Book Name:Aarabi kay Sawalat aur Arabi Aaqa kay jawabat

حکایت:26

نماز جاری رکھی

        حضرتِ سیِّدُنامَیْمون بن مَہْران رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  فرماتے ہیں  :  میں  نے حضرتِ سیِّدُنا مسلم بن یَسار رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  کو کبھی نماز میں  اِدھر اُدھر متوجہ نہیں  دیکھا۔ ایک مرتبہ مسجد کا ایک حصہ زمین پر تشریف لے آیا تو بازار والے چیخ و پکار کرنے لگے ، آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  اس وقت اسی مسجد میں  تھے لیکن آپ نے نماز جاری رکھی ۔    (منہاج القاصدین، کتاب اسرار الصلاۃ، ص۱۱۷)

اللّٰہ   عَزَّوَجَلَّ     کی ان دونوں  پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                     صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(۸)اپنے اخلاق اچھے کرلو

        اَعرابی کا آٹھواں  سوال یہ تھا کہ میں  کامِل ایمان والا بننا چاہتا ہوں ۔ سرکارِ عالی وقار، مدینے کے تاجدارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا : اپنے اخلاق اچھے کر لو، کامل ایمان والے بن جا ؤگے۔

کامل ایمان والا

         سرورِ کا ئنات، شاہِ موجوداتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا :  مسلمانوں  میں  بڑے کامل ایمان والا وہ ہے جو سب سے اچھے اخلاق والا اوراپنے بال بچوں  پر مہربان ہو۔

(ترمذی، کتاب الایمان ، باب ما جاء فی استکمال الایمان، ۴ / ۲۷۸، حدیث  : ۲۶۲۱)

            مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ المَنّان  اِس حدیث  پاک کے تحت لکھتے ہیں  : مؤمن کا تعلق خالق سے بھی ہے مخلوق سے بھی، خالق سے عبادات کا تعلق ہے مخلوق سے معاملات کا، عبادات دُرُست کرنا آسان ہے مگر معاملات کا سنبھالنا بہت مشکل ہے اسی  لئے یہاں  خلیق شخص کو کامل ایمان والا قرار دیا، پھر اجنبی لوگوں  سے کبھی کبھی واسطہ پڑتا ہے مگر گھر والوں  سے ہر وقت تعلق رہتا ہے ، ان سے اچھا برتاواکرنا بڑاکمال ہے ، اسلام مکمل انسانیت سکھاتا ہے۔(مراٰۃ المناجیح، ۵ / ۱۰۱)

ایک اور مقام پر مفتی صاحب لکھتے ہیں  :  اچھی عادت سے عبادات اور معاملات دونوں  دُرُست ہوتے ہیں ، اگر کسی کے معاملات تو ٹھیک مگر عبادات درست نہ ہوں  یا اس کے اُلٹ ہو تو وہ اچھے اخلاق والا نہیں ۔خوش خلقی بہت جامع صفت ہے کہ جس سے خالق اور مخلوق سب راضی رہیں  وہ خوش خلقی ہے۔(مراٰۃ المناجیح، ۶ / ۶۵۲)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !          صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

ادب واخلاق سیکھتے تھے

        منقول ہے کہ حضرت سیدنا امام احمد بن حنبل رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  کی مجلس میں  پانچ ہزار یا اس سے بھی زیادہ اَفراد حاضر ہوتے تھے جن میں  سے پانچ سو کے لگ بھگ حدیث یں  لکھتے تھے جبکہ باقی افراد آپ سے آداب اور اخلاقیات سیکھا کرتے تھے۔ (سیر اعلام النبلاء، ۹/ ۵۲۱)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !           صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

 (۹)  فرا ئض  کا اہتمام کرو

        اَعرابی کا نواں  سوال یہ تھا کہ ( اللّٰہ   عَزَّوَجَلَّ     کا)فرمانبردار بننا چاہتا ہوں ۔ تاجدارِ مدینہ سُرورِ قلب وسینہ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا :  اللّٰہ   عَزَّوَجَلَّ     کے فرا ئض [1]؎   کا اہتمام کرو، اس کے مطیع( وفرمانبردار) بن جا ؤگے۔

نماز، روزہ ، زکوٰۃ اورحج کی اہمیت

         حضرت سیدنا عبدُاللّٰہ بن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  ما سے روایت ہے کہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا :  اسلام پانچ چیزوں  پرقائم  کیا گیا : اس کی گواہی کہ اﷲکے سوا کو ئی  معبود نہیں محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)اس کے بندے اور رسول ہیں ، نمازقائم  کرنا، زکوۃ دینا، حج کرنااور رمضان کے روزے۔

(مسلم، کتاب الایمان، باب بیان ارکان الاسلام، ص۲۷، حدیث  : ۲۱)

             مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ المَنّان  اِس حدیث  پاک کے تحت لکھتے ہیں  : یعنی اسلام مثل خیمہ یاچھت کے ہے اور یہ پانچ ارکان اس کے پانچ ستونوں  کی طرح کہ جو کو ئی  ان میں  سے ایک کا انکار کرے گا وہ اسلام سے خارِج ہوگا، اور اس کا اسلام مُنْہَدِم ہوجا ئے  گا۔خیال رہے کہ ان اعمال پر کمالِ ایمان موقوف ہے اور ان کے ماننے پر نفسِ ایمان موقوف، لہٰذا جوصحیح العقیدہ مسلمان کبھی کلمہ نہ پڑھے یانماز روزہ کا پابند نہ ہو، وہ اگرچہ مؤمن تو ہے مگر کامل نہیں ، اور جو اِن میں  سے کسی کا انکارکرے وہ کافر ہے۔(مراۃ المناجیح، ۱/ ۲۷)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !        صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

مقامِ فکر

      آج دنیا میں  مسلمانوں  کی اکثریت شرعی احکام پر عمل کے معاملے میں  بے حد غفلت وسستی کا شکار ہے ۔عبادات کو ہی لے لیجئے کہ نماز وروزہ وغیرہ کی ادا ئی گی میں  جس طرح کوتاہی کی جاتی ہے اس کا اندازہ بارونق مقام پر کسی بھی مسجدمیں  نمازیوں  کی تعداد کو دیکھ کر لگایا جاسکتا ہے یا پھر دورانِ رمضان ’’دن دہاڑے ‘‘ ہوٹلوں  وغیرہ میں  بلاعذر شرعی روزہ نہ رکھنے والے’’روزہ خوروں ‘‘کی



1  فرائض اللّٰہ سے مراد نماز ،روزہ ، زکوۃاور حج ہے ۔ (انظر :بہشت کی کنجیاں،ص۱۶۸)لسان العرب میں لفظِ فرض کے تحت ہے: وفَرائضُ اللّٰہِ حُدودُہ التی أَمرَ بہا ونہَی عنہافرائض اللّٰہ سے مراداللّٰہ  عَزَّوَجَلّ َکی وہ حدود ہیں جن کا اس نے حکم دیا اور منع فرمایا ہے۔(لسان العرب،۲/۳۰۱۰)



Total Pages: 32

Go To