Book Name:Aarabi kay Sawalat aur Arabi Aaqa kay jawabat

نے نجات پا ئی  ۔ تو جب ڈھیلے پہاڑ بن کر حا ئل  ہو گئےتو یہ تو پہاڑ ہیں  ۔

        یہ سن کر سب لوگ بآوازِ بلند کلمۂ شہادت پڑھنے لگے ، مسلمانوں  کی زبان سے کلمہ شریف کی صدا بلند ہوکر پہاڑوں  میں  گونج  گئی   ۔(ملفوظات ِ اعلی حضرت ، ص۳۱۳ بتصرف)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !          صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

   

حکایت:23

اپنے ایمان پر گواہ بنایا ہے

        شہزادۂ عطّار مولانا الحاج ابو اُسید، عبید رضا عطَّار ی مدنی مدظلہ العالیفرماتے ہیں  :  صفر المظفَّر۱۴۱۸ھ میں  متحِدہ عَرَب اَمارات کے قِیام کے دوران شارجہ میں  ایک بار میں  نے راہ چلتے ہو ئے  دیکھا کہشیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت بانئ    دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطارؔ قادری دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  ایک دَرَخت کے نیچے کھڑے ہو گئےاور باآواز بُلند کلمۂ طیبہ پڑھا، اس پر میں  نے اِستفسار کیا : آپ نے ابھی دَرَخْت کے نیچے کلمۂ پاک پڑھا، اس میں  کیا حِکمت تھی؟ فرمایا :  اَ لْحَمْدُللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ   !  میں  نے اس درخت کو بُلند آواز سے کلمۂ طیبہ سنا کر اپنے ایمان پر گواہ بنایا ہے۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !           صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

حکایت:24

وسوسے کا علاج

        حضرت سیِّدُناعمربن عبدالعزیز  علیہ رَحمَۃُ اللّٰہ العزیز سے مروی ہے کہ ایک شخص نے  اللّٰہ   عَزَّوَجَلَّ     کی بارگاہ میں  سوال کیا کہ وہ اسے انسان کے دل میں  شیطان کی جگہ دکھا  ئے  تو اس شخص نے خواب میں  ایک شخص کاجسم دیکھاجوشیشے کی مثل تھااوراس کے آر پار دیکھا جا سکتا تھا۔پھر اس نے ایک مینڈک کی شکل میں  اس (جسم) کے با  ئیں کندھے اور کان کی درمیانی جگہ پرشیطان کو بیٹھے ہو ئے  پایاجس نے اپنی لمبی تھوتھنی(منہ اورناک) با  ئیں کندھے کی جانب سے اس شخص کے دل تک داخل کر رکھی تھی اور وسوسے ڈال رہا تھا اورجب وہ بندہ  اللّٰہ   عَزَّوَجَلَّ     کا ذکر کرتا تو وہ پیچھے ہٹ جاتا۔(الحدیقۃ الندیۃ ، ۱/ ۴۰)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !           صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

جانور بھی  ذکرُاللّٰہ  کرنے والے ہوتے ہیں

        سرکارِ ابد قرار، شافعِ روزِ شمارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کافرمانِ عالیشان ہے : ان جانوروں  پر اچھی طرح سواری کرو اور ان سے اُترجا ؤ ، راستوں  اور بازاروں  میں  گفتگو کرنے کے  لئے انہیں کرسی نہ بنالوکیونکہ ک ئی  سواری کے جانور اپنے سوار سے بہتر اوراللّٰہ   عَزَّوَجَلَّ      کا زیادہ ذکر کرنے والے ہوتے ہیں ۔(جامع الاحادیث، ۱/ ۴۰۴، حدیث  : ۲۷۶۵)

        حضرت علامہ عبدالرء ُوف  مناوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْھَادِی اس حدیث  کے تحت لکھتے ہیں  : جانور بھی ذکرُاللّٰہ کرتے ہیں  جیسا کہ فرمانِ باری  تَعَالٰی  ہے :

وَ اِنْ مِّنْ شَیْءٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمْدِهٖ          (پ۱۵، بنی اسرا ئی ل : ۴۴)

ترجمہ کنزالایمان : اور کو ئی  چیز نہیں  جو اسے سراہتی ہو ئی  اس کی پاکی نہ بولے۔(فیض القدیر، ۱/ ۶۱۱، تحت الحدیث   : ۹۵۳)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !          صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(۷) نیک بننے کا نسخہ

        اَعرابی کا ساتواں  سوال یہ تھا کہ اچھا اور نیک بننا چاہتا ہوں  ۔ رسولِ بے مثال، بی بی آمِنہ کے لال صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا :  اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ   کی عبادت یوں  کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہواور اگر تم اسے نہیں  دیکھ رہے تو وہ تو تمہیں  دیکھ ہی رہا ہے۔

             مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّانلکھتے ہیں  :  کہ اگر تُو خداکودیکھتا ہے توتیرے دل میں  کس درجہ اس کاخوف ہوتااورکس طرح توسنبھل کرعمل کرتا، ایسے ہی خوف کیسا تھ دل لگا کر دُرُست عمل کر۔یوں  تو ہر وقت ہی سمجھو کہ رب تمہیں  دیکھ رہا ہے مگر عبادت کی حالت میں  تو خاص طور پر خیال رکھو، تو اِنْ  شَآءَاللہ (  عَزَّوَجَلَّ   ) عبادت آسان ہوگی، دل میں  حضور وعاجزی پیدا ہوگی، آنکھوں  میں  آنسو آ  ئیں گے، اﷲ (  عَزَّوَجَلَّ   )ہم سب کو نصیب کرے۔آمین !(مراٰۃ المناجیح، ۱ / ۲۶)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !              صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

حکایت:25

سجدہ ہو تو ایسا !

        صحابیٔ رسول حضرتِ سیِّدُنا عبداللّٰہ بن زُبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  جب نماز پڑھتے تو خشوع وخضوع کی بناء پر ایک لکڑی معلوم ہوتے ، اور جب سجدہ کرتے تو چڑیاں  آپ کو گری ہو ئی  دیوار سمجھ کر پیٹھ پر سوار ہوجاتیں  ۔ ایک دن آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  حطیمِ کعبہ میں  نماز ادا فرما رہے تھے کہ مِنْجَنیق (پتھر پھینکنے کا آلہ)سے ایک پتھر آیا اور آپ کے کپڑے پھاڑتا ہوا نکل گیا مگر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  نے نماز جاری رکھی۔ (منہاج القاصدین، کتاب اسرار الصلاۃ، ص۱۱۷)

 



Total Pages: 32

Go To