Book Name:Aarabi kay Sawalat aur Arabi Aaqa kay jawabat

        خوش نصیب وہ ہے جو اپنے نصیب پر خوش ہے ، امام ابوالحسن شاذلی(عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی ) فرماتے ہیں  کہ دو چیزوں  سے مایوس ہوجاؤآرام سے رہو گے : ایک یہ کہ تم کو دوسروں  کے نصیب کی چیز مل جا ئے  گی، دوسرے یہ کہ تمہیں  تمہارے نصیب سے زیادہ مل جا ئے  گا۔(مراۃ المناجیح ، ۷/ ۱۳)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !   صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد   

’’پنجتن پاک‘‘ کی نسبت سے 5 حکایات

حکایت:7

(۱)  قَناعت کرلیتا ہوں

        بَنُو اُمَیّہ کے ایک حاکم نے حضرتِ سیِّدُنا ابو حازِم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  کی طرف خط لکھا جس میں  ان سے کسی ضَرورت کے متعلِّق پوچھا گیاتاکہ وہ اسے پوری کردیں ۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  نے جواب میں  لکھا، میں  نے اپنی ضَرورتیں  اپنے  مالک   عَزَّوَجَلَّ   کی بارگاہ میں  پیش کی ہو ئی  ہیں  جن کو وہ پورا کردیتا ہے، خوش ہوجاتا ہوں  اور جن کو وہ روک دیتا ہے اُس سے قَناعت کرلیتا ہوں ۔

(مکاشفۃ القلوب، ص۱۲۲)

اللّٰہ   عَزَّوَجَلَّ     کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔    اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !          صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

حکایت:8

(۲)  بقدرِ کفایت کماتے

        حضرتِ سیِّدُنا حمّاد بن سَلَمہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  جب اپنی دکان کھولتے اور دو حَبّے (ایک رَتّی یا دو جو کے برابر ایک وزْن) جتنا کما لیتے تو دکان بند کرکے چلے آتے ۔   

 (منہاج القاصدین، کتاب الفقروالزہد، ص۱۲۲۴)

          اسی طرح حضرت سیدنا ابوالقاسم مُنَادِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْھَادِی اپنے گھر سے روزی کمانے کے  لئے نکلتے ، جب ان کے پاس اخراجات کے  لئے رقم جمع ہوجاتی تو مزید کمانے کے  لئے نہ رُکتے بلکہ فوراً گھر واپس آجاتے چاہے کو ئی  بھی وقت ہوتا۔ (اللمع، کتاب آداب المتصوفۃ، فی ذکر آداب من اشتغل۔۔الخ، ص۲۶۰)

اللّٰہ   عَزَّوَجَلَّ     کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !      صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

حکایت:9

(۳)  اگر تم قناعت کرتے تو میرا لوٹا گروی نہ ہوتا

        حضرت سیِّدُنا شقیق  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  بیان کرتے ہیں  کہ میں  اپنے ایک دوست کے ساتھ حضرت سیِّدُنا سلمان فارسی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی زیارت کے  لئے گیا ، انہوں  نے روٹی اور نمک سے ہماری میزبانی کی ۔ میرے دوست نے کہا :  اگر پودینہ بھی ہوتا تو زیادہ اچھا تھا ۔ چنانچہ ، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ باہر  گئےاور اپنا لوٹا گِروی رکھ کر پودینہ لے آ ئے  ۔ جب ہم کھا چکے تو میرے دوست نے کہا :  ’’اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ قَنَّعَنَا بِمَا رَزَقَنَا‘‘ یعنی تمام تعریفیں  اللّٰہ   عَزَّوَجَلَّ     کے  لئے ہیں  جس نے ہمیں  عطا کردہ رِزْق پر قناعت کی توفیق دی ۔ تو حضرت سیِّدُنا سلمان فارسی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  نے فرمایا :  اگر تم موجود رِزْق پر قناعت کرتے تو میرا لوٹا گِروی نہ ہوتا ۔(المستدرک، کتاب الاطعمۃ، باب النہی عن التکلف للضیف، ۵ / ۱۶۹، حدیث  :  ۷۲۲۸)

اللّٰہ   عَزَّوَجَلَّ     کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

             صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !      صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد   

حکایت:10

(۴)  ایک روٹی پر گزارہ

        منقول ہے کہ حضرت سیِّدُناابراہیم بن اَدْہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم خُراسان کے مال دار لوگوں  میں  سے تھے ۔ ایک دن آپ اپنے محل سے باہردیکھ رہے تھے کہ ایک شخص پر نظر پڑی جس کے ہاتھ میں  روٹی کا ایک ٹکڑا تھا جسے وہ کھارہا تھا ، کھانے کے بعد وہ سوگیا ۔ آپ  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  نے ایک غلام سے فرمایا :  جب یہ شخص بیدار ہو تو اسے میرے پاس لانا ۔ چنانچہ اس کے بیدار ہونے پر غلام اسے آپ کے پاس لے آیا ۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  نے اس سے فرمایا :  کیا روٹی کھاتے وقت تم بھوکے تھے ؟ اس نے عرض کی :  جی ہاں  ، پوچھا :  کیا اس روٹی سے تم سیر ہو گئے؟ عرض کی :  جی ہاں  ، آپ نے پھر سوال کیا :  روٹی کھانے کے بعدتمہیں  اچھی طرح نیند آ ئی  ؟ عرض کی :  جی ہاں  ، اس کی یہ باتیں  سن کر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  نے سوچا :  جب ایک روٹی سے بھی گزارہ ہوسکتا ہے تو پھر میں  اتنی دنیالے کر کیا کروں  گا؟ (احیاء علوم الدین، کتاب الفقر والزہد، بیان فضیلۃ خصوص۔۔الخ، ۴ / ۲۴۷)

اللّٰہ   عَزَّوَجَلَّ     کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !          صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

 



Total Pages: 32

Go To