Book Name:Aarabi kay Sawalat aur Arabi Aaqa kay jawabat

(۲۵) دوزخ کی آگ کونسی چیزبجھاتی ہے

        اَعرابی کا پچیسواں  سوال یہ تھا کہ کونسی چیز دوزخ کی آگ کو بجھاتی ہے؟رسولِ بے مثال، بی بی آمِنہ کے لال صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا :  روزہ۔

حکایت:56

موت کے وقت رونے کا سبب

        حضرت سیِّدُنا عامر بن عبد اللّٰہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  کی موت کا وقت قریب آیا تو رونے لگے، جب وجہ دریافت کی    گئی   تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  نے ارشاد فرمایا :   

  اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ   کی قسم ! میں  مزید زندہ رہنے کی خواہش میں  نہیں  رو رہا بلکہ مجھے تو موسمِ گرما کی سخت دوپہر میں  (روزے کی حالت میں ) پیاسا رہنا اور موسمِ سرما میں  راتوں  کا قیام کرنا یاد آ رہا ہے۔        (حلیۃ الاولیاء ، ۲ / ۱۰۴)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !            صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

’’یادِ رَمَضان ‘‘کےآٹھ حُرُوف کی نسبت سے نفل روزوں  کے8مدنی پھول

(۱)فرمانِ مصطفٰے  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   : اگر کسی نے ایک دِن نَفْل روزہ رکھا اور زمین بھر سونا اُسے دیا جا ئے  جب بھی اِس کا ثواب پُورا نہ ہوگا ، اس کا ثواب تو قِیامت ہی کے دِن ملے گا۔ (مُسْنَدُ اَبِیْ یَعْلٰی، ۵/  ۳۵۳، حدیث  : ۶۱۰۴)(اَ لْحَمْدُللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ    دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول کی برکت سے عاشقانِ رسول کی ایک تعداد نفلی روزے رکھنے کی سعادت پاتی ہے ، آسانی اور ترغیب کے  لئے ان کی تنظیمی طور پر درجہ بندی کی  گئی   ہے جو حسبِ ذیل ہے : )

 (۲)عاشقانِ روزہ کی تنظیمی دَرَجہ بندی :  (مُمتاز)جو صَومِ داوٗدی یعنی ایک دن چھوڑ کر ایک دن روزہ رکھے یامہینے میں کم از کم 15 روزے اپنی سَہولت کے مطابِق رکھے یاپانچ ممنوعہ ایّام کے علاوہ سارا سال روزے رکھے (عیدالفطر اور ۱۰ ، ۱۱ ، ۱۲ ، ۱۳ ذوالحِجَّۃِ الحرام کو روزہ رکھنا مکروہِ تحریمی ہے۔(دُرِّ مُخْتار وردالمحتار، ۳/ ۳۹۱)) (بہتر)جو ہرپیر شریف اور جمعرات کا روزہ رکھے(پیر اور جمعرات کا روزہ سُنّت ہے، البتّہ جو اپنی سَہولت کے مطابق مدنی ماہ میں  سات روزے رکھ لے وہ بھی تنظیماً ’’بہتر‘‘ میں  شمار ہو گا) (مناسِب)  جو ہر پیر شریف کویا مجبوری ہو تو ہفتہ وارچُھٹّی والے دن روزہ رکھے (یوں  مہینے میں  چار یا پانچ روزے ہوں  گے ) (۳) نَفْل روزہ قَصْد اً  شروع کرنے سے پورا کرنا واجِب ہوجاتا ہے اگر توڑے گا تو قضا واجِب ہو گی ۔ (دُرِّ مُخْتار، ۳/ ۴۷۳(۴) ملازِم یا مزدور اگر نفل روزہ رکھیں  توکام پُورا نہیں  کر سکتے تو ’’مُسْتَاجِر ‘‘(یعنی جس نے مُلازَمت یا مزدوری پر رکھا ہے اُس) کی اجازت ضَروری ہے اور اگر کام پورا کر سکتے ہیں  تواجازت کی ضَرورت نہیں  ۔ ( ردالمحتار۳/  ۴۷۸)(اگر وقف کے ادارے میں  ملازِم ہیں  اور نَفْل روزہ رکھنے کی صورت میں  کام پورا نہیں  کر سکتے تو کسی کی اجازت کار آمد نہیں  ، ملازَمت کرنے والے بارہا سمجھتے ہیں  کہ روزے کی وجہ سے ان کے کام میں  حَرَج واقِع نہیں  ہورہا حالانکہ بسا اوقات بَہُت زیادہ رُکاوٹ پڑ رہی ہوتی ہے خُصُوصاً عوامی مقامات پر کام کرنے والے ، ہوٹلوں  پر کھانا پکانے والے ، میزوں  پر پہنچانے والے یا مزدور وغیرہا تو ان کا اپنے ذِہن میں  ایک آدھ مرتبہ سمجھ لینا کافی نہیں  کہ کام میں  حَرَج نہیں  ہورہا بلکہ نہایت غور کرلینا ضَروری ہے کہ کہیں  نفل روزے کے شوق میں  اِجارے کے کام میں  سُستی کرکے حرام کما ئی  کمانے کے مرتکب نہ ہوں ۔خُصُوصاً دینی مدارس کے اساتِذہ کو اس مس ئل ے کا خیال رکھنا زیادہ ضَروری ہے کہ انہیں  تو کو ئی  نفل روزوں  میں  رخصت کی اجازت بھی نہیں  دے سکتا) (۵)طالبِ علمِ دین اگر اپنی تعلیم میں  معمولی سا بھی حَرَج دیکھے تو ہرگز نفل روزہ نہ رکھے بلکہ وہ ہفتہ وار چُھٹّی کے دن روزہ رکھ کر’’مناسِب‘‘ کا دَرَجہ حاصل کر سکتا ہے نیزمدنی قافلے کے مسافرین تھوڑی سی بھی کمزوری محسوس کریں  تو نفل روزہ نہ رکھیں  تاکہ حُصولِ علمِ دین اور نیکی کی دعوت کے افضل ترین کا م میں  کمزوری رُکاوٹ نہ بنے (اگر علاوہ ازیں  کارکردگی میں  تَسلسُل ہے تو مدنی قافلے میں  سفر کی وجہ سے رہ جانے والے روزوں  سے تنظیماً دَرَجہ بندی پر اثر نہیں  پڑے گا)(۶) جہاں  بھی نفل روزے کے سبب کسی افضل کام میں  حَرَج واقع ہوتاہو وہاں  روزہ نہ رکھے مَثَلاً اگر کسی اسلامی بھا ئی  کی ذمّے داری اس نوعیت کی ہے جہاں  عوام سے بکثرت واسِطہ پڑتا ہے اور روزہ رکھنے سے اس کے مزاج میں  تُرشی پیدا ہوجاتی ہے تو اگرچِہ کام پورا ہو جاتا ہو لیکن لوگوں  کے ساتھ بداخلاقی سے بچنا نفل روزوں  کے مقابلے میں  زیادہ ضَروری ہے (۷)  ماں  باپ اگر بیٹے کو نَفْل روزے سے اِس  لئے منْع کریں  کہ بیماری کا اندیشہ ہے تو والِدَین کی اطاعت کرے ۔ (رَدُّالْمُحتار، ۳/  ۴۷۸ )

