Book Name:Aarabi kay Sawalat aur Arabi Aaqa kay jawabat

بینا ئی  مل جانے سے زیادہ پسند ہے

        حضرت سیدنا سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  قبولیتِ دعا کے حوالے سے مشہور تھے اور لوگ ان سے دعا کروایا کرتے تھے جبکہ ان کی اپنی بینا ئی  زا ئل  ہوچکی تھی۔کسی نے ان سے عرض کی : حضور!اگر آپ اپنے بینا ئی  کی بحالی کی لئے بھی دعا فرما  ئیں تو کتنا اچھا ہو!ارشاد فرمایا :  اللّٰہ   عَزَّوَجَلَّ     کی رضا پر راضی رہنا مجھے اپنی بینا ئی  کے واپس مل جانے سے زیادہ پسند ہے۔

(جامع العلوم والحکم، ص۴۵۸)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !         صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

اگر مگر نہ کرو

        فرمانِ مصطَفٰے  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  :  اگر تمہیں  کو ئی  مصیبت پہنچے تو یہ مت کہو : ’’اگر میں  ایسا کرتا تو مجھے فلاں  مصیبت نہ پہنچتی۔‘‘بلکہ یہ کہو : ’’ اللّٰہ   عَزَّوَجَلَّ      نے ایسا ہی لکھاتھا اور اس نے جو چاہا وہی کیا۔‘‘کیونکہ :  ’’اگر‘‘ کا لفظ شیطانی عمل کی ابتداء کرتا ہے۔( مسلم، کتاب القدر، باب فی الامر۔۔الخ، ص۱۴۳۲، حدیث  : ۲۶۶۴)

         مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ المَنّان  اِس حدیث  پاک کے تحت لکھتے ہیں  : کیونکہ یہ کہنے میں  دل کو رنج بھی بہت ہوتا ہے، رب  تَعَالٰی  ناراض بھی ہوتا ہے۔’’ اگر میں  اپنا مال فلاں  وقت فروخت کردیتا تو بڑا نفع ہوتا مگر میں  نے غلطی کی کہ اب فروخت کیا ہا ئے  بڑی غلطی کی ‘‘یہ بُرا ہے لیکن دینی معاملات میں  ایسی گفتگو اچھی یہاں  دنیاوی نقصانات مراد ہیں  ۔ اس اگر مگر سے انسان کا بھروسہ رب  تَعَالٰی  پر نہیں  رہتا اپنے پر یا اسباب پر ہوجاتا ہے ۔خیال ر ہے کہ یہاں  دنیا کے اگر مگر کا ذکر ہے دینی کاموں  میں  اگر مگر اور افسوس وندامت اچھی چیز ہے اگر میں  اتنی زندگی  اللّٰہ   عَزَّوَجَلَّ      کی اطاعت میں  گزارتا تو متقی ہوجاتا مگر میں  نے گناہوں  میں  گزاری ہا ئے  افسوس !یہ اگر مگر عبادت ہے ۔اگر میں  حضور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  )کے زمانہ میں ہوتا تو حضور  (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  )کے قدموں  پر جان قربان کردیتا مگر میں  اتنے عرصہ بعد پیدا ہوا ہا ئے  افسوس! یہ عبادت ہے۔ اعلیٰ حضرت قدس سرہ نے فرمایا :  شعر

جو ہم بھی واں  ہوتے خاک گلشن لپٹ کے قدموں  سے لیتے اوترن

مگر کریں  کیا نصیب میں  تو یہ نامرادی کے دن لکھے تھے

لہٰذا یہ حدیث  ان احادیث یا آیات کے خلاف نہیں  جن میں  ’’لَو(اگر)‘‘ فرمایاگیا ۔ (مراۃ المناجیح، ۷/ ۱۱۳)   

