Book Name:Sirat ul jinan jild 6

سورۂ طٰہٰ کے ساتھ مناسبت:

             سورۂ انبیاء کی اپنے سے ماقبل سورت’’طٰہٰ‘‘ کے ساتھ مناسبت یہ ہے کہ سورۂ طٰہٰ کے آخر میں  قیامت کے آنے سے خبردار کیا گیا تھا اور سورۂ انبیاء کی ابتداء میں  بھی قیامت کے آنے سے خبردار کیا گیاہے۔ اسی طرح سورۂ  طٰہٰ میں  یہ بیان کیا گیا تھاکہ دنیا کی زیب و زینت اور آرائش کی طرف نظر نہیں  کرنی چاہئے کیونکہ یہ سب زائل ہونے والی ہیں  اور سورۂ انبیاء میں  بیان کیا گیا کہ لوگوں کا حساب قریب ہے اور اس کا تقاضا یہ ہے کہ دنیا کی فانی نعمتوں  میں  دل لگانے کی بجائے ان چیزوں  کی تیاری کی طرف توجہ دینی چاہئے جن کا ہم سے حساب لیا جانا ہے۔

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

ترجمۂ کنزالایمان:  اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان  ،  رحمت والاہے ۔

اِقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَ هُمْ فِیْ غَفْلَةٍ مُّعْرِضُوْنَۚ(۱)

ترجمۂ کنزالایمان: لوگوں  کا حساب نزدیک اور وہ غفلت میں  منہ پھیرے ہیں  ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: لوگوں  کا حساب قریب آگیا اور وہ غفلت میں  منہ پھیرے ہوئے ہیں ۔

{اِقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ:لوگوں  کا حساب قریب آگیا۔} اس آیت کے شانِ نزول کے بارے میں ایک قول یہ ہے یہ آیت ان لوگوں  کے بارے میں  نازل ہوئی جو مرنے کے بعد زندہ کئے جانے کو نہیں  مانتے تھے۔دوسرا قول یہ ہے کہ اِس آیت میں  اگرچہ اُس وقت کفارِ قریش کی طرف اشارہ کیا گیاہے لیکن لفظ’’اَلنَّاسِ‘‘ میں  عموم ہے (اور اس سے تمام لوگ مراد ہیں ۔)نیزیہاں  قیامت کے دن کو گزرے ہوئے زمانہ کے اعتبار سے قریب فرمایا گیاکیونکہ جتنے دن گزرتے جاتے ہیں  آنے والا دن قریب ہوتا جاتا ہے ۔

            اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ لوگوں  نے دنیا میں  جو بھی عمل کئے ہیں  اور ان کے بدنوں  ،  ان کے جسموں  ،  ان کے کھانے پینے کی چیزوں  اور ان کے ملبوسات میں  اور ان کی دیگر ضروریات پوری کرنے کے لئے  اللہ تعالیٰ نے انہیں  جو بھی نعمتیں  عطا کی ہیں  ،  ان کے حساب کا وقت(روزِقیامت) قریب آ گیا ہے اوراس وقت ان سے پوچھا جائے گا کہ ان نعمتوں  کے بدلے میں  انہوں  نے کیا عمل کئے ، آیا انہوں  نے  اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی اور ا س کے دئیے ہوئے حکم پر عمل کیا اور جس چیز سے اس نے منع کیا اس سے رک گئے یا انہوں  نے  اللہ تعالیٰ کے حکم کی مخالفت کی  ، اس سنگین صورتِ حال کے باوجود لوگوں  کی غفلت کا حال یہ ہے کہ وہ اپنا محاسبہ کئے جانے سے اور قیامت کے دن پیش آنے والی عظیم مصیبتوں  اور شدید ہولناکیوں  سے بے فکر ہیں  اور اس کے لئے تیاری کرنے سے منہ پھیرے ہوئے ہیں  اورانہیں  اپنے انجام کی کوئی پرواہ نہیں ۔( خازن ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۱ ،  ۳ / ۲۷۰-۲۷۱ ،  مدارک ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۱ ،  ص۷۰۹ ،  تفسیر طبری ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۱ ،  ۹ / ۳ ،  ملتقطاً)

