Book Name:Aarabi kay Sawalat aur Arabi Aaqa kay jawabat

        حضرت سیدنا امام زین العابدین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اپنی زندگی میں  دو مرتبہ اپنا سارا مال راہِ خدا   عَزَّوَجَلَّ    میں  خیرات کیا اور آپ کی سخاوت کا یہ عالم تھا کہ آپ بہت سے غرباء اہلِ مدینہ کے گھروں  میں  ایسے پوشیدہ طریقوں  سے رقم بھیجا کرتے تھے کہ ان غرباء کو خبر ہی نہیں  ہوتی تھی کہ یہ رقم کہاں  سے آتی ہے؟مگر جب آپ کا وصال ہو گیاتو ان غریبوں  کو پتا چلاکہ یہ حضرت امام زین العابدین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کی سخاوت تھی۔(سیر اعلام النبلاء، ۵/ ۳۳۶)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !            صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

پہلے کے مسلمان اپنے اعمال چھپانے کا کتنا اہتمام کرتے تھے

        حضرت سیدنا حسن بصریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی  فرمایا کرتے تھے : ایک شخص پورا قرآن حِفْظ کرلیتا تھا لیکن اس کے پڑوسی کو اس بات کی خبر نہ ہوتی تھی، وہ فقہ کا کثیر علم حاصل کرلیتا تھا لیکن لوگوں  کو اس بات کا پتہ نہ چلتا تھا اور وہ اپنے یہاں  ملاقاتیوں  کی موجود گی میں  رات میں  طویل نماز پڑھتا تھا لیکن دوسروں  کو اس بات کا علم نہ ہوپاتا تھا۔ ہم نے ایسے لوگوں  کو دیکھا ہے جو اپنے اعمال کو چھپانے میں  مبالغہ کرتے تھے۔ پہلے کے مسلمان دعا میں  خوب کوشش کرتے تھے لیکن ان کی آواز کی جگہ صرف سرگوشی سنا ئی  دیتی تھی کیونکہ اللّٰہ   عَزَّوَجَلَّ     کا فرمانِ عالیشا ن ہے :

اُدْعُوْا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَّ خُفْیَةًؕ   (پ۸، الاعراف : ۵۵)

ترجمہ کنزالایمان : اپنے رب سے دعا کرو گڑگڑاتے اور آہستہ۔

نیز اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ   نے اپنے منتخب بندے حضرت سیدنا زکریا عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامکا تذکرہ کرتے ہو ئے  ارشاد فرمایا :     

اِذْ نَادٰى رَبَّهٗ نِدَآءً خَفِیًّا(۳) (پ۱۶، مریم : ۳)

ترجمہ کنزالایمان : جب اس نے اپنے رب کو آہستہ پکارا۔    (تفسیر کبیر ، ۵/ ۲۸۱)

 صِلَۂ رِحمی کی تعریف

         شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  اپنے رسالے ’’ہاتھوں  ہاتھ پھوپھی سے صلح کرلی ‘‘ کے صفحہ5پر لکھتے ہیں  : صِلَہ کے معنٰی ہیں  :  اِ یْصَالُ نَوْعٍ مِّنْ اَنْوَاعِ الْاِ حْسَان۔یعنی کسی بھی قِسم کی بھلا ئی  اور احسان کرنا۔ (اَلزّواجِر ج۲ص۱۵۶) اور رِحم سے مراد :  قرابت، رشتہ داری ہے۔ (لِسانُ العَرب ج۱ص۱۴۷۹)’’ بہارشریعت ‘‘میں  ہے :  صِلَۂ رِحْمکے معنیٰ :   رِشتے کو جوڑنا ہے یعنی رشتے والوں  کے ساتھ نیکی اور سُلوک (یعنی بھلا ئی ) کرنا۔     (بہار شریعت ۳/ ۵۵۸)

        رِضا ئے  الٰہی کے لیے رشتے داروں  کے ساتھ صِلۂ رِحمی اور ان کی بدسلوکی پر انہیں  در گزر کرنا ایک عظیم اَخلاقی خوبی ہے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّکے یہاں  اس کا بڑا ثواب ہے ۔

