Book Name:Sirat ul jinan jild 6

مرنے کے بعد ایسا کوئی شخص نہ ہوگا جسے ڈاکٹری نہ سیکھنے پر ،  انجینئر نہ بننے پر ،  سائنسدان نہ بننے پر افسوس ہو رہا ہو البتہ علمِ دین نہ سیکھنے پر افسوس کرنے والے بہت ہوں  گے۔ بلکہ خود حدیث پاک میں  موجود ہے کہ کل قیامت کے دن جن آدمیوں  کو سب سے زیادہ حسرت ہوگی ان میں  ایک وہ ہے جس کو دنیا میں  علم حاصل کرنے کا موقع ملا اور اس نے علم حاصل نہ کیا۔( ابن عساکر ،  حرف المیم ،  محمد بن احمد بن محمد بن جعفر۔۔۔ الخ ،  ۵۱ / ۱۳۷)

             اللہ تعالیٰ مسلمانوں  کو عقل ِسلیم دے اور انہیں  علمِ دین کی ضرورت و اہمیت کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے ، اٰمین۔

سوال کرناعلم کے حصول کا ایک ذریعہ ہے:

            اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ سوال کرنا علم حاصل ہونے کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے ۔ حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ  اللہ  تَعَالٰی  وَجْہَہُ الْکَرِیْمسے روایت ہے ،  رسول کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا: ’’علم خزانے ہیں  اور ان خزانوں  کی چابی سوال کرناہے تو تم سوال کرو ،  اللہ تعالیٰ تم پر رحم فرمائے  ،  کیونکہ سوال کرنے کی صورت میں  چار لوگوں  کو اجر دیاجاتا ہے۔ (1) سوال کرنے والے کو۔ (2) سکھانے والے کو۔ (3) سننے والے کو۔ (4) ان سے محبت رکھنے والے کو۔(الفقیہ والمتفقہ ،  باب فی السؤال والجواب وما یتعلّق بہما۔۔۔ الخ ،  ۲ / ۶۱ ،  الحدیث: ۶۹۳)

            حضرت عبد اللہ بن عمررَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمَا سے روایت ہے ، حضور پُر نورصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’اچھا سوال کرنا نصف علم ہے۔( معجم الاوسط ،  باب المیم ،  من اسمہ: محمد ،  ۵ / ۱۰۸ ،  الحدیث: ۶۷۴۴)

            دعا ہے کہ  اللہ تعالیٰ ہمیں  زندگی کے تمام پہلوؤں  میں  در پیش معاملات کے بارے میں  اہلِ علم سے سوال کرنے اور اس کے ذریعے دین کے شرعی اَحکام کا علم حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ،  اٰمین۔

وَ مَا جَعَلْنٰهُمْ جَسَدًا لَّا یَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَ مَا كَانُوْا خٰلِدِیْنَ(۸)ثُمَّ صَدَقْنٰهُمُ الْوَعْدَ فَاَنْجَیْنٰهُمْ وَ مَنْ نَّشَآءُ وَ اَهْلَكْنَا الْمُسْرِفِیْنَ(۹)

 ترجمۂ کنزالایمان: اور ہم نے انہیں  خالی بدن نہ بنایا کہ کھانا نہ کھائیں  اور نہ وہ دنیا میں  ہمیشہ رہیں ۔  پھر ہم نے اپنا وعدہ انہیں  سچا کر دکھایا تو انہیں  نجات دی اور جن کو چاہی اور حد سے بڑھنے والوں  کو ہلاک کردیا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ہم نے انہیں  کوئی ایسے بدن نہ بنایا تھا کہ وہ کھانا نہ کھائیں  اور نہ وہ دنیا میں  ہمیشہ رہنے والے تھے۔ پھر ہم نے اپنا وعدہ انہیں  سچا کر دکھایا تو ہم نے انہیں  اور جن کو چاہا نجات دی اور حد سے بڑھنے والوں  کو ہلاک کردیا۔

{وَ مَا جَعَلْنٰهُمْ جَسَدًا:اور ہم نے انہیں  خالی بدن نہ بنایا۔} کفارِ مکہ نے تاجدارِ رسالت صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پرایک اعتراض یہ کیا تھا کہ:

