Book Name:Majosi ka Qabol e Islam

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

دُرُوْدِپاک کی فضیلت

        شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ اپنی مناجاتوں ،  نعتوں اور مَنْقَبتوں کے مُعَطَّرو مُعَنبر مَدَنی گُلْدستے ’’وسائلِ بخشش‘‘ میں دُرودِ پاک کی فضیلت نقل فرماتے ہیں کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  کے محبوب، دانائے غُیُوب، مُنَزَّہٌ  عن العُیُوبصَلَّی اللّٰہُ تَعَالیٰ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کا فرمانِ عظمت نشان ہے :  جس نے دن اور رات میں میری طرف شوق و محبت کی وجہ سے تین تین مرتبہ ُدرودِپاک پڑھا اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  پر حق ہے کہ وہ اُس کے اُس دن اور رات کے گناہ بخش دے۔ (الترغیب والترھیب، ۲/ ۳۲۸، حدیث :  ۲۳)

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!           صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

مدَنی بہاروں کی اہمیّت

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! تاریخ اور سیرت ِبزرگانِ دین کی کتب کے مطالعے سے ایک بات واضح ہوتی ہے کہ کئی ایسی بزرگ ہستیاں جن کا ذکر کرنا سعادت مندی سمجھا جاتا ہے، ان کے مقامِ وِلایت کے اعلیٰ درجوں پر فائز ہونے سے پہلے کے واقعات کو درس و نصیحت کے لئے متعدد کتب میں بیان کیا گیا ہے تاکہ لوگ ان سے درس حاصل کریں اور اپنی قبر و آخرت کی تیاری میں مشغول ہو جائیں ، انہی اولیاء اللّٰہ میں حضرت سیّدناابراہیم بن ادھم عَلَیْہِ رَحْمَۃُاللّٰہِ الْاَکْرَم، حضرت سیّدنا بشر حافی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْکَافِیْ، حضرت سیّدنا فُضَیل بن عیاض رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اور حضرت سیّدنامالک بن دینا ر  عَلَیْہِ رَحْمَۃُاللّٰہِ الْغَفَّار جیسی بلندپایہ ہستیاں بھی شامل ہیں ۔ شیخ طریقت ، امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَا تُہُمُ الْعَالِیَہ نے حضرت مالک بن دینارعَلَیْہِ رَحْمَۃُاللّٰہِ الْغَفَّار کی زندگی میں برپا ہونے والے مدنی انقلاب کواپنے رسالے ’’نیک بننے کا نسخہ‘‘ میں بھی نقل فرمایاہے۔

        حضرتِ سیِّدُنا مالک بن دینار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّارسے کسی نے ان کی توبہ کا سبب پوچھا تو فرمایا :  میں مَحکمۂ پولیس میں سِپاہی تھا، گناہوں کا عادی اور پکّا شرابی تھا۔ میری ایک ہی بچّی تھی اس سے مجھے بے حد پیار تھا۔ وہ دو سا ل کی عمر میں فوت ہو گئی، میں غم سے نِڈھال ہو گیا ۔ اِسی سال جب شبِ برَائَ تْ آئی میں نے نَمازِ عشا تک نہ پڑھی، خوب شراب پی اور نشے ہی میں مجھے نیند نے گھیر لیا۔ میں خواب کی دنیا میں پَہُنچ گیا، کیا دیکھتا ہوں کہ مَحشر برپا ہے، مُردے اپنی اپنی قبروں سے اُٹھ کرجَمْعْ ہو رہے ہیں ، اِتنے میں مجھے اپنے پیچھے سَر سَر ا ہٹ محسوس ہوئی، مُڑکر جو دیکھا تو ایک قد آور سانپ منہ کھولے مجھ پر حملہ آور ہونے والا تھا! میں گھبرا کر بھاگ کھڑا ہوا، سانپ بھی میرے پیچھے پیچھے دوڑنے لگا، اِتنے میں ایک نورانی چِہرے والے کمزور بُزُرْگ پر میری نظر پڑی، میں نے ان سے فریاد کی تواُنہوں نے فرمایا :   ’’میں بے حد کمزور ہوں آپ کی مدد نہیں کرسکتا۔‘‘ میں پھر تیزی کے ساتھ بھاگنے لگا، سانپ بھی برابر تَعاقُب میں تھا، دوڑتے دوڑتے میں ایک ٹیلے پر چڑھ گیا، ٹِیلے کے اُس طرف خو فناک آگ شُعلہ زَن تھی اور کافی لوگ اُس میں جل رہے تھے،  میں اُس میں گرنے ہی والا تھا کہ آوازآئی :  ’’پیچھے ہٹ جاتُواس آگ کیلئے نہیں ہے۔‘‘ میں نے اپنے آپ کو سنبھالا اور پلٹ کر دوڑنے لگا اور سانپ بھی پیچھے پیچھے تھا، وُہی کمزور بُزُرْگ مجھے پھر مل گئے اور رَو کر فرمانے لگے :  ’’ افسوس! میں بَہُت ہی کمزور ہوں آپ کی مدد نہیں کر سکتا، وہ دیکھئے سامنے جو گول پہاڑ ہے وہاں مسلمانوں کی’’امانَتیں ‘‘ ہیں ، وہاں تشریف لے جائیے، اگر آپ کی بھی وہاں کوئی امانت ہو ئی تو اِنْ شَآءَاللہ  عَزَّوَجَلَّ  رہائی کی کوئی صورت نکل آئے گی۔‘‘ میں گول پہاڑ پر پہنچا، وہاں دَریچے بنے ہوئے تھے، ان دَریچوں پر ریشمی پر دے لٹک رہے تھے، دروازے سونے کے تھے اور ان میں موتی جَڑے ہوئے تھے۔ فرِشتے اعلان فرمانے لگے :  ’’پردے ہٹا دو، ‘‘ درواز ے کھول دو، شاید اِس پریشان حال کی کوئی’’ امانت‘‘ یہاں موجود ہو، جو اِسے سانپ سے بچالے۔ ‘‘دریچے کُھل گئے اور بَہُت سارے بچّے چاند سے چِہرے چمکاتے جھانکنے لگے، ان ہی میں میری فوت شدہ دو سالہ بچّی بھی تھی، مجھے دیکھ کر وہ رو رو کر چِلّانے لگی :  ’’خدا کی قسم !یہ تو میرے ابّوجان ہیں ۔‘‘ پھر زور دار چھلانگ لگا کر وہ میرے پاس آ پہنچی اور اپنے بائیں ہاتھ سے میرادایاں ہاتھ تھا م لیا۔ یہ دیکھ کر وہ قد آور سانپ پلٹ کر بھاگ کھڑا ہوا، اب میری جان میں جان آئی، بچّی میری گود میں بیٹھ گئی اور سیدھے ہاتھ سے میری داڑھی سَہلاتے ہوئے اُس نے پارہ 27 سُوْرَۃُ الْحَدِیْد کی سولہویں آیت کا یہ جُز تلاوت کیا :  

اَلَمْ یَاْنِ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُهُمْ لِذِكْرِ اللّٰهِ وَ مَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّۙ

ترجمہ کنزالایمان :  کیا ایمان والوں کو ابھی وہ وقت نہ آیا کہ ان کے دل جھک جائیں اللّٰہ ( عَزَّوَجَلَّ ) کی یاد اور اس حق (یعنی قرآن پاک) کے لئے جو اُترا۔

 



Total Pages: 22

Go To