Book Name:Sirat ul jinan jild 6

قرآنِ مجید کی تعلیمات سے منہ پھیرنے کا انجام:

            اس آیت سے معلوم ہوا کہ قرآنِ کریم پر ایمان لانا اور ا س کے احکامات و تعلیمات پر عمل کرنا عزت و شہرت کا باعث ہے اورتاریخ اس بات پر گواہ ہے جب تک مسلمانوں نے قرآنِ مجید کے دامن کو مضبوطی سے تھامے رکھا اور اس کی ہدایات و احکامات پر کامل طریقے سے عمل کیا تب تک وہ شہرت و نامْوری اور عزت و کرامت کی بلندیوں  پر فائز رہے اورہر میدان میں  کفار پر غلبہ و نصرت اور کامیابی حاصل کرتے رہے اور جب سے مسلمان قرآنِ عظیم کی تعلیمات پر عمل سے دور ہونا شروع ہوئے تب سے ان کی عزت ، شہرت ، ناموری اور دبدبہ ختم ہونا شروع ہو گیا اور رفتہ رفتہ کفار مسلمانوں  پر غالب ہونا شروع ہو گئے اور اب مسلمانوں  کا حال یہ ہو گیا ہے کہ جہاں  بن پڑا وہاں  کفار مسلمانوں  کی سرزمین پر قابض ہیں  اور جہاں  نہیں  بن پڑا وہاں  مسلمانوں  کی اِقتصادیات ، معاشیات اور در پردہ مسلمانوں  کی ذہنیت ،  سوچ اور کلچر پر قابض ہیں  اور مسلم حکمرانوں  کو اپنی انگلیوں  کے اشاروں  پر نچا رہے ہیں ۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ

وہ معزز تھے زمانے میں  مسلماں  ہو کر                اور ہم خوار ہوئے تارکِ قرآں  ہو کر

اور

درسِ قرآں  گر ہم نے نہ بھلایا ہوتا        یہ زمانہ نہ زمانے نے دکھایا ہوتا

وَ كَمْ قَصَمْنَا مِنْ قَرْیَةٍ كَانَتْ ظَالِمَةً وَّ اَنْشَاْنَا بَعْدَهَا قَوْمًا اٰخَرِیْنَ(۱۱)

ترجمۂ کنزالایمان:اور کتنی ہی بستیاں  ہم نے تباہ کردیں  کہ وہ ستمگار تھیں  اور ان کے بعد اور قوم پیدا کی۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور کتنی ہی بستیاں  ہم نے تباہ کردیں جو ظلم کرنے والی تھیں اور ان کے بعد ہم نے دوسری قوم پیدا کردی۔

{وَ كَمْ قَصَمْنَا مِنْ قَرْیَةٍ:اور کتنی ہی بستیاں  ہم نے تباہ کردیں ۔} اس سے پہلی آیات میں  کفارکی طرف سے حضور سیّد المرسَلینصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نبوت پرکئے گے اعتراضات اوران کے جوابات ذکرفرمائے گئے اور یہاں  سے اِس امت کے کفار کو کفر نہ چھوڑنے اور ایمان نہ لانے پر  اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرایاجا رہا ہے ۔گویا کہ  اللہ تعالیٰ

نے ارشاد فرمایا: اے کافرو! تم اپنے مال و دولت کی وسعت سے دھوکہ نہ کھاؤ اور اپنے اموال و اولاد پر غرور نہ کرو کیونکہ ہم نے بہت سی بستیوں  کے کفار کو تباہ و برباد کر دیا اور ان کے بعد ہم نے دوسری قوم پیدا کردی اور جو کچھ ان کافروں  کے ساتھ ہوا وہ تمہارے ساتھ بھی ہو سکتاہے۔( صاوی ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۱۱ ،  ۴ / ۱۲۹۲)

فَلَمَّاۤ اَحَسُّوْا بَاْسَنَاۤ اِذَا هُمْ مِّنْهَا یَرْكُضُوْنَؕ(۱۲) لَا تَرْكُضُوْا وَ ارْجِعُوْۤا اِلٰى مَاۤ اُتْرِفْتُمْ فِیْهِ وَ مَسٰكِنِكُمْ لَعَلَّكُمْ تُسْــٴَـلُوْنَ(۱۳)

ترجمۂ کنزالایمان:تو جب انہوں  نے ہمارا عذاب پایا جبھی وہ اس سے بھاگنے لگے۔نہ بھاگو اور لوٹ کے جاؤ ان آسائشوں  کی طرف جو تم کو دی گئیں  تھیں  اور اپنے مکانوں  کی طرف شاید تم سے پوچھنا ہو ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو جب انہوں  نے ہمارا عذاب پایا تو اچانک وہ اس سے بھاگنے لگے ۔بھاگو نہیں  اوران آسائشوں  کی طرف لوٹ آؤجو تمہیں  دی گئی تھیں  اور اپنے مکانوں  کی طرف (لوٹ آؤ) شاید تم سے سوال کیا جائے ۔

