Book Name:Aarabi kay Sawalat aur Arabi Aaqa kay jawabat

(الھند) گیا تھا، میں  نے سُن رکھا تھا کہ بمب ئی  میں  مکانات بہت زیادہ مہنگے ہوتے ہیں ، کسی کے فلیٹ میں  قِیام ہوا، دل میں  خواہش ہوتی تھی کہ پوچھوں  کہ آپ نے فلیٹ کتنے میں  لیا ہے؟ مگر اُن دنوں  مجھے زبان کے قفلِ مدینہ کا کافی شوق تھا، لہٰذا نہ پوچھا کیوں  کہ پوچھنا بے فا ئد ہ تھا، مجھے مکان خریدنا تو تھا نہیں ، خیر، اتّفاق سے صاحبِ خانہ نے خود ہی بتا دیا کہ ہم نے یہ مکان اتنے کروڑ میں  لیا ہے۔ یوں  قفلِ مدینہ کا بھرم بھی رہ گیا اور دل کا بوجھ بھی اتر گیا۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !              صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(2) خوفِ خدا کی اہمیت

        اَعرابی کا دوسراسوال تھا کہ میں  سب سے بڑا عالم بننا چاہتا ہوں  ۔رسولِ بے مثال، بی بی آمِنہ کے لال  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا : اللّٰہ سے ڈرو، سب سے بڑے عالِم بن جا ؤگے ۔

علم والے اللّٰہ سے ڈرتے ہیں

 اللّٰہ   عَزَّوَجَلَّ     کاقُرآنِ کریم میں  فرمانِ عالیشان ہے :

اِنَّمَا یَخْشَى اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰٓؤُاؕ    (پ ۲۲ فاطر ۲۸)

ترجَمۂ کنزالایمان :   اللّٰہسے اُس کے بندوں  میں  وہی ڈرتے ہیں  جو عِلم والے ہیں ۔

        حضرت سیدنا امام فخرالدین رازی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْھَادِی لکھتے ہیں  : اس آیت سے معلوم ہوا کہ علما اہلِ خشیت (یعنی اللّٰہ  تَعَالٰی  سے ڈرنے والوں )میں  سے ہیں  اور اہلِ خشیت کی جزا جنت ہے جیسا کہ  اللّٰہ   عَزَّوَجَلَّ    فرماتا ہے :  

جَزَآؤُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًاؕ-رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُؕ-ذٰلِكَ لِمَنْ خَشِیَ رَبَّهٗ۠(۸) (پ۳۰ البینۃ : ۸)

ترجمہ کنز الایمان : ان کا صلہ ان کے رب کے پاس بسنے کے باغ ہیں  جن کے نیچے نہریں  بہیں  ان میں  ہمیشہ ہمیشہ رہیں اللّٰہ ان سے راضی اور وہ اس سے راضی یہ اس کے  لئے ہے جو اپنے رب سے ڈرے

حدیث  میں  بھی آیا کہ  محبوبِ ربِّ ذوالجلال ، صاحبِ جُودونَوالصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   نے ارشاد فرمایا کہ اللّٰہ   عَزَّوَجَلَّ       فرماتا ہے : مجھے اپنی عزت وجلال کی قسم ! میں  اپنے بندے پر دو خوف جمع نہیں  کروں  گا اور نہ اس کے  لئے دو امن جمع کروں  گا ، اگر وہ دنیا میں  مجھ سے بے خوف رہے تو میں  قیامت کے دن اسے خوف میں  مبتلا کروں  گا اور اگر وہ دنیا میں  مجھ سے ڈرتا رہے تو میں  بروزِ قیامت اسے امن میں  رکھوں  گا ۔ (شعب الایمان ۱ / ۴۸۳  حدیث ۷۷۷  )(تفسیر رازی  ، ۱  / ۴۰۶)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                   صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد   

