Book Name:Aarabi kay Sawalat aur Arabi Aaqa kay jawabat

رونے کے اسباب

        حضرت سیدنا یزید بن مَیْسَرَہ   رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  فرماتے ہیں  : رونا پانچ چیزوں  کی وجہ سے ہوتا ہے :  خوشی یا غم سے، دَرد یاگھبراہٹ سے، ریا سے اور چھٹی وجہ اللّٰہ   عَزَّوَجَلَّ     کے خوف سے رونا ہے اور وہ اچانک ہوتا ہے عمل سے نہیں ، یہی وہ رونا ہے جس کا ایک آنسو(جہنم میں ) آگ کے ک ئی  پہاڑو ں  کو بجھا دیتا ہے۔(تنبیہ المغترین، ص۲۵۸)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !            صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

عاجزی کرنے والے کوبڑا مرتبہ ملے گا

        خاتَمُ الْمُرْسَلین، رَحمَۃٌ لّلْعٰلمین  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا فرمانِ عالیشان ہے :  تواضُع(یعنی عاجزی) اختیار کرو اور مسکینوں  کے ساتھ بیٹھا کرو  اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ   کے بڑے مرتبے والے بندے بن جا ؤگے اور   تَکَبُّر  سے بھی بَری ہو جا ؤگے۔ (کنزالعمال، کتاب الاخلاق، قسم الاقوال، ۲/ ۴۹، جزء : ۳، حدیث  : ۵۷۲۲)

حکایت:47

عاجزی کا انعام

        حضرت سیدنا مجاہد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  فرماتے ہیں  : اللّٰہ   عَزَّوَجَلَّ     نے جب حضرت سیدنا نوح عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کی قوم کو طوفان میں  غرق فرمایا تو تمام  پہاڑ اونچے ہو گئےلیکن جُودی پہاڑ نے عاجزی اختیار کی۔اللّٰہ   عَزَّوَجَلَّ     نے اسے تمام پہاڑوں  پر بلندی عطا فرما ئی  اور حضرت سیدنا نوح عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کی کشتی کو اس پر ٹھہرایا۔(المستطرف، ۱/ ۲۲۵)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !          صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

حکایت:48

بزرگ مہمان کی عاجزی مرحبا !

        منقول ہے کہ ایک بزرگ کو دعوت میں  بلانے کے  لئے قاصِد بھیجا گیا لیکن بزرگ سے قاصد کی ملاقات نہ ہوسکی ، جب انہیں  علم ہوا توتشریف لے آ ئے  تب تک لوگ کھانا کھا کر جا چکے تھے ۔ میزبان نے کہا :  لوگ تو جاچکے ہیں  ۔ پوچھا :  کچھ بچاہے ؟ عرض کی :  نہیں  ۔ پوچھا :  روٹی کا کو ئی  ٹکڑا ؟ عرض کی : نہیں  ۔ فرمایا :  ہنڈیا چاٹ لوں  گا ۔ میزبان نے عرض کی :  اسے تو ہم دھو چکے ہیں  ۔ چنانچہ ، وہ بزرگ اللّٰہ   عَزَّوَجَلَّ      کی حمد کرتے ہو ئے  لوٹ آ ئے  ۔ ان سے اس بارے میں  عرض کی  گئی   تو فرمایا :  اس شخص نے ہمیں  اچھی نیت سے بلایا اور اچھی نیت سے لوٹا دیا ۔

  (احیاء علوم الدین، کتاب آداب الاکل، آداب الانصراف، ۲/ ۲۴)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                      صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

 بیمارگناہوں  سے پاک ہو جاتا ہے

         خاتِمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃُ الِّلْعٰلمین  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا فرمانِ دلنشین ہے :  جب مومن بیمارہوتا ہے تو اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ   اسے گناہوں  سے ایسا پاک کردیتا  ہے جیسے بھٹی لوہے کے زَنگ کو صاف کردیتی ہے ۔(التر غیب و التر ھیب، کتاب الجنا ئز، الترغیب فی الصبر۔۔الخ، ۴/ ۱۴۶، حدیث  : ۴۲)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                          صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

حکایت:49

تجھے یہ نعمت بن مانگے ملی ہے

    حضرتِسیِّدُنا وَہْب بن مُنَبِّہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  سے منقول ہے :  دو عبادت گزاروں  نے پچاس سال تک  اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ   کی عبادت کی، ان میں  سے ایک کے جسم میں  خطرناک بیماری لگ  گئی   ، اس نے بارگاہِ خداوندی    عَزَّوَجَلَّ   میں   التجاکی :  اے میرے پاک پروردگار   عَزَّوَجَلَّ   ! میں  نے اتنے سال تیری اطاعت وعبادت کی پھر بھی مجھے اتنی خطرنا ک بیماری میں  مبتلا کردیا گیا، اس میں  کیا حکمت ہے ؟  اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ   نے فرشتوں  کو حکم فرمایا : اس سے کہو :  تو نے جو عبادت و ریاضت کی وہ ہماری ہی عطا کردہ توفیق سے ہے، باقی رہی بیماری تو میں  نے اس میں  تجھے اس  لئے مبتلا کیا تاکہ تجھے اَبراروں  (نیکوکار لوگوں ) کے مرتبہ پر فا ئز کر دوں ، تجھ سے پہلے کے لوگ تو بیماری ومصاءب کے خواہش مندہوا کرتے تھے اور تجھے تو میں  نے یہ نعمت بِن مانگے عطا کی ہے ۔

 (عیون الحکایات، الحکایۃ الحادیۃ والخمسون بعد الثلاثماءۃ، ص۳۱۲)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !              صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

بیماری نصیحت ہے

       دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 1250صَفحات پر مشتمل کتاب ، ’’بہارِ شریعت‘‘جلد اوّل صَفْحَہ 802پر ہے :  رسول ُاللّٰہ  صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے بیماریوں  کا ذکر فرمایا اور فرمایاکہ مومِن جب بیمار ہو پھر اچھا ہو جا ئے ، اس کی بیماری گناہوں  سے کفّارہ ہو جاتی ہے اور آءندہ کے  لئے نصیحت اورمنافِق جب بیمار ہوا پھر اچھا ہوا، اس کی مثال اُونٹ کی ہے کہ مالک نے اسے باندھا پھر کھول دیا تو نہ اسے یہ معلوم کہ کیوں  باندھا، نہ یہ کہ کیوں  کھولا!  (سُنَنِ ابوداوٗد، کتاب الجنا ئز، باب الامراض۔۔الخ، ۳/ ۲۴۵، حدیث  :  ۳۰۸۹ملخّصًا)

            کیونکہ مومن بیماری میں  اپنے گناہوں  سے توبہ کرتا ہے وہ سمجھتا ہے کہ یہ بیماری میرے کسی گناہ کی وجہ سے آ ئی  اور شاید یہ آخری بیماری ہو جس کے بعد موت ہی آ ئے  اس لیے اسے شفاء کے ساتھ مغفرت بھی نصیب ہوتی ہے ۔جبکہ منافِق غافِل یہی سمجھتا ہے کہ فلاں  وجہ سے میں  بیمار ہوا تھا اور فلاں  دوا سے مجھے آرام ملا، اسباب میں  ایسا پھنسا رہتا ہے کہ مُسَبِّبُ الاسباب پر نظر ہی نہیں  جاتی نہ توبہ کرتا ہے نہ اپنے گناہوں  میں  غور۔(مراۃ المناجیح ، ۲/  ۴۲۴ماخوذا)

 



Total Pages: 32

Go To