حکایت:51

اپنے نصیب پر خوش رہنے والی عورت

        حضرت سیِّدُنا امام عبد الملک بن قریب اَصْمَعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی  فرماتے ہیں  :  میں  ایک قبیلہ میں  گیا تو وہاں  میں  نے لوگوں  میں  سے سب سے خوبصورت عورت کوسب سے بدصورت شخص کے نکاح میں  دیکھا ، میں  نے اس عورت سے کہا :  کیا تو اپنے  لئے اس بات پر راضی ہے کہ تو اس طرح کے شخص کے نکاح میں  ہو ؟ اس نے جواب دیا :  خاموش ہو جاؤ ! تم نے غلط بات کی ہے ، ہو سکتا ہے اس نے کو ئی  نیکی کی ہو جس کی جزا میں  اللّٰہ   عَزَّوَجَلَّ     نے اس کا مجھ سے نکاح کر دیا ، یا ہو سکتا ہے کہ میں  نے کو ئی  گناہ کیا ہو جس کے عقاب میں  اللّٰہ   عَزَّوَجَلَّ     نے میرا اس سے نکاح کر دیا ہو توکیا اب بھی میں  اپنے رب   عَزَّوَجَلَّ    کی رِضا پر راضی نہ رہوں  ؟ اس طرح اُس عورت نے مجھے خاموش کرادیا ۔ (احیاء علوم الدین، کتاب آداب النکاح، الباب الثالث، ۲ / ۷۶)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !              صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

تدبیر کو ترک نہ  کیجئے  

        یاد رہے کہ مرض کا علاج کروانا یا مصیبتوں  کو دور کرنے کی تدابیر اختیار کرنا یادعا کرنا تقدیر کے منافی نہیں  بلکہ یہ بھی تقدیر کے تحت ہی ہوتی ہیں مگر توکُّل (یعنی بھروسا) خالقِ اسباب (یعنی رب   عَزَّوَجَلَّ   ) پر ہونا چا ہئےنہ کہ اسباب پر یعنی رب  تَعَالٰی  چاہے گا تو ہی ہماری تدبیر کامیاب ہوگی ورنہ نہیں  ۔ مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضرت ِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ المَنّان  لکھتے ہیں  خیال رہے کہ تدبیر بھی تقدیر میں  آچکی ہے لہٰذا تدبیر سے غافل نہ رہو مگر اس پر اِعتماد نہ کرو، نظراللّٰہ کی قدرت و رحمت پر رکھو۔(مراٰۃ المناجیح، ۷/ ۱۱۸)

جبکہصدرُ الافاضِل حضرتِ علّامہ مولانا سیِّد محمد نعیم الدّین مُراد آبادیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْھَادِی خزاءن العرفان میں  لکھتے ہیں  :  آفتوں  اور مصیبتوں  سے دفع کی تدبیر اور مناسب احتیاطیں  انبیاء(عَلَیْہِمُ السَّلام) کا طریقہ ہیں  ۔۱۳، یوسف، زیرِ آیت : ۶۷)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(۲۳سب سے بڑی برا ئی  

        اَعرابی کا ت ئی سواں  سوال یہ تھا کہ کون سی برا ئی  اللہ عَزَّ وَجَلَّکے نزدیک سب سے بڑی ہے؟ سرکارِمدینۂ منوّرہ، سردارِمکّۂ مکرّمہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا :  بُرے اخلاق اور بُخْل ۔

حکایت:52

بداَخلاق قابل رحم ہے

        حضرت سیِّدُنا عبدُاللّٰہ بن مبارک  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  کے ساتھ سفر میں  ایک بداَخلاق آدمی شریک ہوگیا، آپ اس کی بد اَخلاقی پر صبر کرتے اور اس کی خاطِرمدارت کر تے ، جب وہ جداہوگیا تو آپ رونے لگے ، کسی نے رونے کا سبب پوچھاتو فرمایا :  میں  اس پر ترس کھاکر رورہاہوں  کہ میں  تو اس سے الگ ہوگیا لیکن اس کی بداخلاقی اس سے الگ نہ ہو ئی  ۔

  (احیاء علوم الدین، کتاب ریاضۃ النفس، بیان فضیلۃ ۔۔الخ، ۳/ ۶۵)   

 



Total Pages: 32

Go To