حکمت کی اصل

         سرکارِ عالی وقار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا : ’’ رَأسُ الْحِکْمَۃِ مَخَافَۃُ اللّٰہِ حکمت کی اصل اللّٰہ  تَعَالٰی  کاخوف ہے۔‘‘

(شعب الایمان ، باب فی الخوف من اللہ  تَعَالٰی  ، ۱/ ۴۷۰، حدیث  ۷۴۳ )

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !              صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

خوف کے درجات

        حضرت سَیِّدُنا اِمام محمدبن محمد غزالی علیہ رحمۃ اللّٰہِ الوالی کی تحقیق کی روشنی میں  خوف کے تین درجات ہیں  : (پہلا)ضعیف(یعنی کمزور)، یہ وہ خوف ہے جو انسان کو کسی نیکی کے اپنانے اور گناہ کو چھوڑنے پر آمادہ کرنے کی قوت نہ رکھتا ہومثلاً جہنم کی سزاؤں  کے حالات سن کر محض جھرجھری لے کر رہ جانااور پھرسے غفلت ومعصیت میں  گرفتار ہوجانا (دوسرا) مُعْتَدَل(یعنی متوسط)  ، یہ وہ خوف ہے جو انسان کو کسی نیکی کے اپنانے اور گناہ کو چھوڑنے پر آمادہ کرنے کی قوت رکھتا ہومثلاً عذابِ آخرت کی وعیدوں  کوسن کران سے بچنے کے  لئے عملی کوشش کرنا اور اس کے ساتھ ساتھ رب  تَعَالٰی  سے امید ِ رحمت بھی رکھنا(تیسرا) قوی(یعنی مضبوط)، یہ وہ خوف ہے ، جوانسان کو ناامیدی ، بے ہوشی اور بیماری وغیرہ میں  مبتلاء کردے ۔ مثلاً اللّٰہ  تَعَالٰی  کے عذاب وغیرہ کا سن کر اپنی مغفرت سے نااُمید ہوجانا۔

       میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! ان سب میں  بہتر درجہ’’ معتدل‘‘ ہے کیونکہ خوف ایک ایسے تازیانے (کوڑے)کی مثل ہے جو کسی جانور کو تیز چلانے کے  لئے مارا جاتا ہے ، لہذا!اگر اس تازیانے کی ضَرْب اتنی ’’ضعیف‘‘ ہوکہ جانور کی رفتار میں  ذرّ ہ بھر بھی اضافہ نہ ہو تو اس کا کو ئی  فا ئد ہ نہیں  ، اور اگر یہ ضرب اتنی ’’قوی‘‘ ہو کہ جانور اس کی تاب نہ لاسکے اور اتنا زخمی ہوجا ئے  کہ اس کے  لئے چلنا ہی ممکن نہ رہے تو یہ بھی نفع بخش نہیں  ، اور اگر یہ ’’معتدل‘‘ہو کہ جانور کی رفتار میں  بھی خاطر خواہ اضافہ ہوجا ئے  اور وہ زخمی بھی نہ ہو تو یہ ضرب بے حد مفید ہے ۔

(ماخوذ من احیاء علوم الدین، کتاب الخوف والرجاء، بیان درجات الخوف۔۔الخ ، ۴/ ۱۹۲ )

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !               صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

خوفِ خدا کی علامات

         حضرت سَیِّدُنا فقیہ ابواللیث سمر قندی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْھَادِی ارشاد فرماتے ہیں  کہ اللّٰہ   عَزَّوَجَلَّ     کے خوف کی علامت آٹھ چیزوں  میں  ظاہر ہوتی ہے :

 (1) انسان کی زبان میں  ، وہ اس طرح کہ رب  تَعَالٰی  کا خوف اس کی زبان کو جھوٹ، غیبت، فضول گو ئی  سے روکے گا اور اُسے ذکرُ اللّٰہ ، تلاوتِ قرآن اور علمی گفتگو میں  مشغول رکھے گا ۔

 



Total Pages: 32

Go To