Book Name:Aarabi kay Sawalat aur Arabi Aaqa kay jawabat

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !         صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(۲۲سب سے بڑی اچھا ئی  

        اَعرابی کا با ئی سواں  سوال یہ تھا کہ کون سی نیکی اللّٰہ عزوجل  کے نزدیک سب سے افضل ہے؟ سرکارِ عالی وقار، مدینے کے تاجدارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا : اچھے اخلاق، تواضُع اور مصاءب پر صبر اور تقدیر پر راضی رہنا۔   

حسنِ اخلاق کی اہمیت

        ہر انسان کی ایک ظاہری اور ایک باطنی صورت ہوتی ہے، ظاہری صورت بصارت(یعنی ظاہری آنکھوں  )سے جبکہ باطنی صورت بصیرت(یعنی دل کی آنکھوں )سے نظر آتی ہے۔ظاہری صورت کو خَلْق جبکہ باطنی صورت کو خُلُق  کہا جاتا ہے۔انسان کی ظاہری اور باطنی دونوں  صورتوں  کی ایک ہیءت ہوتی ہے جو یا تو خوبصورت ہوتی ہے یا پھر بدصورت ، بعض اوقات انسان کا ظاہر خوبصورت اور باطن بدصور ت ہوتا ہے جبکہ بسا اوقات باطن خوبصورت اور ظاہر بدصورت۔ایک انسان کے  لئے یہ انتہا ئی  بُری بات ہے کہ اس کا ظاہِر تو خوبصورت لیکن باطِن قبیح وبدصورت ہو، چنانچہ منقو ل ہے کہ ایک دانا شخص نے کسی خوبصورت چہرے والے آدمی سے کہا : گھر تو بہت اچھا ہے لیکن اس میں  رہنے والا بدصورت ہے۔ (اتحاف السادۃ المتقین، کتاب ریاضۃ النفس، بیان حقیقۃ حسن الخلق، ۸/ ۶۰۷)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !          صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

اچھے اور برے اخلاق کی تعریف

        انسان کی باطنی صورت اگر اچھی ہو کہ اس سے اچھے اعمال بغیر تکلف اور غور وتفکُّر کے ادا ہوں  تو اسے حسنِ اخلاق سے تعبیر کیا جاتا ہے جبکہ یہی باطنی صورت اگر بُری ہو کہ اس سے بلاتکلُّف برے اعمال صادِر ہوں  تو اسے بداخلاقی کہا جاتا ہے۔ (احیاء علوم الدین، کتاب ریاضۃ النفس، بیان حقیقۃ حسن الخلق، ۳ / ۶۶ ملخصاً)

اچھے اخلاق سے مراد ہے خَلْق و خالق کے حقوق اداکرنا، نرم وگرم حالات میں  شاکر و صابر رہنا۔(مراٰۃ المناجیح ، ۶/ ۴۸۲)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !             صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

صبر سے بہتر کو ئی  شے نہیں

        صاحب ِجُودو نوال، رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا فرمانِ بشارت نشان ہے :  وَمَنْ یَّتَصَبَّرْ یُصَبِّرْہُ اللّٰہُ وَمَا اُعْطِیَ اَحَدٌ عَطَاء خَیْرًا وَاَوْسَعَ مِنْ الصَّبْرِ یعنی جو صبر چاہے گا اللّٰہ اسے صبر دے گااور کسی کو صبر سے بہتر اور وسیع کو ئی  چیز نہ ملی ۔  (بخاری، کتاب الزکاۃ، باب الاستعفاف عن المسألۃ، ۱/ ۴۹۶، حدیث  : ۱۴۶۹)

مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  تِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ المَنّان  اِس حدیث  پاک کے تحت فرماتے ہیں  :  یعنی رب  تَعَالٰی  کی عطا ؤ ں  میں  سے بہترین اور بہت گنجا ئش والی عطا صبر ہے کہ رب  تَعَالٰی  نے اس کا ذکر نماز سے پہلے فرمایا :

 اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ

(ترجمۂ کنزالایمان : اے ایمان والو صبر اور نماز سے مدد چاہو (پ۲، البقرۃ : ۱۵۳))

  اور صابر کے ساتھ اللّٰہ ہوتا ہے، نیز صبر کے ذریعہ انسان بڑی بڑی مشقتیں  برداشت کرلیتا ہے اور بڑے بڑے درجے حاصل کرلیتا ہے، رب  تَعَالٰی  نے (سیدنا) ایوب علیہ السلام کے بارے میں

  فرمایا :  اِنَّا وَجَدْنٰهُ صَابِرًاؕ    ہم نے انہیں  بندہ صابر پایا  (پ۲۳، صٓ : ۴۴)، صبر ہی کی برکت سے حضرت حسین (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  )سیِّدُ الشُہَداء ہو ئے ۔(مراٰۃ المناجیح، ۳/ ۵۹)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !            صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

حکایت: 50

ایک بزرگ اورقیدی دوست

        کسی بزرگ کا ایک دوست تھاجسے بادشاہ نے قید کردیا ، اس نے اپنے دوست کو اِطِّلاع دی اور شکوہ بھی کیا ۔ اُنہوں  نے پیغام بھجوایا :   اللّٰہ   عَزَّوَجَلَّ     کا شکر ادا کرو۔ بادشاہ نے اُسے سزا دی ، اس نے پھر اپنے دوست کو اطلاع دی اور شکوہ کیا تو انہوں  نے پھرپیغام بھجوایا :  اللّٰہ   عَزَّوَجَلَّ     کا شکر ادا کرو ! اسی دوران دَسْت کی بیماری میں  مبتلاایک مجوسی(آتش پرست) کو لایاگیا اور اس کیساتھ قید کردیا گیا ، بیڑی کا ایک کَڑا اس کے پاؤں  میں  تھا تودوسرا کڑا مجوسی کے پاؤں  میں  ۔ اس نے پھرپیغام بھیجا تو دوست کا جواب ملا :  اللّٰہ   عَزَّوَجَلَّ     کا شکر کرو ۔ مجوسی کو قضا ئے  حاجت کی لئے ک ئی  بار اٹھنا پڑتاتواسے   بھی مجبوراً ساتھ اٹھنا پڑتا اورمجوسی کے فارغ ہونے تک اس کے ساتھ ٹھہرنا پڑتا ۔ قیدی دوست نے یہ سب لکھ کر دوست کو بھیجا توجواب ملا :  اللّٰہ   عَزَّوَجَلَّ     کا شکر ادا کرو۔   قیدی  دوست نے لکھ کر

بھیجا :  کب تک شکرکروں  ؟ اس سے بڑی مصیبت کیا ہوسکتی ہے ؟ بُزرگ دوست نے جواب لکھا : اگر مجوسی کی کمرمیں  بندھازُنّار(یعنی وہ دھاگہ جو اُن کے کفریہ مذہب کی علامت ہے)تمہاری کمر میں  ہوتا تو تم کیا کرتے ؟  (احیاء علوم الدین، کتاب الصبر والشکر، بیان وجہ اجتماع۔۔الخ، ۴ / ۱۵۸)   

  سب کچھ تقدیر میں  لکھا ہوا ہے

          ہر بھلا ئی ، بُرا ئی  اللّٰہ   عَزَّوَجَلَّ     نے اپنے علمِ اَزلی کے موافق مقدّر فرما دی ہے، جیسا ہونے والا تھا اورجو جیسا کرنے والا تھا، اپنے عِلْم سے جانا اور وہی لکھ لیا ۔  [1]؎ (بہارشریعت، ۱/ ۱۱)  

 



    عقائد کے بارے میں مزید تفصیلات کے لئے بہار شریعت جلد اول (مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)کے حصہ اول کا مطالعہ کیجئے۔[1]



Total Pages: 32

Go To