Book Name:Sirat ul jinan jild 6

کسی کے دل میں  جمے گی نہیں  کیونکہ لوگ رات دن معجزات دیکھتے ہیں  ،  وہ کس طرح باور کر سکیں  گے کہ حضورپُر نور صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہماری طرح بشر ہیں  اس لئے انہوں  نے معجزاتکو جادو بتا دیا اور کہا کہ کیا تم خود دیکھنے اور جاننے کے باوجود جادو کے پاس جاتے ہو؟

قٰلَ رَبِّیْ یَعْلَمُ الْقَوْلَ فِی السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ٘-وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ(۴)

ترجمۂ کنزالایمان: نبی نے فرمایا میرا رب جانتا ہے آسمانوں  اور زمین میں  ہر بات کو اور وہی ہے سنتا جانتا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: نبی نے فرمایا: میرا رب آسمان اور زمین میں  ہر بات کوجانتا ہے اور وہی سننے والا جاننے والا ہے۔

{قٰلَ:نبی نے فرمایا۔} جب حضورِ اقدس صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی طرف کفار کے اقوال اور احوال کی وحی کی گئی تو اس کے بعد آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’کفار کی خفیہ باتوں  کو جاننا تو کچھ بھی نہیں   ،  میرے رب عَزَّوَجَلَّ کی شان تو یہ ہے کہ وہ آسمانوں  اور زمین میں  ہونے والی ہر بات کوجانتا ہے خواہ وہ پوشیدہ طور پر کہی گئی ہو یا اعلانیہ کہی گئی ہو اوراس سے کوئی چیز چھپ نہیں  سکتی خواہ وہ کتنے ہی پردے اور راز میں  رکھی گئی ہو اور وہی سننے والا جاننے والا ہے ،  تو وہی کفار کے اَقوال اور اَفعال کی انہیں  سزا دے گا۔(روح البیان ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۴ ،  ۵ / ۴۵۳)

بَلْ قَالُوْۤا اَضْغَاثُ اَحْلَامٍۭ بَلِ افْتَرٰىهُ بَلْ هُوَ شَاعِرٌ ۚۖ-فَلْیَاْتِنَا بِاٰیَةٍ كَمَاۤ اُرْسِلَ الْاَوَّلُوْنَ(۵)

ترجمۂ کنزالایمان: بلکہ بولے پریشان خوابیں  ہیں  بلکہ ان کی گڑھت ہے بلکہ یہ شاعر ہیں  تو ہمارے پاس کوئی نشانی لائیں  جیسے اگلے بھیجے گئے تھے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بلکہ(کافروں  نے) کہا: جھوٹے خواب ہیں  بلکہ خود اس (نبی) نے اپنی طرف سے بنالیا ہے بلکہ یہ شاعر ہیں  (اگر نبی ہیں ) تو ہمارے پاس کوئی نشانی لائیں  جیسے پہلے رسولوں  کو بھیجا گیا تھا۔

{بَلْ قَالُوْۤا اَضْغَاثُ اَحْلَامٍ:بلکہ کہا:جھوٹے خواب ہیں ۔} جب کافروں  کا راز ظاہر فرما دیا گیا تواس کے بعد انہیں  قرآنِ کریم سے سخت پریشانی اور حیرانی لاحق ہوگئی کہ اس کا کس طرح انکار کریں  کیونکہ یہ ایک ایسا روشن اور واضح معجزہ ہے جس نے تمام ملک کے مایہ ناز ماہروں  کو عاجزوحیرت زدہ کردیا ہے اور وہ اس کی دو چار آیتوں  کی مثل کلام بنا کر نہیں  لاسکے ،  اس پریشانی میں  اُنہوں  نے قرآنِ کریم کے بارے میں  مختلف قسم کی باتیں  کہیں  اور کہنے لگے : بلکہ نبی اکرم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَجو قرآن لائے ہیں  یہ جھوٹے خواب ہیں  اور ان کو نبی کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اللہ تعالیٰ کی وحی سمجھ گئے ہیں  ۔ کفار نے یہ کہہ کر سوچا کہ یہ بات چسپاں  نہیں  ہو سکے گی تو اب اس کو چھوڑ کر کہنے لگے: بلکہ خود اس نبی نے اپنی طرف سے بنالیا ہے۔ یہ کہہ کر انہیں  خیال ہوا کہ لوگ کہیں  گے : اگر یہ کلام حضرت محمد مصطفی صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا بنایا ہوا ہے اور تم انہیں  اپنے جیسا بشر بھی کہتے ہو تو تم ایسا کلام کیوں  نہیں  بنا سکتے؟ یہ خیال کر کے اس بات کو بھی چھوڑا اور کہنے لگے : بلکہ یہ شاعر ہیں  اور یہ کلام شعر ہے۔ الغرض کفار اسی طرح کی باتیں  بناتے رہے اور کسی ایک بات پر قائم نہ رہ سکے ۔ اب کفارنے سمجھا کہ ان باتوں  میں  سے کوئی بات بھی چلنے والی نہیں  ہے ،  تو کہنے لگے : اگر یہ نبی ہیں  تو ہمارے پاس کوئی نشانی لائیں  جیسے پہلے رسولوں  کو نشانیوں  کے ساتھ بھیجا گیا تھا۔(البحر المحیط ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۵ ،  ۶ / ۲۷۶ ،  قرطبی ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۵ ،  ۶ / ۱۴۸ ،  الجزء الحادی عشر ،  ملتقطاً)

