Book Name:Aarabi kay Sawalat aur Arabi Aaqa kay jawabat

بَرْہَنَہ کرنے سے بڑھ کر گناہ

        حضرت سیِّدُنا عیسیٰ روحُ اللّٰہ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے اپنے حواریوں  سے فرمایا :  اگر تم اپنے بھا ئی  کو اس حال میں  سوتا پاؤ کہ ہوا نے اس سے کپڑا ہٹا دیاہے تو تم کیا کرو گے ؟ انہوں  نے عرض کی :  اُس کی سترپوشی کریں  گے اور اسے ڈھانپ دیں  گے ۔ توآپ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے فرمایا :  بلکہ تم اُس کا ستر کھول دو گے ۔ حواریوں  نے تعجب کرتے ہو ئے  کہا :  یہ کون کرے گا ؟ تو آپ عَلٰی نَبِیِّنا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے فرمایا :  تم میں  سے کو ئی  اپنے بھا ئی  کے بارے میں  کچھ سنتا ہے تو اسے بڑھا چڑھا کر بیان کرتا ہے اور یہ اُسے بَرہنہ کرنے سے بڑا گناہ ہے ۔

(احیاء علوم الدین، کتاب آداب الالفۃ، الباب الثانی، ۲ / ۲۲۲)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

پردہ پوشی کی مختلف صورتیں  اور ان کے احکام

        کسی شخص کا ایسا فعل یا قول جس کا ظاہر کرنا اسے ناپسند ہو تو٭ اگر وہ قول یا فعل خلافِ شریعت نہ ہو تو اس کی پردہ پوشی لازم ہے اور٭ اگر وہ قول یا فعل شریعت کے خلاف ہو تو( دیکھا جا ئے  گا)اگر اس کے ساتھ اللّٰہ تعالٰی کا حق متعلق ہو لیکن اس پر کو ئی  حکمِ شرعی مثلاًحَدْ(جیسے زنا اور چوری کی صورت میں  ) یا تَعْزِیْر(جیسے حرام چیزوں  کے سننے اور خنزیر کھانے کی صورت میں )مُرتَّب نہ ہو تو بھی اسے چھپانا لازم ہے اور اگر اس پر کو ئی  حکمِ شرعی مرتب ہوتا ہوتو اس صورت میں  جاننے والے شخص کو اِختیار ہے کہ اس معاملے کی پردہ پوشی کرے یا پھر اسے حاکم تک پہنچادے تاکہ وہ اس شخص پر حکمِ شرعی کو نافذ کرے البتہ پردہ پوشی افضل ہے مثلاً کسی کے زنا یا شراب پینے پر مطلع ہوا تو اُسے چھپانا بہتر ہے اور٭اگر وہ قول یا فعل جو خلافِ شریعت ہے اس کا تعلق بندوں  کے حقوق سے ہونیز اس میں  کسی شخص کا نقصان ہومثلاً ایک شخص نے دوسرے شخص کی غیر موجود گی میں  اسے زدوکوب یا قید کرنے یا اس کا مال لینے کا ارادہ ظاہر کیایا پھر اس پر کو ئی  حکمِ شرعی مرتب ہوتا ہو مثلاً ایک شخص کی موجود گی میں  دوسرے شخص نے کسی کو قتل کیا جس پر قصاص کا حکم مرتب ہوتا ہے یا پھر اس کی موجود گی میں  کسی کا ما ل ضاءع کیا جس پر تاوان کا حکم لگتا ہے تو اس شخص پر لازِم ہے کہ حاکم کو اس بات کی اطلاع دے اور ضرورت پڑنے پر اس معاملے کی گواہی دے اور٭اگر وہ خلافِ شریعت قول یا فعل جس کا تعلق حقوق العباد سے ہے اس میں  کسی کا نقصان نہ ہواور نہ ہی اس پر کو ئی  حکمِ شرعی لگتا ہو یا پھر اس پر حکمِ شرعی مرتب تو ہوتا ہو لیکن متعلقہ شخص کو اس قول یا فعل کا علم ہوچکا ہے اور اُس نے اِس شخص سے گواہی دینے کا مطالبہ بھی نہیں  کیا تو اس صورت میں  پردہ پوشی لازِم ہے۔  

