Book Name:Aarabi kay Sawalat aur Arabi Aaqa kay jawabat

        ہر وَقْت باوُضو رہنا بڑی سعادت کی بات ہے اور یہ زیادہ مشکل بھی نہیں  ، صِرْف یہ کرنا ہوگا کہ جب بھی وُضو ٹوٹ جا ئے  دوبارہ کرلیا جا ئے  ، رفتہ رفتہ عادت بن ہی جا ئے  گی لیکن ہر بار نیت کرنا نہ بھو لئے گا۔مدینے کے تاجدار  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے حضرتِ سیِّدُنا انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے فرمایا : بیٹا! اگر تم ہمیشہ باوُضو رہنے کی اِستِطاعت رکھو تو ایسا ہی کرو کیونکہ ملکُ الموت جس بندے کی روح حالتِ وُضو میں  قبض کریں  اُس کی لئے شہادت لکھ دی جاتی ہے۔  (شُعَبُ الْاِیمان، ۳/ ۲۹ : حدیث ۲۷۸۳)

     اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن     فرماتے ہیں  : ہر وقت باوضو رہنا ہرحَدث (یعنی وضو توڑنے کا سبب پا ئے  جانے)کے بعد معاً (یعنی فوراً)وضو کرنا مُستحَب ہے۔(فتاوٰی رضویہ ، ۱/ ۷۰۲)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                 صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

’’احمد رضا‘‘ کے سات حُرُوف کی نسبت سے ہر وَقْت باوُضو رہنے  کے   سات فضا ئل  

امامِ اہلسنّت امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن  فرماتے ہیں  :  بعض عارِفین  (رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن)نے فرمایا : جو ہمیشہ باوُضو رہے اللّٰہ  تَعَالٰی  اُس کو سات فضیلتوں  سے مُشرّف فرما ئے  : (1) ملاءکہ اس کی صُحبت میں  رَغبت کریں  (2) قَلم اُس کی نیکیاں  لکھتا رہے(3) اُس کے اَعضاء تسبیح کریں  (4) اُس سے تکبیرِ اُولیٰ فوت نہ ہو (5)جب سو ئے  اللّٰہ  تَعَالٰی  کچھ فِرِشتے بھیجے کہ جِنّ و انس کے شَر سے اُس کی حِفاظت کریں  (6)سکراتِ موت اس پر آسان ہو(7) جب تک باوُضو ہو اَمانِ الٰہی میں  رہے ۔       (فتاوٰی رضویہ مخرجہ ، ۱/ ۷۰۲)

دے شوقِ تلاوت دے ذَوقِ عبادت

   رہوں  بَاوُضو میں  سدا یاالٰہی      (وسا ئل  بخشش ، ص۱۰۲)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

حکایت:35

رِزْق میں  بَرَکت کا بے مثال وظیفہ

        شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  اپنے رسالے ’’چڑیا اور اندھا سانپ‘‘ کے صفحہ 27پر لکھتے ہیں  : ایک صَحابی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے عرض کی : یارَسُولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ! دنیا نے مجھ سے پیٹھ پھیرلی ۔ فرمایا :  کیا وہ تسبیح تمہیں  یا دنہیں  جو تسبیح ہے فرشتوں  اور مخلوق کی جس کی بَرَکت سے روزی دی جاتی ہے، جب صبحِ صادق طلوع ہو تو یہ تسبیح ایک سو بار پڑھا کرو، سُبْحٰنَ اللّٰهِ وَ بِحَمْدِهٖ سُبْحٰنَ اللّٰهِ الْعَظِیْمِ ، اسْتَغْفِرُوا اللّٰهَؕ   دنیا تیرے پاس ذلیل ہو کر آ ئے  گی۔ وہ صحابی چلے  گئےکچھ مدّت ٹھہر کر دوبارہ حاضر ہو ئے ، عرض کی :  یارَسُولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ! دنیا میرے پاس اس کثرت سے آ ئی ، میں  حیران ہوں  ، کہاں  اُٹھا ؤ ں  کہاں  رکھوں  !  (الخصاءصُ الکُبرٰی ج۲ص۲۹۹ مُلَخّصاً)

اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں  :  اس تسبیح کا وِرْد  حتَّی الامکان طُلُوع صبحِ صادِق کے ساتھ ہو ، ورنہ صبح سے پہلے ، جماعت قائم  ہوجا ئے  تو اُس میں  شریک ہوکر بعد کوعَدَد پورا  کیجئے  اور جس دن قبلِ نماز بھی نہ ہوسکے تو خیر طُلُوعِ شمس (یعنی سورج نکلنے )سے پہلے۔ (ملفوظات ِ اعلیٰ حضرت ص ۱۲۸  مُلَخّصاً)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !          صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

کاروبار چمکانے کا نُسخہ

        بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِکاغذ پر35 بار  لکھ کر گھرمیں  لٹکا دیج ئے ، اِنْ شَآءَاللہ     عَزَّ وَجَلَّ شیطان کا گزر نہ ہوگا اور (رزق حلال میں ) خوب بَرَکت ہوگی، اگر دکان میں  لٹکا  ئیں گے اور جا ئز کاروبار ہواتو اِنْ  شَآءَاللہ  عَزَّ وَجَلَّ خوب چمکے گا۔    (شمس المَعارِف الکبری ولطاءف العوارف  ص۳۸)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !               صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(۱۶اللّٰہ ورسول کا محبوب

        اَعرابی کا سولہواں  سوال یہ تھا کہ اللّٰہ ورسول(  عَزَّوَجَلَّ    وصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  ) کا محبوب بننا چاہتا ہوں ۔ سرکارِ عالی وقار، مدینے کے تاجدارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا :  اللّٰہ ورسول کی محبوب چیزوں  کو محبوب اور ناپسند چیزوں  کو ناپسند رکھو۔

اللّٰہ و رسول   عَزَّوَجَلَّ    و صلَّی اللّٰہ علیہ وسلَّم کے محبوب و پسندیدہ بندے

        یوں  تو ہر نیک کام کرنے والا اللّٰہ ورسول  عَزَّوَجَلَّ    وصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا پسندیدہ ہے ، مگر قرآن واحادیث میں جن افراد کو خصوصیت کے ساتھ پسند کا بندہ قرار دیا گیا ہے ان میں  سے بعض یہ ہیں  : ٭توکُّل کرنے والا(پ۴، آلِ عمران :  ۱۵۹) ٭انصاف کرنے والا(پ۶، الما ئد ہ :  ۴۲)٭متقی و پرہیزگار (پ۱۰، التوبۃ : ۴) ٭تمام معاملات میں  نرمی سے کام لینے والا( بخاری، ۴/ ۱۰۶، حدیث  : ۶۰۲۴)٭گوشہ نشین( مسلم، ص