{فَلَمَّاۤ اَحَسُّوْا بَاْسَنَا:تو جب انہوں  نے ہمارا عذاب پایا۔}اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جب ان ظالموں  نے  اللہ تعالیٰ کا عذاب پایا تو اچانک وہ اس سے بھاگنے لگے ۔اس پر فرشتے کے ذریعے ان سے کہا گیا کہ تم بھاگو نہیں  اوران آسائشوں  کی طرف لوٹ آؤجو تمہیں  دی گئی تھیں  اور اپنے ان مکانوں  کی طرف لوٹ آؤ جن پر تم فخر کیا کرتے تھے  ، شاید لوگوں  کی عادت کے مطابق تم سے تمہاری دنیا کے بارے میں  سوال کیا جائے ۔

            بعض مفسرین فرماتے ہیں  کہ ان آیات میں  یمن کی سرزمین میں  موجود ایک بستی میں  رہنے والے لوگوں  کا حال بیان ہوا ہے۔ اس بستی کا نام حصور (یا ، حضور) ہے  ، وہاں  کے رہنے والے عرب تھے  ، انہوں  نے اپنے نبی عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی تکذیب کی اور انہیں  شہید کردیا تو  اللہ تعالیٰ نے ان پر بُخْت نصر کو مُسَلَّط کر دیا۔ اِس نے اُن کے بعض لوگوں  کو قتل کیا اور بعض کو گرفتار کرلیا ،  اُس کا یہ عمل جاری رہا تو وہ لوگ بستی چھوڑ کر بھاگے۔ اس پر فرشتوں  نے طنز کے طور پر ان سے کہا: تم بھاگونہیں  اوران آسائشوں  کی طرف لوٹ آؤجو تمہیں  دی گئی تھیں  اور اپنے مکانوں  کی طرف لوٹ آؤ ،  شاید تم سے سوال کیا جائے کہ تم پر کیا گزری اور تمہارے مال و دولت کا کیا ہوا؟ تو تم دریافت کرنے والے کو اپنے علم اور مشاہدے سے جواب دے سکو۔(روح البیان ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۱۲-۱۳ ،  ۵ / ۴۵۸ ،  خازن ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۱۲-۱۳ ،  ۳ / ۲۷۲ ،  جمل ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۱۲-۱۳ ،  ۵ / ۱۲۱-۱۲۲ ،  مدارک ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۱۲-۱۳ ، ص۷۱۱ ،  ملتقطاً)

قَالُوْا یٰوَیْلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ(۱۴)فَمَا زَالَتْ تِّلْكَ دَعْوٰىهُمْ حَتّٰى جَعَلْنٰهُمْ حَصِیْدًا خٰمِدِیْنَ(۱۵)

ترجمۂ کنزالایمان: بولے ہائے خرابی ہماری بیشک ہم ظالم تھے ۔تو وہ یہی پکارتے رہے یہاں  تک کہ ہم نے انہیں  کردیا کاٹے ہوئے بجھے ہوئے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:انہوں  نے کہا: ہائے ہماری بربادی! بیشک ہم ظالم تھے۔ تو یہی ان کی چیخ و پکاررہی یہاں  تک کہ ہم نے انہیں  کٹے ہوئے  ،  بجھے ہوئے کردیا۔

{قَالُوْا یٰوَیْلَنَا:انہوں  نے کہا: ہائے ہماری بربادی۔}جب وہ بھاگ کر نجات پانے سے مایوس ہو گئے اور انہیں  عذاب نازل ہونے کا یقین ہو گیا تو انہوں  نے کہا:ہائے ہماری بربادی! بیشک ہم ظالم تھے۔ یہ ان کی طرف سے اپنے گناہ کا اعتراف اور اس پر ندامت کا اظہار تھا لیکن چونکہ عذاب دیکھنے کے بعد انہوں  نے گناہ کا اقرار کیا اوراس پر نادِم ہوئے اس لئے یہ اعتراف انہیں  کام نہ آیا۔( ابو سعود ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۱۴ ،  ۳ / ۵۰۸)

{فَمَا زَالَتْ تِّلْكَ دَعْوٰىهُمْ:تو یہی ان کی چیخ و پکاررہی۔}ارشاد فرمایا کہ ان کی یہی چیخ و پکاررہی کہ ہائے ہماری بربادی! ہم ظالم تھے۔ یہاں  تک کہ ہم نے انہیں  کھیت کی طرح کٹے ہوئے



Total Pages: 235

Go To