’’مَالِ هٰذَا الرَّسُوْلِ یَاْكُلُ الطَّعَامَ‘‘(فرقان)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اس رسول کو کیا ہوا؟ کہ یہ کھانا بھی کھاتا ہے۔

            اوریہاں  اِس اعتراض کا جواب دیا گیا ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ  اللہ تعالیٰ کاطریقہ یہی جاری ہے کہ اس نے گزشتہ زمانوں  میں  جتنے بھی رسول بھیجے ان کے بدن ایسے نہیں  بنائے تھے جو  کھانے پینے سے بے نیاز ہوں  بلکہ ان کے بدن بھی ایسے ہی بنائے تھے جنہیں  کھانے پینے کی حاجت ہو ،  یونہی وہ دنیا میں  ہمیشہ رہنے والے نہ تھے بلکہ عمر پوری  ہو جانے کے بعد ان کی بھی وفات ہوئی ،  اور جب  اللہ تعالیٰ کا طریقہ ہی یہی ہے تو کفارِ مکہ کا رسول کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے کھانے پینے پر اعتراض کرنامحض بے جا اور فضول ہے۔(تفسیرکبیر ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۸ ،  ۸ / ۱۲۲ ،  روح البیان ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۸ ،  ۵ / ۴۵۶ ،  ملتقطاً)

{ثُمَّ صَدَقْنٰهُمُ الْوَعْدَ:پھر ہم نے اپنا وعدہ انہیں  سچا کر دکھایا۔}ارشاد فرمایا کہ ہم نے انبیاءِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی طرف جو وحی کرنی تھی وہ وحی کی  ، پھر ہم نے انبیاءِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کونجات دینے اور ان کے دشمنوں  کو ہلاک کرنے کا اپنا وعدہ سچا کر دکھایا تو ہم نے انہیں  اور ان کی تصدیق کرنے والے مومنوں کو نجات دی اور انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی تکذیب کر کے حد سے بڑھنے والوں  کو ہلاک کردیا۔( روح البیان ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۹ ،  ۵ / ۴۵۷ ،  مدارک ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۹ ،  ص۷۱۰-۷۱۱ ،  جلالین ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۹ ،  ص۲۷۰ ،  ملتقطاً)

لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ كِتٰبًا فِیْهِ ذِكْرُكُمْؕ-اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۠(۱۰)

ترجمۂ کنزالایمان: بیشک ہم نے تمہاری طرف ایک کتاب اتاری جس میں  تمہاری ناموری ہے تو کیا تمہیں  عقل نہیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک ہم نے تمہاری طرف ایک کتاب نازل فرمائی جس میں  تمہارا چرچا ہے۔ تو کیا تمہیں  عقل نہیں ؟

{لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ كِتٰبًا:بیشک ہم نے تمہاری طرف ایک کتاب نازل فرمائی ۔}ارشاد فرمایا کہ اے قریش کے گروہ! ہم نے تمہاری طرف ایک عظیم الشان کتاب نازل فرمائی جس میں  تمہارا شرف اور تمہاری عزت ہے کیونکہ وہ تمہاری زبان اور تمہاری لغت کے مطابق ہے توتم ا س کتاب سے کیسے منہ پھیر سکتے ہو حالانکہ غیرت اور عقل کا تقاضا یہ ہے کہ تم اس کتاب کی اور اس نبی کی تعظیم کرو جو اسے لے کر آئے ہیں  اور اس پر سب سے پہلے ایمان لانے والے ہو جاؤ ، کیا تم جاہل ہو اور تمہیں  عقل نہیں  کہ ایمان لا کر اس عزت و کرامت اور سعادت کو حاصل کرو۔( ابوسعود ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۱۰ ،  ۳ / ۵۰۷ ،  صاوی ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۱۰ ،  ۴ / ۱۲۹۲ ،  ملتقطاً)

            اس آیت میں  مذکور لفظ ’’فِیْهِ ذِكْرُكُمْ‘‘ کے مفسرین نے اور معنی بھی بیان کئے ہیں   ، جیسے ایک معنی یہ ہے کہ ’’اس میں  تمہارے لئے نصیحت ہے اور ایک معنی یہ ہے کہ’’اس میں  تمہارے دینی اور دُنْیَوی اُمور اور حاجات کا بیان ہے۔(مدارک ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۱۰ ،  ص۷۱۱)

 



Total Pages: 235

Go To