Book Name:Aarabi kay Sawalat aur Arabi Aaqa kay jawabat

کے مال وطعام کی حِلّت وطہارت میں ’’ شاید‘‘ پر کیوں  نہیں  عمل کرتا۔ مع ہذا اگر اِیذا نہ بھی ہُو ئی  اور اُس نے براہِ بے تکلفی بتادیا تو ایک مسلمان کی پردہ دری ہو ئی  (یعنی عیب کھل گیا)کہ شرعاً ناجا ئز۔ غرض ایسے مقامات میں  وَرع واحتیاط کی دو ہی صورتیں  ہیں  :  یا تو اس طور پر بچ جا ئے  کہ اُسے (یعنی مہمان نواز کو) اِجتناب ودامن کشی پر اطلاع نہ ہو یا سوال وتحقیق کرے تو اُن امور میں  جن کی تفتیش مُوجِبِ اِیذا نہیں  ہوتی مثلاً کسی کا جوتا پہنے ہے وُضو کرکے اُس میں  پاؤں  رکھنا چاہتا ہے دریافت کرلے کہ پاؤں  تَر ہیں  یوں  ہی پہن لوں  وَعَلٰی ہٰذَا الْقِیَاس یا کو ئی  فاسِق بیباک مجاہر مُعلِن اس درجہ وقاحت وبے حیا ئی  کو پہنچا ہوا ہو کہ اُسے نہ بتا دینے میں  باک ہو، نہ دریافت سے صدمہ گزرے ، نہ اُس سے کو ئی  فتنہ متوقع ہو نہ اظہارِ ظاہر میں  پردہ دَری ہو تو عندالتحقیق اُس سے تفتیش میں  بھی جرح نہیں  ، ورنہ ہرگز بنامِ   

ورع واحتیاط مسلمانوں  کی نفرت ووحشت یا اُن کی رُسوا ئی  وفضیحت یا تجسّسِ عیوب ومعصیت کا باعث نہ ہو کہ یہ سب امور ناجا ئز ہیں  اور شکوک وشبہات میں  ورع نہ برتنا ناجا ئز نہیں ۔ عجب کہ امرِ جا ئز سے بچنے کے  لئے چند ناروا باتوں  کا ارتکاب کرے یہ بھی شیطان کا ایک دھوکا ہے کہ اسے محتاط بننے کے پردے میں  محض غیر محتاط کردیا۔ اے عزیز!مداراتِ خَلْق واُلفت ومُوانست (یعنی لوگوں  سے اچھی طرح پیش آنا اور الفت ومحبت کا برتاؤ کرنا )اہم امور سے ہے۔ (فتاوی رضویہ مخرجہ، ۴/۵۲۶)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !             صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

حکایت :42

پرہیز گاری یا بدگمانی

        حضرت سیدنا یاقوت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  کا بیان ہے کہ ایک شخص نے میرے سامنے کھانا رکھا اور اسے کھانے پر اِصرار کیا۔میں  نے اس کھانے پر ظلمت (یعنی تاریکی)  دیکھی تو کہا : ’’یہ حرام ہے‘‘ اور نہیں  کھایا۔پھر میں  حضرت سیدنا مُرْسِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی کی خدمت میں  حاضر ہوا تو انہوں  نے ارشاد فرمایا : مریدین کی جہالت میں  سے ایک بات یہ بھی ہے کہ ان کے سامنے کھانا رکھا جا ئے  اور وہ اس کھانے پرتاریکی دیکھیں  تو کہتے ہیں  : یہ حرام ہے۔اے مسکین!تمہاری پرہیز گاری اپنے مسلمان بھا ئی  کے بارے میں  تمہاری بدگمانی کے برابر نہیں  ہے۔تم نے یہ کیوں  نہ کہا کہ اللّٰہ   عَزَّوَجَلَّ     نے میرے  لئے اِس کھانے کا ارادہ نہیں  فرمایا۔(فیض القدیر۱/ ۳۷۳، تحت الحدیث   : ۴۶۲)   

(۱۹رسوا ئی  سے بچنے کا طریقہ 

        اَعرابی کا انیسواں  سوال یہ تھا کہ میں چاہتا ہوں  کہ اللّٰہ   عَزَّوَجَلَّ     مجھے لوگوں  کے سامنے رسوا نہ فرما ئے ۔ رسولِ بے مثال، بی بی آمِنہ کے لال صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا : اپنی شرم گاہ کی حفاظت کرو ، لوگوں  کے سامنے رُسوا نہیں  ہوگے۔

کامیاب کون ؟

         اللّٰہ   عَزَّوَجَلَّ     نے فلاح کو پہنچنے والے (یعنی کامیابی کو پا لینے والے)مؤمنین کا تذکرہ کرتے ہو ئے  قرآن پاک میں ارشاد فرمایا :