بہترین آدَمی کی خُصُوصِیّات

    صاحبقراٰنِ مبین، مَحبوبِ ربُّ العٰلَمِین، جنابِ صادِق و امین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ایک مرتبہ منبر اقدس پر جلوہ فرما تھے کہ ایک صحابی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے عرض کی :  ’’ یارَسُولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَلوگوں  میں  سب سے اچھا کون ہے؟‘‘ فرمایا :  لوگوں  میں  سے وہ شخص سب سے اچھا ہے جو کثرت سے قراٰنِ کریم کی تِلاوت کرے، زیادہ متقی ہو، سب سے زیادہ نیکی کا حکم دینے اور برا ئی  سے منع کرنے والا ہو اور سب سے زیادہ صِلَۂ رِحمی(یعنی رشتے داروں  کے ساتھ اچھا برتا ؤ) کرنے والا ہو ۔ (مسند احمد، ۱۰/ ۴۰۲، حدیث  :  ۲۷۵۰۴)

حکایت:55

 12ہزار درہم رشتے داروں  کو بانٹ دیئے

        امیرُالْمُؤمِنِین حضرت سیِّدنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے اُمُّ الْمؤمِنین حضرتِ زینب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی خدمت میں  12ہزار دِرہم بھیجے تو انہوں  نے یہ رقم اپنے رشتے داروں  کو تقسیم کر دی۔   (اسد الغابۃ ، ۷/ ۱۴۰ مُلَخّصاً)

صِلَۂ رِحْمی کرنے کے 10 فائدے

       حضرتِ سیِّدُنا فقیہابواللَّیث سمرقندی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِیفرماتے ہیں  :  صِلَۂ رِحْمی کرنے کے 10 فا ئد ے ہیں  : ٭ اللہ عَزَّ وَجَلَّکی رِضا حاصل ہوتی ہے ٭لوگوں  کی خوشی کا سبب ہے

 ٭ فرشتوں  کو مَسَرّت ہو تی ہے ٭مسلمانوں  کی طرف سے اس شخص کی تعریف ہوتی ہے ٭ شیطان کو اس سے رَنج پہنچتا ہے ٭ عمربڑھتی ہے ٭رِزْق میں  برکت ہو تی ہے ٭ فوت ہوجانے والے آبا ؤ اجداد(یعنی مسلمان باپ دادا) خوش ہوتے ہیں  ٭آپس میں  مَحَبَّت بڑھتی ہے ٭وفات کے بعداس کے ثواب میں  اِضافہ ہو جا تا ہے، کیونکہ لوگ اس کے حق میں  دعا ئے  خیر کرتے ہیں  ۔       (تَنبیہُ الغافِلین، باب صلۃ الرحم، ص۷۳)   

ناراض رِشتے داروں  سے صلح کرلیجئے

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو !جو ذراذرا سی باتوں  پر اپنی بہنوں ، بیٹیوں ، پھوپھیوں  ، خالاؤں  ، ماموؤں ، چچاؤں ، بھتیجوں ، بھانجوں  وغیرہ سے قطعِ رِحمی کر لیتے ہیں ، ان لوگوں  کے لیے بیان کردہ حدیث  پاک میں  عبرت ہی عبرت ہے ۔ میری مَدَنی اِلتجا ہے کہ اگر آپ کی کسی رِشتے دار سے ناراضی ہے تو اگرچِہ رِشتے دارہی کاقصور ہوصلح کی لئے خود پہل  کیجئے  اورخود آگے بڑھ کر خندہ پیشانی کے ساتھ اُس سے مل کر تعلُّقات سنوار لیجئے۔ [1]؎

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !               صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

 



     مزید تفصیلات کے لئے مکتبۃ المدینہ کا مطبوعہ رسالہ ’’ہاتھوں ہاتھ پھوپھی سے صلح کرلی‘‘ضرور پڑھئے ۔ [1]



Total Pages: 32

Go To