Book Name:Aarabi kay Sawalat aur Arabi Aaqa kay jawabat

        راویٔ حدیث  حضرت سیدنا عبداللّٰہ بن عون رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  غصہ نہیں  فرماتے تھے، کو ئی  آپ کو غصہ دلانے کی کوشش کرتا تو ارشاد فرماتے :   بَارَکَ اللّٰہُ فِیْکَ اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ   تمہیں  برکت عطا فرما ئے ۔(سیر اعلام النبلاء ، ۶/ ۵۱۳)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                   صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

بہتر کون اور بُرا کون؟

         سرکارِنامدار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا : آدمیوں  میں  سے بعض کو جلد غصہ آتا اور جلد چلا جاتا ہے پس ایک دوسرے کے ساتھ ہے ۱؎    ان میں  سے بعض کو دیر سے غصہ آتا اور دیر سے جاتا ہے پس ایک دوسرے کے ساتھ ہے[1]؎    تم میں  سے بہتر وہ ہیں  جن کو دیر سے غصہ آ ئے  اور جلد چلا جا ئے  اور تم میں  سے بُرے وہ ہیں  جن کو جلدی غصہ آ ئے  اور دیر سے جا ئے ۔(مشکوٰۃ، کتاب الآداب، باب الامر بالمعروف، ۲/ ۲۳۹، الحدیث   : ۵۱۴۵)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !            صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

حکایت:36

بے نظیر و بے مثال بُردباری

        حضرت سیِّدُنااَحنف بن قیس رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ   سے پوچھا گیا کہ آپ نے بُردباری کہاں  سے سیکھی ہے ؟ فرمایا :  حضرت سیِّدُنا قیس بن عاصم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے۔ پوچھا گیا :  وہ کس قدر بُردبار تھے ؟ فرمایا :  ایک مرتبہ وہ اپنے گھر میں  بیٹھے تھے کہ ایک لونڈی ان کے پاس سیخ لا ئی  جس پربُھنا ہوا گوشت تھا ،  وہ ا س کے ہاتھ سے گر کر آپ کے ایک چھوٹے صاحبزادے پر جاگری ، جس کے باعث اس کا اِنتقال ہوگیا ۔ لونڈی یہ دیکھ کر ڈر گئی   تو اُنہوں  نے فرمایا :  ڈرنے کی ضرورت نہیں  ! میں  نے تجھے اللّٰہ   عَزَّوَجَلَّ     کی رِضا کے  لئے آزاد کیا ۔ 

 (احیاء علوم الدین، کتاب ریاضۃ النفس، بیان علامات حسن الخلق، ۳/ ۸۸)

اللّٰہ   عَزَّوَجَلَّ     کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !               صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

حکایت:37

یہ بڑھاپے کی وجہ سے ہے

        ایک بوڑھے آدمی نے کسی طبیب سے کہا کہ میری نگاہ موٹی ہوگئی ہے، طبیب نے کہا : بڑھاپے کی وجہ سے، وہ بولا :  اونچا سننے لگا ہوں ، جواب ملا :  بڑھاپے کی وجہ سے، بولا :  کمر ٹیڑھی ہو گئی   ہے، کہا :  بڑھاپے کی وجہ سے، آخر میں  بوڑھا بولا کہ جاہل طبیب! تجھے بڑھاپے کے سوا کچھ نہیں  آتا؟ جواب ملا : یہ بے موقعہ غصہ بھی بڑھاپے کی وجہ سے ہے۔(مرقات)

(مراۃ المناجیح ، ۶/ ۲۲۴)

حکایت:38

گناہ سے نفرت ہے گناہگار سے نہیں

        مروی ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا ابو دَرْداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کا ایک شخص کے پاس سے گزر ہوا جس نے کو ئی  گناہ کیا تھا اور لوگ اسے بُرابھلا کہہ رہے تھے ۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  نے لوگوں  سے ارشاد فرمایا :  تمہارا کیا خیال ہے اگر تم اس آدمی کو کسی کنویں  میں  گرا ہوادیکھو تو اسے نکالو گے نہیں  ؟ وہ بولے :  بالکل نکالیں  گے ۔ فرمایا :  تو اپنے بھا ئی  کو برا بھلا مت کہو اور اللّٰہ   عَزَّوَجَلَّ     کاشکر کرو کہ اس نے تمہیں  اس گناہ سے محفوظ رکھا ! وہ بولے :  کیا آپ کو یہ بُرا نہیں  لگ رہا ؟ فرمایا :  مجھے صرف اس کے عمل سے نفرت ہے اگر وہ برے کام چھوڑ دے تو میرا بھا ئی  ہے ۔

(منہاج القاصدین، کتاب الامر بالمعروف، ص۵۲۴)

حکایت:39

بُردباری ہر درد کی دوا ہے

        کسی عقل مند کے پاس اُس کا ایک دوست گیا توعقل مندنے اُس کے سامنے کھانا رکھا ، اس کی بیوی انتہا ئی  بداَخلاق تھی ، اس نے آکر دسترخوان اٹھایا اور اپنے شوہر کو برا بھلا کہنا شروع کر دیا ، دوست یہ معاملہ دیکھ کر غصے کی حالت میں  باہر نکل گیا ، عقل منداُس کے پیچھے گیا اور کہا :  اس دن کو یادکرو جب ہم تمہارے گھر میں  کھانا کھارہے تھے اور ایک مرغی دسترخوان پر آ گری تھی جس نے سارا کھانا خراب کردیا تھالیکن ہم میں  سے کسی کو بھی غصہ نہ آیا تھا ۔ دوست نے کہا :  ہاں  بات تو یہی ہے ۔ عقل مندنے کہا :  اِس عورت کو بھی اُس مرغی کی طرح سمجھو ۔ چنانچہ دوست کا غصہ ختم ہوگیا ، واپس لوٹااور کہنے لگا :  کسی دانِش وَر نے سچ کہا ہے کہ بُردباری ہر درْد کی دواہے ۔  (احیاء علوم الدین، کتاب ذم الغضب، بیان فضیلۃ الحلم، ۳/ ۲۲۱)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !             صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(۱۸حرام نہ کھاؤ

        اَعرابی کا اٹھارھواں  سوال یہ تھا کہ دعاؤں  کی قبولیت چاہتا ہوں  ۔ سرکارِ عالی وقار، مدینے کے تاجدارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا : حرام سے بچو، تمہاری دعا  ئیں قبول ہوں  گی۔

 



1     یعنی ان دونوں خصلتوں(غصے کا جلدی آنا اور جلدی چلے جانا)میں سے ہر ایک دوسرے کے مقابلے میں ہے لہٰذا ان کا فاعل(جسے غصہ جلد آتا اور جلد چلا جاتا ہے) عقلی طور پرتعریف یا مذمت کا مستحق نہیں کیونکہ اس میں دونوں حالتیں برابر ہیں لہٰذا نہ تو اسے دیگر لوگوں سے اچھا کہا جاسکتا ہے اور نہ ہی برا۔(مرقاۃ ، کتاب الاٰداب،باب الامر بالمعروف،۸/۸۷۷،تحت الحدیث: ۵۱۴۵)



Total Pages: 32

Go To