Book Name:Aarabi kay Sawalat aur Arabi Aaqa kay jawabat

آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  نے فرمایا :  ہم اپنے پڑوسی کا بھی احترام کرتے ہیں  ، جب تک ان انڈوں  سے بچے نکل کر اُڑنے کے قابل نہ ہوجا  ئیں اس کو باقی رکھو ۔ پھر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  نے کسی کو اس خیمے کی حفاظت پر مقرر بھی کردیا اور اِسْکَنْدَرِیہ جنگ کے  لئے روانہ ہو گئےاور اُسے فتح کرلیا ، جنگ سے فراغت کے بعد آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  نے اپنے ساتھیوں  سے پوچھا کہ کہاں  ٹھہرنے کا ارادہ ہے ؟ وہ بولے :  آپ کے اسی خیمے پر ہی واپس چلتے ہیں  کیونکہ وہاں  پانی بھی ہے اور وسیع صحرا بھی ، اس کے بعد وہ سب وہیں  لوٹ آ ئے  اور ہر قوم نے حد بندیاں  کر کے گھر بنانا شروع کرد ئی ے ، (یوں  یہ شہر آباد ہوا )  اور اس کا نام’’فُسْطَاطْ‘‘ (خیمہ) رکھ دیا گیا ۔ (آثار البلاد و اخبار العباد، ۱/ ۲۳۶)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !           صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

حکایت:29

تینوں  روٹیاں  کتے کو کِھلا دیں  

         ایک مرتبہ حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن جعفر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اپنی زمین کو دیکھنے نکلے ۔راستے میں  ایک باغ سے گزرے تو آپ نے دیکھا وہاں  ایک سیاہ فام غلام کام کررہا ہے۔ جب اس کا کھانا آیا تو اسی وقت ایک کتابھی باغ میں  داخل ہوا اور غلام کے قریب ہو گیا۔غلام نے ایک روٹی اس کے سامنے ڈال دی، کتے نے وہ کھالی پھر دوسری ڈالی تووہ بھی اس نے کھالی غلام نے تیسری روٹی بھی ڈال دی تو کتا وہ بھی کھا گیا ۔ حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن جعفر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ یہ سب کچھ مُلاحَظہ فرمارہے تھے۔ آپ نے غلام سے پوچھا : تمہیں  دن میں  کتنا کھانا ملتا ہے؟ اس نے کہا :  وہی کچھ جو آپ نے دیکھا۔ پوچھا :  تم نے سارا کھانا اس کتے کو کیوں کھلا دیا؟ اس نے کہا :  اس علاقے میں  کتے نہیں  ہوتے یہ کہیں  دور سے آیا تھا اوربھوکاتھا ، مجھے اچھا نہیں  لگا کہ میں  پیٹ بھرکر کھاؤں  اور یہ بھوکا رہے ۔آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  نے فرمایا :  پھرتم آج کیا کرو گے؟ اس نے کہا :  بھوکا رہوں  گا۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے سوچا یہ غلام تومجھ سے بھی زیادہ سخی ہے ، چنانچہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  نے باغ، باغبانی کے آلات اور غلام سب کوخریدلیا پھرغلام کو آزادکرکے سب کچھ اسی کو دے دیا۔  (احیاء علوم الدین، کتاب ذم البخل، بیان الایثار وفضلہ، ۳/ ۳۱۸)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !       صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(۱۳گناہوں  میں  کمی کیسے ہو؟

        اَعرابی کا تیرھواں  سوال یہ تھا کہ گناہوں  میں  کمی چاہتا ہوں ۔ رسولِ بے مثال، بی بی آمِنہ کے لال صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا :  استغفار کرو، گناہوں  میں  کمی ہوگی۔

اِستغفار اور توبہ میں  فرق

         مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّانلکھتے ہیں  : گزشتہ گناہوں  پر ندامت وشرمندگی اور آئندہ گناہوں  سے بچنے کا اِرادہ توبہ ہے اور معافی چاہنا اِستغفار۔ہم لوگ گناہ کرکے توبہ کرتے ہیں  اور خاص بندے گناہ نہیں  کرتے اور توبہ کرتے ہیں ، خا ص الخاص نیکیاں  کرتے ہیں  اور توبہ کرتے ہیں  کہ خدایا! تیری شان کے لائق ہم سے نیکی نہ ہوسکی۔شعر   

