Book Name:Aarabi kay Sawalat aur Arabi Aaqa kay jawabat

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !            صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

حکایت:19

(۵)  بلی نہیں  رکھی

         ایک بزرگ کے گھر میں  بہت چوہے ہو  گئے۔کسی نے کہا :  حضور!اگر گھر میں  ایک بلی رکھ لیں  ؟ (تو یہ سارے بھاگ جا  ئیں اور بہت جلد آپ کونجات مل جا ئے ) بزرگ نے ارشاد فرمایا :

  بھا ئی  ! مجھے ڈر ہے کہ میری بلی کی آواز سے یہ چوہے یہاں  سے بھاگ کر ہمسایوں  کے گھروں  میں  چلے جا  ئیں گے ، تو اس طرح میں  ان کے  لئے  وہ چیز پسند کرنے والا بن جاؤں  گا جو اپنے  لئے پسند نہیں  کرتا ۔ (احیاء علوم الدین، کتاب آداب الالفۃ۔۔الخ، الباب الثالث، ۲/ ۲۶۷)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !         صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

حکایت:20

(۶)  کھوٹا سکہ

       حضرت سیّدُنا شیخ ابو عبدُاللّٰہ خیاط  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے پاس ایک آتش پرست کپڑے سلواتا اور ہر بار اُجرت میں  کھوٹا سکہ دے جاتا، آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  چپ چاپ لے لیتے۔ایک بار آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی غیر موجودَگی میں شاگرد نے آتش پرست سے کھوٹا سکہ نہ لیا ۔ جب واپس تشریف لا ئے  اور معلوم ہوا تو شاگرد سے فرمایا :  تو نے کھوٹا دِرہم کیوں  نہیں  لیا؟ک ئی  سال سے وہ مجھے کھوٹاسکہ ہی دیتارہا ہے اور میں بھی جان بوجھ کرلے لیتاہوں  تاکہ یہ وہی سکہ کسی دُوسرے مسلمان کو نہ دے آ ئے ۔  

  (احیاء علوم الدین، کتاب ریاضۃ النفس، بیان علامات حسن الخلق، ۳ / ۸۷ملخصًا)

اللّٰہ   عَزَّوَجَلَّ     کی ان   پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

       میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! ہمیں  غور کرنا چا ہئےکہ ہم ایک مسلمان کی حیثیت سے یہ پسند کرتے ہیں  کہ ہم سے سچ بولا جا ئے  ، ہمارا احترام کیا جا ئے  ، ہمارے حقوق پورے ک ئے  جا  ئیں تو ہمیں  اپنے مسلمان بھا ئی  کے  لئے بھی انہی چیزوں  کو پسند کرنا چا ہئےاور ہم اپنے  لئے یہ ناپسند کرتے ہیں  کہ ہمیں  دھوکہ دیا جا ئے ، ہماری غیبت کی جا ئے  ، ہمیں  تہمت لگا ئی  جا ئے  ، ہمارا مال چرایا جا ئے  ، ہم سے رشوت طلب کی جا ئے ، ہم پر ظلم کیاجا ئے ، ہمیں  دھوکا دیا جا ئے ، ہم سے بھتا طلب کیاجا ئے ، ملاوٹ والا مال خالص کہہ کر بیچا جا ئے  ، ہماری بے عزتی کی جا ئے  تو ہمیں   چاہئے کہ اپنے مسلمان بھا ئی  کے  لئے بھی یہی چیز ناپسند کریں  اور حدیث  پاک میں  بیان کردہ فضیلت یعنی ایمان کے کمال کو حاصل کریں  ۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !          صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(6) ذکر اللّٰہ کی کثرت کرو

        اَعرابی کا چھٹا سوال یہ تھا کہ میں  بار گاہِ الٰہی میں  خاص مقام حاصل کرنا چاہتا ہوں ۔ سرکارِمدینۂ منوّرہ، سردارِمکّۂ مکرّمہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا : ذکرُ اللّٰہ کی کثرت کرو،  اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ   کے خاص بندے بن جا ؤگے ۔

زندہ اور مردہ کی مثال

             نبی مُکَرَّم، نُورِ مُجسَّم، رسول اکرم، شہنشاہ ِبنی آدمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   نے فرمایا :  اپنے رب   عَزَّوَجَلَّ     کا ذکر کرنے والے اور نہ کرنے والے کی مثال زندہ اور مُردہ کی طرح ہے۔

( بخاری، کتاب الدعوات، ۴/ ۲۲۰، حدیث  : ۶۴۰۷)   

ذکر کی اَقسام

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو !اکثر یہی خیال کیا جاتا ہے کہ زبان سے سُبْحٰنَ اللّٰہ ، اَلْحَمْدُللّٰہ وغیرہ ادا کرنے کا نام ہی ذکر ہے ، اس میں  کو ئی  شک نہیں  کہ یہ بھی ذکر ہے مگر کلامِ عرب میں  ذکر کا لفظ کثیر معانی میں  استعمال ہوتا ہے ۔ چنانچہ صدرُالافاضل حضرت مولانا مفتی سیِّد نعیم الدین مراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْھَادِی سورۂ بقرہ کی آیت نمبر 152 :

فَاذْكُرُوْنِیْۤ اَذْكُرْكُمْ

(ترجمۂ کنزالایمان : تو میری یاد کرو میں  تمہارا چرچا کروں  گا۔)

کے تحت تفسیر خزاءن العرفان میں  لکھتے ہیں  : ذکر تین طرح کا ہوتا ہے :  (۱)لِسانی(یعنی زبان سے) (۲)قَلْبی(یعنی دل سے)(۳)بِالْجَوارِح (اعضا ئے  جسم سے) ۔ ذِکرِ لِسانی تسبیح، تقدیس ، ثناء وغیرہ بیان کرنا ہے خطبہ توبہ اِستغفار دعا وغیرہ اس میں  داخل ہیں ۔ ذکرِ قَلْبیاللّٰہ   عَزَّوَجَلَّ      کی نعمتوں  کا یاد کرنا اس کی عظمت و کبریا ئی  اور اس کے دلا ئل  قدرت میں  غور کرنا، علماء کا اِستنباطِ مسا ئل  میں  غور کرنا بھی اسی میں  داخل ہیں ۔ ذکر بِالْجَوارِح یہ ہے کہ اعضاء طاعتِ الٰہی (یعنی اللّٰہ   عَزَّوَجَلَّ     کی عبادت)میں  مشغول ہوں  جیسے حج کے  لئے سفر کرنا یہ ذکر بالجوارح میں  داخل ہے۔ نماز تینوں  قسم کے ذکر پر مشتمل ہے۔ تسبیح و تکبیر ، ثنا ؤ قراء ت تو ذکر ِلسانی ہے اور خشوع و خضوع ، اخلاص ذکرِ قلبی اور قیام، رکوع و سجود وغیرہ ذکر بِالْجَوارِح ہے۔(خزاءن العرفان، پ۲، البقرۃ، زیرآیت :  ۱۵۲)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                     صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد   

جنون کی دوا

 



Total Pages: 32

Go To