Book Name:Aarabi kay Sawalat aur Arabi Aaqa kay jawabat

دعا قبول نہیں  ہوتی

        میرے آقا اعلیٰحضرت کے والدِ گرامی ر ئی سُ الْمُتَکَلِّمِین حضرتِ علامہ مولیٰنا نقی علی خان علیہ رحمۃ المنان ’’ا َحسَنُ الوِعا‘‘میں  فرماتے ہیں  :  کھانے پینے لباس وکسب میں  حرام سے احتیاط کرے کہ حرام خوار وحرام کار (حرام کھانے والے اور حرام کام کرنے والے)کی دعا اکثر رَد ہوتی ہے۔(فضا ئل  دعا ، ص۶۰)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد   

چالیس دن تک قبولیت سے محروم

          ایک مرتبہ حضرت سیدناسعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  نے بارگاہِ رسالت میں  عرض کی :  ’’ یارَسُولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  !کیا وجہ ہے کہ میں  دعا کرتا ہوں  لیکن قبول نہیں  ہوتی ؟ سرکارِ دوعالَم، نورِ مجسمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   نے ارشاد فرمایا : ’’ اے سعد ! حرام سے بچو! کیونکہ جس کے پیٹ میں  حرام کا لقمہ پڑ گیا وہ چالیس دن تک قبولیت سے محروم ہوگیا۔‘‘(تنبیہ الغافلین، باب الدعا، ص۲۱۷)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !             صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

حکایت:40

 دُعاقبول نہ ہونے کاسبب

        ایک مرتبہ حضرت سیِّدُنا موسیٰ کلیمُ اللّٰہ عَلٰی نَبِیِّنا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کسی مقام سے گزرے تودیکھاکہ ایک شخص ہاتھ اٹھا ئے  رو رو کر بڑے رِقَّت انگیز انداز میں  مصروفِ دعا تھا۔ حضرت سیِّدُنا موسیٰ کلیم اللّٰہ عَلٰی نَبِیِّنا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام اسے دیکھتے رہے پھربارگاہِ خدا   عَزَّوَجَلَّ    میں  عَرْض گزار ہو ئے  :  اے میرے رحیم وکریم پروردگار!   عَزَّوَجَلَّ    تُو اپنے اس بندے کی دعا کیوں  نہیں  قبول کررہا؟ اللّٰہ   عَزَّوَجَلَّ    نے آپ عَلٰی نَبِیِّنا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کی طرف وحی نازل فرما ئی  :  اے موسیٰ!   اگر یہ شخص اتنا رو ئے ، اتنا رو ئے  کہ اس کا دَم نکل جا ئے  اور اپنے ہاتھ اتنے بلند کرلے کہ آسمان کو چھولیں  تب بھی میں  اس کی دُعا قبول نہ کرو ں  گا۔ حضرتِ سیِّدُنا موسیٰ کلیم اللّٰہ عَلٰی نَبِیِّنا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے عرض کی :  میرے مولیٰ!   عَزَّوَجَلَّ    اس کی کیا وجہ ہے ؟ارشاد ہوا :  یہ حرام کھاتا اور حرام پہنتا ہے اور اس کے گھر میں   حرام مال ہے۔ (عیون الحکایات، الحکایۃ الثانیۃ والخمسون بعد الثلاثماءۃ ، ص۲۱۳)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

مالِ حرام کا وبال

        حرام کی کما ئی  سے کوسوں  دُور رہنے میں  ہی بھلا ئی  ہے کیونکہ اس میں  ہرگز ہرگزہرگز برکت نہیں  ہوسکتی۔ایسا مال اگرچہ دنیا میں  بظاہر کچھ فا ئد ہ دے بھی دے مگر آخرت میں  وبالِ جان بن جا ئے  گا لہٰذا اس کی حِرْص سے بچنا لازِم ہے، چُنانچِہ سرکارِ عالی وقار، مدینے کے تاجدارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کافرمانِ عبرت نشان ہے :  جوشَخص حرام مال کماتا ہے اور پھر صدَقہ کرتا ہے اُس سے قَبول نہیں کیا جا ئے  گا اور اُس سے خَرچ کرے گا تو اِس کے لیے اُس میں  بَرَکت نہ ہوگی اور اسے اپنے پیچھے چھوڑ ے گا تو یہ اس کے لیے دوزخ کا زادِ راہ ہوگا۔

