Book Name:Sirat ul jinan jild 6

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور کافر وں  نے کہا: یہ نبی اپنے رب کے پاس سے کوئی نشانی کیوں  نہیں  لاتے ؟ اور کیا ان لوگوں  کے پاس پہلی کتابوں  میں  مذکور بیان نہ آیا۔

{وَ قَالُوْا:اور کافر وں  نے کہا۔} کثیر نشانیاں  آ جانے اور معجزات کا مُتَواتِر ظہور ہو نے کے باوجودکفار ان سب سے اندھے بنے اور انہوں  نے حضورپُرنورصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نسبت یہ کہہ دیا کہ آپ اپنے ربّ کے پاس سے کوئی ایسی نشانی کیوں  نہیں  لاتے جو آپ کی نبوت صحیح ہونے پر دلالت کرے  ،  اس کے جواب میں   اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا’’ کیا ان لوگوں  کے پاس پہلی کتابوں  میں  مذکور قرآن اور دو عالَم کے سردارصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بشارت اور آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نبوت و بِعثت کا ذکر نہ آیا ،  یہ کیسی عظیم ترین نشانیاں  ہیں  اور ان کے ہوتے ہوئے اور کسی نشانی کو طلب کرنے کا کیا موقع ہے۔( ابو سعود ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۱۳۳ ،  ۳ / ۵۰۰)

وَ لَوْ اَنَّاۤ اَهْلَكْنٰهُمْ بِعَذَابٍ مِّنْ قَبْلِهٖ لَقَالُوْا رَبَّنَا لَوْ لَاۤ اَرْسَلْتَ اِلَیْنَا رَسُوْلًا فَنَتَّبِـعَ اٰیٰتِكَ مِنْ قَبْلِ اَنْ نَّذِلَّ وَ نَخْزٰى(۱۳۴)قُلْ كُلٌّ مُّتَرَبِّصٌ فَتَرَبَّصُوْاۚ-فَسَتَعْلَمُوْنَ مَنْ اَصْحٰبُ الصِّرَاطِ السَّوِیِّ وَ مَنِ اهْتَدٰى۠(۱۳۵)

 ترجمۂ کنزالایمان: اور اگر ہم انہیں  کسی عذاب سے ہلاک کردیتے رسول کے آنے سے پہلے تو ضرور کہتے اے ہمارے رب تو نے ہماری طرف کوئی رسول کیوں  نہ بھیجا کہ ہم تیری آیتوں  پر چلتے قبل اس کے کہ ذلیل و رسوا ہوتے۔  تم فرماؤ سب راہ دیکھ رہے ہیں  تو تم بھی راہ دیکھو تو اب جان جاؤ گے کہ کون ہیں  سیدھی راہ والے اور کس نے ہدایت پائی۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اگر ہم انہیں رسول کے آنے سے پہلے کسی عذاب سے ہلاک کردیتے تو ضرور کہتے: اے ہمارے رب! تو نے ہماری طرف کوئی رسول کیوں  نہ بھیجا کہ ہم ذلیل و رسوا ہونے سے پہلے تیری آیتوں  کی پیروی کرتے؟ تم فرماؤ:ہر کوئی انتظار کررہا ہے تو تم بھی انتظار کرو توعنقریب تم جان لوگے کہ سیدھے راستے والے کون تھے اور کس نے ہدایت پائی؟

{وَ لَوْ اَنَّاۤ اَهْلَكْنٰهُمْ بِعَذَابٍ مِّنْ قَبْلِهٖ:اور اگر ہم انہیں  رسول کے آنے سے پہلے کسی عذاب سے ہلاک کردیتے ۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ،  اگر ہم نبی کو بھیجے بغیر کفار پر عذاب بھیج دیتے توقیامت کے دن یہ لوگ شکایت کرتے کہ ہم میں  کوئی رسول توبھیجا ہوتا پھر اگر ہم اس کی اطاعت نہ کرتے تو عذاب کے مستحق ہوتے ۔اب انہیں  اس شکایت کا بھی موقعہ نہیں  کیونکہ اب سرکارِ دوعالَم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تشریف لاچکے ہیں ۔

 { قُلْ كُلٌّ مُّتَرَبِّصٌ فَتَرَبَّصُوْا:تم فرماؤ:ہر کوئی انتظار کررہا ہے تو تم بھی انتظار کرو ۔}شانِ نزول:مشرکین نے کہا تھا کہ ہم زمانے کے حوادِث اور انقلاب کا انتظار کرتے ہیں  کہ کب مسلمانوں  پر آئیں  اور ان کا قصہ تمام ہو ۔ اس پر یہ آیت نازِل ہوئی اور بتایا گیا کہ تم مسلمانوں  کی تباہی و بربادی کا انتظار کر رہے ہو اورمسلمان تمہارے عقوبت و عذاب کا انتظار کر رہے ہیں۔عنقریب جب خدا کا حکم آئے گا اور قیامت قائم ہو گی تو تم جان لوگے کہ سیدھے راستے والے کون تھے اور کس نے ہدایت پائی؟( خازن ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۱۳۵ ،  ۳ / ۲۷۰)

 

 

 


 



Total Pages: 235

Go To