْوَال کا تذکرہ کرتے، اپنے عُلوم پر عَمَل کی کیفیات بیان کرتے اور اس بات کا بھی ذکرِ خیر کرتے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ   نے انہیں حُسْنِ مُعامَلہ کی دَولَت عطا فرمائی اور ان کے لیے کیسے کیسے مَفاہیم عَیاں (ظاہِر)کئے۔ اس سے ان کا مقصود مَحض اِنعاماتِ باری تعالیٰ کو شُمار کرنا اور اس پر شکر بجا لانا ہوتا تاکہ ان کا یہ عَمَل ان کے لیے مَعْرِفَت و حُسْنِ مُعامَلہ میں زِیادَتی کا سَبَب بن جائے۔

 



Total Pages: 267

Go To