(الحدیقۃ الندیۃ، ۲/ ۲۶۳)   

(۲۱گناہوں  سے معافی کا نسخہ 

        اَعرابی کا اکیسواں  سوال یہ تھا کہ کون سی چیز میرے گناہوں  کو مٹاسکتی ہے؟ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا :  آنسو، عاجزی اور بیماری ۔

 رونے کی فضیلت

        سرکارِ ابد قرار، شافعِ روزِ شمار، بِاِذنِ پروردگاردوعالم کے مالِک ومختارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا فرمانِ جنّت نشان ہے :  جو آنکھ آنسو ؤ ں  سے بھر جا ئے   اللّٰہ   عَزَّوَجَلَّ     اس پورے جسم کو جہنم پر حرام فرمادیتاہے اور جو قطرہ آنکھ سے نکل کر رخسار پر بہہ جا ئے  اس چہرے کو ذلت وتنگد ستی نہ پہنچے گی ۔اگر کسی اُمت میں  ایک بھی رونے والاہوتوا سکی وجہ سے ساری اُمت پر رحم کیا جاتا ہے اور ہر چیز کی ایک مقدار اور وزن ہوتا ہے مگر اللّٰہ   عَزَّوَجَلَّ     کے خوف سے بہنے والاآنسو آگ کے سمندروں  کو بجھادے گا۔(شعب الایمان ، باب فی الخوف من اللہ تعالی، ۱/  ۴۹۴ ، حدیث  : ۸۱۱)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !               صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

فرشتوں  کے آنسو

        مشہور تابِعی بزرگ حضرتِ سیِّدُنا ابو عَمْرو یزید بن اَبان رَقَاشی  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الکافیفرماتے ہیں  :  بلا شبہ عرش کے گرد کچھ فرشتے ہیں  جن کی آنکھیں  نہروں  کی طرح قیامت تک جاری رہیں  گی ۔ وہ خوف خدا   عَزَّوَجَلَّ   سے ایسے کانپتے ہیں  جیسے شدید ہوا انہیں  ہلا جلا رہی ہو ۔ اللّٰہ   عَزَّوَجَلَّ     اُن سے ارشاد فرماتا ہے :  اے فرشتو! میری بارگاہ میں  ہوتے ہو ئے  تمہیں  کس چیز کا خوف ہے ؟ عرض کرتے ہیں  :  اے رب   عَزَّوَجَلَّ   ! تیری عزت و عظمت جو ہمیں  معلوم ہے اگر زمین والوں  کو معلوم ہوجا ئے  تو کھانا پانی ان کے حلق سے نہ اُترے ، بستروں  پر لیٹ نہ پا  ئیں ، صحراؤں  میں  نکل جا  ئیں اور گا ئے  کی طرح ڈکرا  ئیں ۔(منہاج القاصدین، کتاب الرجاء والخوف، ص۱۱۷۵)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                  صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

رونے سے دلوں  کا زنگ دور ہوتا ہے

        حضرت سیدناصالح مُرِّی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی  فرماتے تھے : گناہ دلوں  کو زنگ آلود کردیتے ہیں  اوریہ زنگ صرف رونے سے زا ئل  ہوتاہے۔(تنبیہ المغترین، ص۱۰۶)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !            صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

حکایت:46

اکیلے رونے سے گناہ معاف ہوجا  ئیں گے؟

        حضرت سیدناشعیب بن حرب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  حضرت سیدناطاؤس رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  کی مجلس میں  اس قدر رو ئے  کہ تمام لوگ آپ کے ساتھ رونے لگے اور یہ گمان کیا کہ انہوں  نے یہ بہت بڑا کام کیا ہے توحضرت سیدناطا ؤ س رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  نے ان سے کہا : اے دوست ! جان لے، اگر ایک گناہ کی وجہ سے تیرے ساتھ زمین وآسمان والے بھی رو  ئیں تو یہ بھی کم ہے ، پھر توکیسے گمان کرتاہے کہ تیرے اکیلے رونے سے گناہ معاف ہوجا  ئیں گے۔(تنبیہ المغترین، ص۱۰۶)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !        صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

 



Total Pages: 32

Go To