اہلِ باطل اور جھوٹے کسی ایک بات پر قائم نہیں  رہتے:

             اہلِ باطل اور جھوٹوں  کا یہی حال ہوتا ہے کہ وہ کسی ایک بات پر قائم نہیں  رہتے بلکہ ایک کے بعد دوسری اور دو سری کے بعد تیسری بات کی طرف منتقل ہوتے رہتے ہیں  اور ا س کی ایک وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ بات کرنے کے بعد خود حیران ہوتے ہیں  کہ ہم نے کہہ کیا دیا ہے۔

مَاۤ اٰمَنَتْ قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَاۚ-اَفَهُمْ یُؤْمِنُوْنَ(۶)

ترجمۂ کنزالایمان: ان سے پہلے کوئی بستی ایمان نہ لائی جسے ہم نے ہلاک کیا تو کیا یہ ایمان لائیں  گے ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: ان سے پہلے جو بستی ایمان نہ لائی ہم نے اسے ہلاک کردیا تو کیا یہ ایمان لے آئیں  گے؟

{مَاۤ اٰمَنَتْ قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْیَةٍ:ان سے پہلے جو بستی ایمان نہ لائی۔} اس آیت میں   اللہ تعالیٰ نے کفار کی باتوں  کا رد فرمایا اور انہیں  جواب دیا ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں  کہ کفارِ مکہ سے پہلے لوگوں  نے بھی اپنے انبیاءِکرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے نشانیوں  کا مطالبہ کیا اور نشانیاں  آنے کی صورت میں  ایمان لانے کا عہد کیا اور جب ان کے پاس وہ مطلوبہ نشانیاں  آئیں  تو وہ ان انبیاءِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر ایمان نہ لائے اوران کی تکذیب کرنے لگے اور اس سبب سے ان کفار کو ہلاک کر دیا گیا تو کیا یہ کفارِ مکہ نشانی دیکھ کر ایمان لے آئیں  گے ؟حالانکہ اِن کی سرکشی اُن سے بڑھی ہوئی ہے۔(مدارک ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۶ ، ص۷۰۹)

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِیْۤ اِلَیْهِمْ فَسْــٴَـلُوْۤا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ(۷)

ترجمۂ کنزالایمان: اور ہم نے تم سے پہلے نہ بھیجے مگر مرد جنہیں  ہم وحی کرتے تو اے لوگو علم والوں  سے پوچھو اگر تمہیں  علم نہ ہو۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ہم نے تم سے پہلے مرد ہی بھیجے جن کی طرف ہم وحی کرتے تھے۔تو اے لوگو! علم والوں  سے پوچھو اگر تم نہیں  جانتے۔

{وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِیْۤ اِلَیْهِمْ:اور ہم نے تم سے پہلے مرد ہی بھیجے جن کی طرف ہم وحی کرتے تھے۔} یہاں  کفارِ مکہ کے سابقہ کلام کا رد کیا جا رہا ہے کہ انبیاءِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا بشری صورت میں  ظہور فرمانا نبوت کے منافی نہیں  کیونکہ نبی کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے پہلے بھی ہمیشہ ایسا ہی ہوتا رہا ہے کہ  اللہ تعالیٰ نے کسی قوم کی طرف فرشتے کو رسول بنا کر نہیں  بھیجا بلکہ سابقہ قوموں  کے پاس بھی  اللہ تعالیٰ نے جو نبی اور رسول بھیجے وہ سب انسان اور مرد ہی تھے اور ان کی طرف  اللہ تعالیٰ کی جانب سے فرشتوں  کے ذریعے احکامات وغیرہ کی وحی کی جاتی تھی اور جب اللہ تعالیٰ کا دستور ہی یہ ہے تو پھر سیّد المرسَلین صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے بشری صورت میں  ظہور فرمانے پر کیا اعتراض ہے۔



Total Pages: 239

Go To