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِفُرُوْجِهِمْ حٰفِظُوْنَۙ(۵) اِلَّا عَلٰۤى اَزْوَاجِهِمْ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ فَاِنَّهُمْ غَیْرُ مَلُوْمِیْنَۚ(۶) فَمَنِ ابْتَغٰى وَرَآءَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْعٰدُوْنَۚ(۷) (پ۱۸، المومنون : ۵، ۶، ۷)

 ترجمہ کنزالایمان : اور وہ جو اپنی شرم گاہوں  کی حفاظت کرتے ہیں  مگر اپنی بی بیوں  یا شرعی باندیوں  پر جو ان کے ہاتھ کی ملک ہیں  کہ ان پر کو ئی  ملامت نہیں  تو جو ان دو کے سواکچھ اور چاہے وہی حد سے بڑھنے والے ہیں ۔

شرم گاہ کی حفاظت کا مطلب

             مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ المَنّان  شرم گاہوں  کی حفاظت کا مطلب بیان کرتے ہو ئے  لکھتے ہیں  : اس طرح کہ زنا اور لوازِمِ زناسے بچتے ہیں  حتی کہ غیر کا ستر بھی دیکھتے نہیں ۔(نور العرفان ، پ۱۸، المومنون، زیر آیت : ۵)

                 صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !               صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد   

حکایت:43

یوں  بدلتے ہیں  بدلنے والے

        مکّۂ مکرَّمہزَادَہَا اللّٰہُ شَرَفًاوَّ تَعْظِیْماً      میں  ایک حسین وجمیل عورت نے ایک دن آ ئینہ دیکھتے ہو ئے  اپنے شوہر سے کہا :  تمہارا کیا خیال ہے کہ کو ئی  ایسا شخص ہوگا جو اس چہرے کو دیکھے اور فتنے میں  نہ پڑے ؟ شوہر بولا :  ہاں  ، پوچھا :  کون ؟ شوہر بولا : عُبید بن عُمیر(تابِعی) ، وہ بولی :  ایسی بات ہے تو میں  انہیں  فتنہ میں  ڈال کر دکھاؤں  ؟یوں  شوہر کی رضامندی سے وہ عورت مسجدُ الحرام میں  حضرتِ سیِّدُنا عُبید بن عُمیر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  کے پاس مس ئل ہ پوچھنے والی بن کر آ ئی  ، آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  اس عورت کو لے کر  ایک طرف ہو گئے، اچانک عورت نے اپنے چہرے سے نقاب ہٹادیا ، آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  نے فوراًفرمایا :  خدا کی بندی ! اللّٰہ   عَزَّوَجَلَّ     سے ڈر ! وہ بولی :  میں  آپ کے فتنے میں  پڑ گئی   ہوں  ، لہٰذا آپ میری پیشکش پر غور کرلیں  ۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  نے فرمایا :  میں  تجھ سے چند سوالات کرتا ہوں  ، اگر تو سچ بولے گی تو پھر میں  تیری پیشکش پر غور کروں  گا۔ بولی :  آپ جو بھی سوال کریں  گے میں  سچ ہی بولوں  گی ۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  نے فرمایا :  مجھے یہ بتاؤ کہ جس وقت مَلَکُ المَوت حضرتِ سیِّدُنا عِزْرا ئی ل عَلَیْہِ السَّلامتمہاری روح قبض کرنے آ  ئیں گے کیا اس وقت تمہیں  یہ پسند ہوگا کہ میں  تمہارا یہ کام کروں  ؟ بولی :  بالکل نہیں  ، آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  نے فرمایا :  سچ کہا ، پھر فرمایا :  جب تجھے قبر میں  ڈال دیا جا ئے  پھر تجھے سوالات کے  لئے بٹھایا جا ئے  کیا اس وقت تمہیں  یہ پسند ہوگا کہ میں  تمہارا یہ کام کروں  ؟ بولی :  بالکل نہیں  ، آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  نے فرمایا :  سچ کہا ، پھر فرمایا :  جب لوگوں  کے ہاتھوں  میں  نامہ اعمال دیا جا ئے  اور تمہیں  پتا نہ ہو کہ تمہارے سیدھے ہاتھ میں  نامہ اعمال دیا جا ئے  گا یا اُلٹے ہاتھ میں ! تو کیا اس وقت تمہیں  یہ پسند ہوگا کہ میں  تمہارا یہ کام کروں  ؟ بولی :  بالکل نہیں  ، آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  نے فرمایا :  سچ کہا ، پھر فرمایا :  جب پل صِراط سے گزرنے کا وقت آ ئے  اور تمہیں  پتہ نہ ہو کہ تم نجات پاؤ گی یا نہیں  !تو کیا اس وقت تمہیں  یہ پسند ہوگا کہ میں  تمہارا یہ کام کروں  ؟ بولی :  بالکل نہیں  ، آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  نے فرمایا :  سچ کہا ، پھر پوچھا :  جب تمہیں  میزان عمل پر لایا جا ئے  



Total Pages: 32

Go To