Book Name:Aarabi kay Sawalat aur Arabi Aaqa kay jawabat

       مذکورہ بالا سوالات و جوابات سے ہمیں  نصیحت وحکمت کے بے شمار مَدَنی پھول چُننے کو ملتے ہیں ، آ ئی ے!’’ حصولِ علمِ دین ‘‘، ’’اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں  کی اصلاح کی کوشش ‘‘جیسی اچھی اچھی نیتوں  کے ساتھ ان مَدَنی پھولوں  کی خوشبو اپنے دل ودماغ میں  بساتے ہیں ، چنانچہ

(1) سوال پوچھنے کی اجازت طلب کی

         اعرابی نے سب سے پہلا سوال تو یہ کیا کہ میں  دنیا وآخرت کے بارے میں کچھ پوچھنا چاہتا ہوں  ، اس سے ہمیں  یہ بھی سیکھنے کو ملا کہ جب کسی عالمِ دین سے کو ئی  سوال کرنا ہوتو  ادباً پہلے اس سے سوال پوچھنے کی اجازت طلب کرلی جا ئے  ۔علمِ دین کے حصول میں  سوال کی بڑی اہمیت ہے ، سوال کو علم کی چابی قرار دیا گیا ہے چنانچہ :

سوال علم کی چابی ہے

        امیرُالْمُؤمِنِینحضرتِ مولا ئے  کا ئنات، علیُّ المُرتَضٰی شیرِ خدا  کَرَّمَ اللّٰہُ تعالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے مَروی ہے :  علم خزانہ ہے اور سُوال اس کی چابی ہے، اللّٰہ   عَزَّوَجَلَّ      تم پر رحم فرما ئے  سُوال کیا کرو کیونکہ اس (یعنی سوال کرنے کی صورت ) میں  چار اَفراد کو ثواب دیا جاتا ہے۔سُوال کرنے والے کو ، جواب دینے والے کو، سننے والے اوران سے مُحَبَّت کرنے والے کو۔

(الفردوس بماثور الخطاب، ۲/ ۸۰، حدیث  : ۴۰۱۱)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

علم میں  اِضافے کا راز

        حضرت ِ سیِّدُنا عبد اللّٰہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  فرماتے ہیں  :  علم میں  زیادتی تلاش سے اور واقفیت سوال سے ہوتی ہے توجس کا تمہیں  علم نہیں  اس کے بارے میں  جانو اور جو کچھ جانتے ہو ا س پر عمل کرو۔(جامع بیان العلم وفضلہ، ۱/ ۱۲۲، رقم :  ۴۰۲)

حضرت سیِّدُنا امام اصمعی  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی  سے کسی نے عرض کی :  آپ نے اتنا علم کس طرح حاصل کیا؟ فرمایا : سوالات کی کثرت اور اہم باتوں  کو اچھی طرح یاد رکھنے کی وجہ سے۔

(جامع بیان العلم وفضلہ ، ۱/ ۱۲۶، رقم :  ۴۱۲)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !              صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد   

سوال پوچھنے سے نہ شرما  ئیں

    علم سیکھنے کے  لئے سوال پوچھنے سے شرمانا نہیں  چا ہئے  کہ لوگ کیا سوچیں  گے کہ اس کو اتنی بنیادی بات بھی معلوم نہیں  یا اس کی اتنی عمر ہو گئی   ابھی تک اس کو یہ مس ئل ہ نہیں  پتا !امیر المؤمنین حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز  علیہ رَحْمَۃُ اللّٰہ القدیر فرمایا کرتے تھے: بہت کچھ علم مجھے حاصل ہے، لیکن جن باتوں  کے سوال سے میں  شرمایا تھا ان سے اس بڑھاپے میں  بھی جاہل ہوں ۔

(جامع بیان العلم وفضلہ، ۱/ ۱۲۶، رقم :  ۴۱۳)

اللّٰہ   عَزَّوَجَلَّ    کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

سوال کرنے کے آداب

        امیرُالْمُؤمِنِینحضرتِ مولا ئے  کا ئنات، علیُّ المُرتَضٰی شیرِ خدا  کَرَّمَ اللّٰہُ تعالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمفرماتے ہیں  :  عالم کے حق میں سے ہے کہ اس سے بہت زیادہ سوال نہ کیے جا  ئیں اور اس سے جواب لینے میں  سختی نہ کرے اور جب اسے سُستی لاحِق ہو تو جواب لینے کے لیے اس کے پیچھے نہ پڑ جا ئے  اور جب وہ اُٹھے تو اس کے کپڑوں  کو نہ پکڑے۔(الفقیہ والمتفقہ، ۲/ ۱۹۸، رقم : ۸۵۶)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !          صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد   

حکایت: 3

خاموشی حکمت ہے

        ایسے سوالات کرنے سے بھی بچا جا ئے  جس کا دنیاوی یا اُخروی فا ئد ہ نہ ہو، بعض اوقات سوال کے بغیر ہی مطلوبہ معلومات حاصل ہوجاتی ہیں  چنانچہ ایک مرتبہ حضرت سیِّدُنالُقْمان حکیم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  حضرت سیِّدُنا داو‘د عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کی خدمت میں  حاضر ہو ئے  ، اس وقت آپ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام زِ رَہ بنا رہے تھے اور چونکہ آپ نے اس سے پہلے زِرَہ نہیں  دیکھی تھی اس  لئے اسے دیکھ کر تعجب کرنے لگے اور اس بارے میں  سوال کرنا چاہا مگرحکمت کے سبب سوال کرنے سے باز رہے ۔ جب حضرت سیِّدُنا  داود  عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام  زِ رَہ بنانے سے فارغ ہو ئے  تو کھڑے ہو ئے  اور اُسے پہن کر ارشاد فرمایا :  جنگ کی لئے زِرَہ کیا ہی اچھی چیز ہے ۔ یہ سن کر حضرت سیِّدُنالقمان حکیم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  نے کہا :  خاموشی حکمت ہے مگر اس کو اختیار کرنے والے کم ہیں  ، یعنی سوال کے بغیر ہی اس کے متعلق علم ہوگیا اور سوال کی حاجت نہ رہی ۔منقول ہے کہ حضرت سیِّدُنالقمان حکیم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  ایک سال تک حضرت سیِّدُنا  داود  عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کی بارگاہ میں  اِس ارادے سے حاضر ہو تے رہے کہ انہیں  زِرَہ کے بارے میں  بغیر سُوال ک ئے  معلوم ہو جا ئے  ۔     (احیاء علوم الدین، کتاب آفات اللسان، باب عظیم خطر ۔۔الخ، ۳/ ۱۴۱)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !             صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد   

حکایت: 4

بمبئی  کے مکان کا بھا ؤکیسے پتا چلا؟

        شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطارؔ قادری دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  فرماتے ہیں  : برسوں  پہلے کی بات ہے مَدَنی قافلے کے ساتھ بمب ئی  



Total Pages: 32

Go To