Book Name:Aarabi kay Sawalat aur Arabi Aaqa kay jawabat

ئی  بھا ئی  کے ساتھ ٹکرا رہا ہے، آج مسلمان کی عزّت وآبرواوراُس کے جان ومال مسلمان ہی کے ہاتھوں  پامال ہوتے نظر آرہے ہیں ۔ اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ   ہمیں  نفرتیں  مٹانے اور مَحَبَّتیں  بڑھانے کی توفیق عطا فرما ئے  ۔  

اٰمِیْن بِجَاہِ النبی الامینصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   

’’رضا‘‘کے تین حروف کی نسبت سے3 حکایات

حکایت:12

(۱)  ہرگٹھلی کے عوض ایک درہم

        حضرت سیِّدُناعبد اللّٰہ بن مبار ک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ   عمدہ کھجوریں  اپنے بھائیو ں  کو کھانے کے  لئے پیش کرتے اور فرماتے :  جو زیادہ کھا ئے  گا میں  اسے ہرگُٹھلی کے بدلے ایک درہم دوں  گا ، پھر گُٹھلیاں  گنتے اور جس نے زیادہ کھا ئی  ہوتیں  اسے ہر گُٹھلی کے بدلے ایک درہم دیتے ۔ (احیاء علوم الدین، کتاب آداب الاکل، الباب الثانی، ۲/ ۱۰)

اللّٰہ   عَزَّوَجَلَّ     کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !             صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

حکایت:13

(۲)  پڑوس کے چالیس گھروں  پر خرچ کیا کرتے

        حضرت سیدنا عبدُاللّٰہ بن ابی بکر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اپنے پڑوس کے گھروں  میں  سے دا  ئیں با  ئیں اور آگے پیچھے کے چالیس چالیس گھروں  کے لوگوں  پر خرچ کیا کرتے تھے، عید کے موقع پر انہیں  قربانی کا گوشت اور کپڑے بھیجتے اور ہر عید پر 100 غلام آزاد کیا کرتے تھے۔(المستطرف، ۱/ ۲۷۶)

اللّٰہ   عَزَّوَجَلَّ     کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !           صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

حکایت:14

(۳30ہزار نفع واپس لوٹا دیا

        ایک تابِعی بُزُرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ   بصرہ میں  رہتے تھے جبکہ ان کا ایک غلام ’’سُوْس‘‘ میں  رہا کرتا تھا ، آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ   شکر خرید کر اُس کی طرف بھیجا کرتے تھے ۔ ایک مرتبہ اُس غلام نے آپ کی طرف خط لکھا کہ اس سال گنے کی فصل کو نقصان پہنچا ہے ، چنانچہ انہوں  نے بہت سی شکر خرید لی ۔ پھر وقت آنے پر ان بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  کو30ہزار کا نفع ہوا ۔ جب وہ اپنے گھر واپس ہو ئے  تو ساری رات سوچتے رہے اور فرمایا :  میں  نے30ہزار کا نفع تو حاصل کر لیا ہے لیکن ایک مسلمان کی خیر خواہی کو ترک کر دیا ۔ چنانچہ ، جب صبح ہو ئی  توشکر بیچنے والے کے پاس  گئےاور اسے نفع کے30ہزار واپس دیتے ہو ئے  کہا :  ’’بَارَکَ اللّٰہُ لَکَ فِیْہَا‘‘ یعنی اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ   تمہیں  اس میں  برکت عطا فرما ئے  ۔ اس نے کہا :  یہ میرے کہاں  سے ہو گ ئے ؟ فرمایا :  میں  نے تم سے حقیقت حال چھپا ئی  تھی ۔ اس نے عرض کی :  ’’رَحِمَکَ اللّٰہُ ‘‘ یعنی اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ   آپ پر رحم فرما ئے  ! مگر اب توآپ نے مجھے بتا دیا ہے، لہٰذا میں  نے یہ اپنی خوشی سے آپ کو دی ئے  ۔ چنانچہ ، وہ بزرگ نفع لے کر دوبارہ گھرلوٹ آ ئے  اور پھرپوری رات سوچتے ہو ئے  گزار دی اوردل میں  سوچا :  میں  نے مسلمان بھا ئی  کے ساتھ خیر خواہی نہیں  کی ، ہو سکتا ہے کہ اس نے مجھ سے حیا کرتے ہو ئے  یہ نفع مجھے دے دیا ہو ۔ لہٰذا اگلے دن صبح سویرے پھر شکر بیچنے والے کے پاس  گئےاورفرمایا :  ’’عَافَکَ اللّٰہُ‘‘ یعنی اللّٰہ   عَزَّوَجَلَّ     تمہیں  عافیت عطا فرما ئے  ! تم اپنا مال لے لو اسی میں  میری دلی خوشی ہے ، چنانچہ اس نے 30ہزار لے  لئے ۔ (احیاء علوم الدین، کتاب آداب الکسب، الباب الثالث، ۲/ ۱۰۱)

اللّٰہ   عَزَّوَجَلَّ     کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !             صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(5) دوسروں  کے  لئے بھی وہی پسند کرو

        اَعرابی کاپانچواں  سوال یہ تھاکہ میں  چاہتا ہوں  کہ سب سے زیادہ عدل کرنے والا بن جاؤں ۔  خاتَمُ الْمُرْسَلین، رَحمَۃٌ لِّلْعٰلمین  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا : جو اپنے لیے پسند کرتے ہو وہی دوسروں  کی لئے بھی پسند کرو، سب سے زیادہ عادل بن جا ؤگے۔

کامل مومن کی ایک نشانی

        فرمانِ مصطفی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  ہے : بندہ اس وقت تک مومن (یعنی کامل مومن [1]؎ )نہیں  ہوسکتا جب تک کہ وہ اپنے بھا ئی  کے  لئے وہ چیز پسند نہ کرے جو اپنے  لئے پسند کرتا ہے ۔

(شعب الایمان، باب فی الزکاۃ، فصل فیما جاء فی الایثار، ۳/ ۲۶۱، حدیث  : ۳۴۸۵)

   

 



      فیض القدیر، ۶/  ۵۷۲، تحت الحدیث   : ۹۹۴۰[1]



Total Pages: 32

Go To