 (۸ )شوہر کی اجازت کے بِغیر بیوی نَفْل روزہ نہیں  رکھ سکتی۔ (دُرِّمُخْتار ، ۳/  ۴۷۷ )

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                 صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

نیکی کی دعوت دینے کا جذبہ ملا

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! نیکیوں  پر اِستقامت پانے کے  لئے دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ رہیے اور اس کے مدنی قافلوں  میں  سفر کو اپنا معمول بنا لیجئے ، آپ کی ترغیب وتحریص کے  لئے ایک مَدَنی بہار پیش کرتا ہوں  : چُنانچِہ  مرکزالاولیا (لاہور )کے ایک اسلامی بھا ئی  کا بیان کچھ یوں ہے کہ میری عمر کے 25 برس گزر چکے تھے مگر میں  علمِ دین سے اس قدر کورا تھا کہ مجھے نماز وروزے کے بنیادی شرعی احکام تک نہ معلوم تھے ۔ ایک دن میں  مسجد میں  نماز کے لیے حاضر ہوا تو مجھ سے ایک اسلامی بھا ئی  نے ملاقات کی ، اسی دوران مدنی قافلے میں سفرکی دعوت بھی دی ۔ دعوت اسلامی کے مدنی ماحول سے ناآشنا ئی  کے باعث میں  نے شروع میں  توانکار کر دیا مگر ہمارے محلے کی مسجد کے امام صاحب نے میری ہمت بندھا ئی  اورمجھے مدنی قافلے میں  سفرکے  لئے آمادہ کر لیا۔ ہفتہ وار سنّتوں  بھرے اجتماع کے بعد صبح مدنی قافلے نے سفر کرنا تھا۔اِجتماع کے اختتام پر میرے امیر قافلہ ڈھونڈتے ہو ئے  مجھ تک آپہنچے ، میں  دنیا کی محبت کا شکار اتنی دیر مسجد میں  رہنے سے اُکتا سا گیا تھااور مزید 3 دن مسجد میں رہنے سے گھبر ا رہاتھا، لہٰذا میں اپنے محسن پرہی غصہ کرنے لگا کہ ’’میں آپ کو نہیں  جانتا مجھے کسی مدنی قافلہ میں  نہیں  جانا، آپ برا ئے  کرم! مجھے گھر جانے دیں ۔‘‘مگر امیرِ قافلہ نے میری توقعات کے برعکس مجھ پرغصہ کرنے کے بجا ئے  اطمینان سے میری بات سنی اور نہایت شفقت اور نرمی سے مجھے سمجھانا شروع کیااورمنت سماجت کرتے ہو ئے  دوبارہ مدنی قافلے میں  سفر پرراضی کر لیا ۔ مَدَنی قافلے کے پہلے ہی دن جب مدنی قافلے والوں  نے سیکھنے سکھانے کے مدنی حلقے لگا ئے  تو مجھے دل ہی دل میں  بے حد ندامت ہو ئی  کہ مجھے توبنیادی مسا ئل  بھی نہیں  معلوم!اَ لْحَمْدُللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ   ! عاشِقانِ رسول کی صحبت میں  3 دن گزارنے کے بعد میں بہت سارا علمِ دین مثلاً وضووغسل اورنماز کے احکام سیکھ کر اور دین متین کی خدمت کاجذبہ لے کر اس حال



Total Pages: 32

Go To