زاہداں  اَز گناہ توبہ کُنَنْدْ          عارفاں  اَز اطاعت اِستغفار

        (نیک لوگ گناہوں  سے جبکہ معرفت رکھنے والے اپنی نیکیوں  سے توبہ کرتے ہیں )   (مراۃ المناجیح، ۲/ ۳۴)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !       صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

حکایت:30

گناہ کیسے گن لیتے تھے؟

        ہمارے اَسلاف رَحِمَہُمُ اللّٰہُ تعالٰی اپنے گناہوں  کی قلت کے سبب انہیں  گِن کر رکھتے تھے۔حضرت سیدنا ریاح القیسی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی  فرماتے ہیں  :  میرے چالیس سے کچھ زیادہ گناہ ہیں  اور میں  نے ہر گناہ کی لئے ایک لاکھ مرتبہ اِستغفار کیا ہے۔حضرت سیدنا امام ابن سِیرینعلیہ رحمۃ اللّٰہ المبین مقروض ہو گئےتو آپ نے ارشاد فرمایا : میں  نے چالیس سال پہلے ایک گناہ کا ارتکاب کیا تھا یہ اس کی سزا ہے، میں  نے ایک شخص کو ’’اے مُفْلِس‘‘کہہ دیا تھا۔حضرت سیدنا ابوسلیمان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ المَنّان  سے اس بات کا ذکر کیا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا : ان حضرات کے گناہ تھوڑے ہوتے تھے اس  لئے انہیں  پتہ چل جاتا تھا کہ یہ مصیبت کس گناہ کے باعث آ ئی  ہے جبکہ ہم لوگوں  کے گناہ کثیر ہیں اس  لئے ہمیں  اس بات کا پتہ نہیں  چلتا ۔(رسا ئل  ابن رجب، ۱/ ۳۶۴ )

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !          صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

حکایت:31

چار مسا ئل  کا ایک ہی حل

        حضرتِ سیِّدُنا حسن بصری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  کی خدمت میں  ایک شخص نے آکر قحط سالی کی شکایت کی تو آپ نے فرمایا :  اِستغفار کرو ۔ دوسرے نے غربت و اِفلاس کی شکایت کی تو فرمایا :  اِستغفار کرو ! ، تیسرے نے نرینہ اولاد کے  لئے دعا کی عرض کی ، فرمایا :  اِستغفار کرو ۔ چوتھے شخص نے آکر اپنے باغ کے خشک ہوجانے کا ذکر کیا تو بھی آپ نے فرمایا :  اِستغفار کرو ۔ کسی نے پوچھا :  آپ کے پاس چار آدمی الگ الگ مسئلہ لے کر آ ئے  اور آپ نے سب کو اِستغفار کا حکم دیا ؟ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا :  میں  نے اپنی طرف سے تو کو ئی  بات نہیں  کہی ، اللّٰہ   عَزَّوَجَلَّ     سورہ نوح میں  ارشاد فرماتا ہے :  

اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْؕ-اِنَّهٗ كَانَ غَفَّارًاۙ(۱۰) یُّرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَیْكُمْ مِّدْرَارًاۙ(۱۱) وَّ یُمْدِدْكُمْ بِاَمْوَالٍ وَّ بَنِیْنَ وَ یَجْعَلْ لَّكُمْ جَنّٰتٍ وَّ یَجْعَلْ لَّكُمْ اَنْهٰرًاؕ(۱۲)   (پ۲۹، النوح :  ۱۰)

ترجمہ کنز الایمان :  اپنے رب سے معافی مانگو، بے شک وہ بڑا معاف فرمانے والا ہے، تم پر شرّاٹے کا مینھ (یعنی موسلا دھار بارش) بھیجے گا ، اور مال اور بیٹوں  سے تمہاری مدد کرے گا، اور تمہارے  لئے باغ بنادے گا اور تمہارے  لئے نہریں  بنا ئے  گا ۔    (الجامع لاحکام القران، پ۲۹، النوح، تحت الآیۃ : ۱۰، ۹/ ۲۲۲، جزء : ۱۸)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !            صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

 



Total Pages: 32

Go To