(شرح السنۃ، کتاب البیوع، باب الکسب، ۴ / ۲۰۵، حدیث  : ۲۰۲۳)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !      صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

حکایت:41

بے صبری کے باعث حلال روزی سے محرومی

        حضرت سیدنا علی المرتضی کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم مسجد میں  داخل ہونے لگے تو مسجد کے دروازے پر موجود ایک شخص سے ارشاد فرمایا : میرا یہ خچر پکڑ لو۔وہ شخص خچر کی لگام لیکر چلا گیا اور خچر کو وہیں  چھوڑ دیا۔حضرت سیدنا علی المرتضی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نماز سے فراغت کے بعد اس شخص  کے خچر پکڑنے کے عوض اسے دینے کے  لئے دو درہم لیکر مسجد سے باہر تشریف لا ئے  تو ملاحظہ فرمایا کہ خچر بغیر لگام کے کھڑا ہے۔آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ خچر پر سوار ہوکر گھر تشریف لا ئے  اور اپنے غلام کو وہ دو درہم دے کر لگام خریدنے کے  لئے بھیجا۔غلام بازارسے وہی لگام خرید کر لایا جسے چور نے دو درہم کے عوض فروخت کیا تھا۔ حضرت سیدنا علی المرتضی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمنے ارشاد فرمایا : بے شک بندہ بے صبری کرکے اپنے آپ کو حلال روزی سے محروم کردیتا ہے اور اس کے باوجود اپنے مقدرسے زیادہ حاصل نہیں  کرپاتا۔(المستطرف، ۱/ ۱۲۴)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !           صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

کسی کے کھانے کے بارے میں  تفتیش نہ کی جا ئے  

         اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  فرماتے ہیں  : شرعِ مطہر میں  مصلحت کی تحصیل سے مُفْسِدہ (یعنی نقصان دہ چیز)کا اِزالہ مُقَدَّم تَر ہے مثلاً مسلمان نے دعوت کی (اور)یہ اس کے مال وطعام کی تحقیقات کر رہے ہیں  کہاں  سے لایا؟ کیونکر پیدا کیا؟ حلال ہے یا حرام؟ کو ئی  نجاست تو اس میں  نہیں  ملی ہے ؟کہ بیشک یہ باتیں  وحشت دینے والی ہیں  اور مسلمان پر بدگمانی کرکے ایسی تحقیقات میں  اُسے اِیذا دینا ہے خصوصاً اگر وہ شخص شرعاً معظم ومحترم ہو، جیسے عالمِ دین یا سچا مرشد یا ماں  باپ یا استاذ یا ذی عزت مسلمان سردارِ قوم تو اِس نے (تحقیقات کر کے) اور بے جا کیا، ایک تو  بدگمانی دوسرے مُوحِش (یعنی وحشت میں  ڈالنے والی) باتیں  ، تیسرے بزرگوں  کا ترکِ ادب۔ اور (یہ خواہ مخواہ کا متقی بننے والا) یہ گمان نہ کرے کہ خفیہ تحقیقات کر لوں  گا، حاشا وکلّا!اگر اسے خبر پہنچی اور نہ پہنچنا تعجب ہے کہ آج کل بہت لوگ پرچہ نویس (یعنی باتیں  پھیلانے والے)ہیں  تو اس میں  تنہا بَررُو (یعنی اکیلے میں  اس سے) پوچھنے سے زیادہ رنج کی صورت ہے کَمَاھُوَ مُجَرَّبٌ مَعْلُوْمٌ(جیسا کہ تجربہ سے معلوم ہے۔ ت) نہ یہ خیال کرے کہ احباب کے ساتھ ایسا برتاؤ برتوں  گا ہیہات اَحِبّا (دوستوں  )کو رنج دینا کب روا ہے؟ اور یہ گمان کہ شاید اِیذا نہ پا ئے  ، ہم کہتے ہیں  شاید اِیذا پا ئے ، اگر ایسا ہی ’’شاید‘‘  پر عمل ہے تو اُس



Total Pages: 32

Go To