Book Name:Aarabi kay Sawalat aur Arabi Aaqa kay jawabat

اور تمہیں  معلوم نہ ہو کہ تمہارے نیک اعمال کا پلہ بھاری ہوگا یا نہیں ! تو کیا اس وقت تمہیں  یہ پسند ہوگا کہ میں  تمہارا یہ کام کروں  ؟ بولی :  بالکل نہیں  ، آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  نے فرمایا :  سچ کہا ، پھر فرمایا :  جب تمہیں  اللّٰہ   عَزَّوَجَلَّ     کی بارگاہ میں  سوالات کے  لئے کھڑا کیا جا ئے  کیا اس وقت تمہیں  یہ پسند ہوگا کہ میں  تمہارا یہ کام کروں  ؟ بولی :  بالکل نہیں  ، آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  نے فرمایا :  سچ کہا ، پھر فرمایا :  اے خدا کی بندی ! اللّٰہ   عَزَّوَجَلَّ     سے ڈر ! اللّٰہ   عَزَّوَجَلَّ     تجھ پر انعام و اکرام بھی فرما ئے  گا اور تجھے بھلا ئی  بھی عطا فرما ئے  گا ۔ اس کے بعد وہ عورت گھر لوٹ آ ئی  تو شوہر بولا :  کیا ہوا ؟ بولی :  تم بھی بیکار ہو ہم بھی بیکار ہیں  ، یہ کہہ کر وہ نماز، روزے اوردیگر عبادت میں  لگ  گئی   ۔  (الثقات للعجلی، ۲/ ۱۱۹ )

                 صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !            صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد   

17سخت ترین گناہ

        حضرتِ سیدنا علامہ مُلّا علی قاری حنفی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی لکھتے ہیں  : 17گناہِ کبیرہ بہت سخت ہیں  : چار دل کے : (۱)شرک و کفر(۲)گناہ پر اَڑنے کی نیّت (۳)اﷲکی رحمت سے مایوسی(۴) اللّٰہ کی خفیہ تدبیر سے بے خوفی۔چار زبان میں  : (۱)جھوٹی گواہی (۲)پاک دامنوں  پر تہمت(۳)جھوٹی قسم(۴)جادو۔تین پیٹ کے گناہ :  (۱)یتیم کا (مال)کھانا(۲)شراب پینا(۳)سود کھانا۔دو شرم گاہ کے : (۱)زنا(۲) لواطت۔ دو ہاتھ کے :  (۱)چوری (۲)ناحق قتل۔ایک پاؤں  کا(۱)میدانِ جہاد سے بھاگ جانا۔ایک سارے بدن کا : (۱)یعنی والدین کی نافرمانی۔

(مرقاۃ المفاتیح، ۱/ ۲۲۱، تحت الحدیث   : ۵۲)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !         صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(۲۰پردہ پوشی 

        اَعرابی کا بیسواں  سوال یہ تھا کہ چاہتا ہوں  کہ  اللّٰہ   عَزَّوَجَلَّ      میری پردہ پوشی فرما ئے ۔خاتَمُ الْمُرْسَلین، رَحمَۃٌ لِّلْعٰلمین  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا :   اپنے مسلمان بھائیو ں  کے عیب چھپا ؤ ، اللّٰہ   عَزَّوَجَلَّ     تمہاری پردہ پوشی فرما ئے  گا۔

عیب پوشی کرنے والے کی قیامت کے دن پردہ پوشی ہوگی

        محبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   کا فرمانِ عالیشان ہے : مَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَہُ اللَّہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِجوبندہ دنیا میں  کسی بندے کی پردہ پوشی کریگا  اللّٰہ   عَزَّوَجَلَّ     قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی فرما ئے  گا۔(مسلم، کتاب البر والصلۃ، باب تحریم الظلم، ص۱۳۹۴، حدیث  : ۲۵۸۰)

          مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضرت ِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ المَنّان  اِس حدیث  پاک کے تحت لکھتے ہیں  : یعنی اگر کو ئی  حیا دار آدمی ناشاءستہ حرکت خُفیہ کر بیٹھے پھر پچھتا ئے  تو تم اسے خُفیہ(یعنی پوشیدہ طور پر) سمجھا دو کہ اس کی اصلاح ہوجا ئے ، اُسے بدنام نہ کرو ، اگر تم نے ایسا کیا تو اللّٰہ تعالٰی قیامت میں  تمہارے گناہوں  کا حساب خُفیہ ہی لے لے گاتمہیں  رُسوانہ کرے گا، ہاں ! جو کسی کی اِیذا کی خفیہ تدبیریں  کر رہا ہو یا خفیہ حرکتوں  کا عادی ہوچکا ہو اُس کا اِظہار ضرورکردو تاکہ وہ شخص اِیذا(یعنی تکلیف) سے بچ جا ئے  یا یہ توبہ کرے، یہ قیدیں  ضرور خیال میں  رہیں ۔غرضکہ صرف بدنامی سے کسی کو بچانا اچھا ہے مگر اس کے خُفیہ ظلم سے دوسرے کو بچانا یا اُس کی اِصلاح کرنا بھی اچھا ہے، یہ فرق خیال میں  رہے۔یہاں (صاحبِ) مِرقات نے فرمایا کہ جو مسلمان کی ایک عیب پوشی کرے رب  تَعَالٰی  اس کی سات سو عیب پوشیاں  کریگا۔(مراٰۃ المناجیح ، ۶/ ۵۵۱)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !             صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

حکایت:44

اب وہ عورت غیر ہوچکی ہے

         کسی کی اپنی بیوی سے جنگ رہتی تھی اس کے ایک دوست نے پوچھا کہ تیری بیوی میں  خرابی کیا ہے ؟ وہ بولا کہ تم میرے اندرونی معاملات پوچھنے والے کون ہو ؟ آخر اسے طلاق دے دی، اس سا ئل  نے کہا کہ اب تو وہ تمہاری بیوی نہ رہی اب بتاؤ اس میں  کیا خرابی تھی؟ یہ بولا :  وہ عور ت غیر ہوچکی مجھے کسی غیر کے عیوب بتانے کا کیا حق ہے ؟یہ ہے پردہ پوشی۔(مرأۃ المناجیح ، ۵/ ۶۱)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !           صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

تین اعمال ضرور کرتے

        منقول ہے کہ حضرت سیدنا جبریل امینعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے بارگاہِ رسالت میں  عرض کی : یا رسول اللّٰہ!اگر ہم(فرشتے)زمین پراللّٰہ   عَزَّوَجَلَّ     کی عبادت کرتے تو تین اعمال کو ضرور بجالاتے : مسلمانوں  کو پانی پلانا، بال بچے دار شخص کی مدد کرنا اور مسلمانوں  سے ہونے والے گناہوں  کی پردہ پوشی کرنا۔(المستطرف ، ۱/ ۲۲۳)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !       صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

حکایت:45

’’ اَصَم‘‘ مشہور ہونے کی وجہ

        حضرت سیدنا ابوعلی دَقَّاق علیہ رَحمَۃُ اللّٰہ الرزّاقفرماتے ہیں  کہ حضرت سیدنا حاتم اصم علیہ رَحمَۃُ اللّٰہ الاکرمکا نام ’’اَصَم(یعنی بہرہ)‘‘ پڑنے کی وجہ یہ ہے کہ ایک عورت آپ کی خدمت میں  مس ئل ہ پوچھنے کی لئے حاضر ہو ئی  ، اسی دوران اس کی ہوا خارج ہو گئی  ۔اس پروہ عورت بہت شرمندہ ہو ئی ۔حضرت سیدنا حاتم اصم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَمنے فرمایا : ذرا اونچی آواز میں  بولو۔اس پر عورت خوش ہو گئی   اور سمجھی کہ انہوں  نے وہ آواز نہیں  سنی ہوگی ، اس کے بعد سے حضرتِ سیدنا حاتمعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کا نام اَصم پڑگیا۔(المستطرف، ۱/ ۲۴۷ملخصًا)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !             صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

 



Total Pages: 32

Go To