Book Name:Sirat ul jinan jild 6

’’ وَ مَا یُدْرِیْكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ تَكُوْنُ قَرِیْبًا‘‘(احزاب:۶۳)

ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور تم کیا جانو شاید قیامت قریب ہی ہو۔

            اس کے بعد تمہاری سب سے اچھی حالت تو یہ ہونی چاہئے کہ تم اس قرآنِ عظیم کے دئیے درس پر عمل کرو ،  لیکن اس کے برعکس تمہارا حا ل یہ ہے کہ تم اس قرآن کے معانی میں  غوروفکر نہیں  کرتے اور روزِ قیامت کے بے شمار اَوصاف اور ناموں  کو (عبرت کی نگاہ سے) نہیں  دیکھتے اور اس دن کی مصیبتوں  سے نجات حاصل کرنے کے لیے کوشش نہیں  کرتے۔ ہم اس غفلت سے  اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتے ہیں(اور دعا کرتے ہیں  کہ) اللہ تعالیٰ اپنی وسیع رحمت سے اس غفلت کو دور فرمائے۔(احیاء علوم الدین ،  کتاب ذکر الموت وما بعدہ ،  الشطر الثانی من کتاب ذکر الموت فی احوال المیت۔۔۔ الخ ،  صفۃ یوم القیامۃ ودواہیہ واسامیہ ،  ۵ / ۲۷۶) اور ہر مسلمان کو اس فانی دنیا سے بے رغبت ہو کر نیک اعمال کی کثرت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ ترغیب کے لئے یہاں  دو حکایات ملاحظہ ہوں :

مجھے تمہاری جائیداد کی کوئی ضرورت نہیں :

            حضرت عامربن ربیعہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے کہ ایک عربی ان کے پاس آیا ،  آپ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ نے اس کانہایت اِکرام کیا اوراس کے متعلق حضور اقدس صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے کلام کیا۔ وہ شخص جب دوبارہ حضرت عامر بن ربیعہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ کے پاس آیا تواس نے کہا کہ میں  نے رسولُ  اللہ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے ایک وادی طلب کی ہے جس سے بہتر عرب میں  کوئی وادی نہیں  ہے ۔میں  چاہتا ہوں  کہ تمہارے لیے اس میں  سے کچھ حصہ علیحدہ کردوں  جوتمہارے اورتمہاری اولا دکے کام آئے۔ حضرت عامربن ربیعہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ نے اس سے کہا کہ’’ ہمیں  تیری جائیداد کی کوئی ضرورت نہیں   ، کیونکہ آج ایک سورت نازل ہوئی ہے اس نے ہمیں  دنیا کی لذتیں  بھلا دی ہیں  (اوراس میں  یہ آیت ہے)’’اِقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَ هُمْ فِیْ غَفْلَةٍ مُّعْرِضُوْنَ‘‘لوگوں  کا حساب قریب آگیا اور وہ غفلت میں  منہ پھیرے ہوئے ہیں ۔(ابن عساکر ،  حرف العین ،  ذکر من اسمہ عامر ،  عامر بن ربیعۃ بن کعب بن مالک۔۔۔ الخ ،  ۲۵ / ۳۲۷)

جب حساب کا وقت قریب ہے تو یہ دیوار نہیں  بنے گی:

            ایک روایت میں  ہے کہ رسول کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے صحابۂ کرام رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمْ میں  سے ایک صحابی رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُدیوار بنا رہے تھے ،  جس دن یہ سورت نازل ہوئی ا س دن ان کے پاس سے ایک شخص گزرا تو انہوں  نے اس سے پوچھا ’’ آج قرآن پاک میں  کیا نازل ہوا ہے ؟اس نے بتایا کہ یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی ہے ’’ اِقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَ هُمْ فِیْ غَفْلَةٍ مُّعْرِضُوْنَ‘‘ لوگوں  کا حساب قریب آگیااور وہ غفلت میں  منہ پھیرے ہوئے ہیں ۔ ‘‘ان صحابی رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ نے جب یہ سناتواسی وقت دیوار بنانے سے ہاتھ جھاڑ لیے اور کہا:  اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم !جب حساب کاوقت قریب آگیا ہے تو پھر یہ دیوار نہیں  بنے گی۔( قرطبی ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۱ ،  ۶ / ۱۴۵ ،  الجزء الحادی عشر)

              اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اس کی توفیق سے ہمارے دلوں  میں  بھی دنیا سے بے رغبتی اور آخرت کی فکر پیدا ہوجائے اور ہم بھی اپنی اُخروی زندگی بہتر سے بہتر بنانے کی کوششوں  میں  مصروف ہو جائیں ۔

مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ ذِكْرٍ مِّنْ رَّبِّهِمْ مُّحْدَثٍ اِلَّا اسْتَمَعُوْهُ وَ هُمْ یَلْعَبُوْنَۙ(۲)

ترجمۂ کنزالایمان: جب ان کے رب کے پاس سے انہیں  کوئی نئی نصیحت آتی ہے تو اسے نہیں  سنتے مگر کھیلتے ہوئے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: جب ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے کوئی نئی نصیحت آتی ہے تو اسے کھیلتے ہوئے ہی سنتے ہیں ۔

{مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ ذِكْرٍ:جب ان کے پاس کوئی نصیحت آتی ہے۔} یعنی جب  اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآن مجید میں  نصیحت آمیز کوئی ایسی آیت نازل ہوتی ہے جو انہیں  اعلیٰ طریقے سے اخروی حساب کی یاد دلائے اوراس سے غفلت کا شکار ہونے پر کامل طریقے سے تنبیہ کرے تو یہ اس میں  غورو فکر کر کے عبرت ونصیحت حاصل کرنے اور اپنی غفلت دور کرنے کی بجائے

 

اسے کھیلتے اور مذاق مَسخری کرتے ہوئے ہی سنتے ہیں  اور آنے والے وقت کے لئے کچھ تیاری نہیں  کرتے۔(روح البیان ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۲ ،  ۵ / ۴۵۲ ،  خازن ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۲ ،  ۳ / ۲۷۱ ،  ملتقطاً)

لَاهِیَةً قُلُوْبُهُمْؕ-وَ اَسَرُّوا النَّجْوَى ﳓ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ﳓ هَلْ هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْۚ-اَفَتَاْتُوْنَ السِّحْرَ وَ اَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَ(۳)

ترجمۂ کنزالایمان: ان کے دل کھیل میں  پڑے ہیں  اور ظالموں  نے آپس میں  خفیہ مَشْوَرَت کی کہ یہ کون ہیں  ایک تم ہی جیسے آدمی تو ہیں  کیا جادو کے پاس جاتے ہو دیکھ بھال کر۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: ان کے دل کھیل میں  پڑے ہوئے ہیں  اور ظالموں  نے آپس میں  خفیہ مشورہ کیا کہ یہ (نبی) تمہارے جیسے ایک آدمی ہی تو ہیں  تو کیا تم خود دیکھنے کے باوجود جادو کے پاس جاتے ہو؟

{لَاهِیَةً قُلُوْبُهُمْ:ان کے دل کھیل میں  پڑے ہوئے ہیں  ۔} دل کھیل میں  پڑے ہونے سے مراد یہ ہے کہ وہ  اللہ تعالیٰ کی یاد سے غافل ہیں  اور بعض مفسرین فرماتے ہیں  کہ جو دل دنیا کے احوال میں  مشغول اور آخرت کے احوال سے غافل ہو وہ کھیل میں  پڑ اہوا ہے۔( خازن ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۳ ،  ۳ / ۲۷۱ ،  روح البیان ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۳ ،  ۵ / ۴۵۲ ،  ملتقطاً)

{ وَ اَسَرُّوا النَّجْوَى ﳓ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا:اور ظالموں  نے آپس میں  خفیہ مشورہ کیا ۔} ارشاد فرمایا کہ کافروں  نے آپس میں  خفیہ مشورہ کیا اور اسے چھپانے میں  بہت مبالغہ کیا مگر  اللہ تعالیٰ نے ان کا راز فاش کر دیا اور بیان فرما دیا کہ وہ رسولِ کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے بارے میں  یوں  کہتے ہیں  کہ یہ تمہارے جیسے ایک آدمی ہی تو ہیں ۔( خازن ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۳ ،  ۳ / ۲۷۱) یہ کفر کا ایک اصول تھا کہ جب یہ بات لوگوں  کے ذہن نشین کر دی جائے گی کہ وہ تم جیسے بشر ہیں  تو پھر کوئی ان پر ایمان نہ لائے گا۔ کفار یہ بات کہتے وقت جانتے تھے کہ ان کی بات



Total Pages: 235

Go To