اُخروی حساب سے غفلت کے معاملے میں  کفار کی روش اور مسلمانوں  کا حال :

            یہاں  اگرچہ کفار کی روش کو بیان کیا گیا ہے لیکن افسوس !فی زمانہ مسلمانوں  میں  بھی قیامت کے دن اپنے اعمال کے حساب سے غفلت بہت عام ہو چکی ہے اور آج انہیں  بھی جب نصیحت کی جاتی ہے اورموت کی تکلیف ،  قبر کی تنگی ،  قیامت کی ہولناکی ،  حساب کی سختی اور جہنم کے دردناک عذاب سے ڈرایا جاتا ہے تو یہ عبرت و نصیحت حاصل کرنے کی بجائے منہ پھیر کر گزر جاتے ہیں  ،  حالانکہ مسلمان کی یہ شان نہیں  کہ وہ ایسا طرزِ عمل اختیار کرے جو کافروں  اور مشرکوں  کا شیوہ ہو۔

            امام محمد غزالی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  فرماتے ہیں  ’’اے انسان! تجھے اپنے کریم رب عَزَّوَجَلَّکے بارے میں  کس چیز نے دھوکے میں  ڈال رکھا ہے کہ تو دروازے بند کرکے ، پردے لٹکاکر اور لوگوں  سے چھپ کر فسق و فجور اور گناہوں  میں  مبتلا ہوگیا! (تو لوگوں  کے خبردار ہونے سے ڈرتا ہے حالانکہ تجھے پیدا کرنے والے سے تیرا کوئی حال چھپا ہوا نہیں) جب تیرے اَعضا تیرے خلاف گواہی دیں  گے (اور جو کچھ تو لوگوں  سے چھپ کر کرتا رہا وہ سب ظاہر کر دیں  گے) تو اس وقت تو کیا کرے گا۔ اے غافلوں  کی جماعت ! تمہارے لئے مکمل خرابی ہے ،   اللہ تعالیٰ تمہارے پاس سیّد المرسَلین صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکو بھیجے اور آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَپر روشن کتاب نازل فرمائے (جس میں  ہر چیز کی تفصیل موجود ہے)اور تمہیں  قیامت کے اوصاف کی خبر دے ،  پھر تمہاری غفلت سے بھی تمہیں  آگاہ کرتے ہوئے ارشاد فرمائے کہ :

’’اِقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَ هُمْ فِیْ غَفْلَةٍ مُّعْرِضُوْنَۚ(۱) مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ ذِكْرٍ مِّنْ رَّبِّهِمْ مُّحْدَثٍ اِلَّا اسْتَمَعُوْهُ وَ هُمْ یَلْعَبُوْنَۙ(۲) لَاهِیَةً قُلُوْبُهُمْ‘‘(انبیاء:۱-۳)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: لوگوں  کا حساب قریب آگیااور وہ غفلت  میں  منہ پھیرے ہوئے ہیں ۔ جب ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے کوئی نئی نصیحت آتی ہے تو اسے کھیلتے ہوئے ہی سنتے ہیں ۔ ان کے دل کھیل میں  پڑے ہوئے ہیں ۔

            پھر وہ ہمیں  قیامت قریب ہونے کے بارے میں  بتاتے ہوئے ارشادفرمائے کہ

’’اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَ انْشَقَّ الْقَمَرُ‘‘(قمر)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: قیامت قریب آگئی اور چاند پھٹ گیا۔

            اور ارشادفرمائے کہ

’’ اِنَّهُمْ یَرَوْنَهٗ بَعِیْدًاۙ(۶) وَّ نَرٰىهُ قَرِیْبًا‘‘(معارج۶ ، ۷)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک وہ اسے دور سمجھ رہے ہیں ۔اور ہماسے قریب دیکھ رہے ہیں ۔

            اور ارشاد فرمائے کہ:

 



Total Pages: 235

Go To