Book Name:Sirat ul jinan jild 6

وَسَلَّمَ ،  تاکہ آپ راضی ہو جائیں ۔ اور یہاں  نبی اکرم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا یہ فرمان بھی ملحوظ رہے کہ میری آنکھوں  کی ٹھنڈک نماز میں  رکھی گئی ہے ‘‘اور حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہا کا یہ قول بھی پیش ِنظر رہے (جس میں آپ اپنے پیارے محبوب سے عرض کرتی ہیں  :یا رسولَ اللّٰہ! صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ، ) میں  حضور کے رب عَزَّوَجَلَّ کو دیکھتی ہوں  کہ وہ حضور کی خواہش میں  جلدی فرماتا ہے۔‘‘ پس رسول کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو نماز کا حکم ا س لئے نہیں  دیا گیا کہ ان کی کوئی خطا ہے جو معاف ہو جائے یا اس لئے نہیں  دیا گیا نماز ادا کرنے کی وجہ سے  اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو جائے بلکہ اس لئے دیاگیا ہے تاکہ حضور اقدس صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ راضی ہو جائیں  کیونکہ نماز میں  حضور پُر نورصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اپنے ربعَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں  حاضری دیتے ہیں  جو کہ ان کی آنکھوں  کی ٹھنڈک ہے اور اس امت کے کامل عارف اولیاءِ کرام کو بھی اس مقام سے کچھ حصہ ملتا ہے۔( صاوی ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۱۳۰ ،  ۴ / ۱۲۸۷)

وَ لَا تَمُدَّنَّ عَیْنَیْكَ اِلٰى مَا مَتَّعْنَا بِهٖۤ اَزْوَاجًا مِّنْهُمْ زَهْرَةَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا ﳔ لِنَفْتِنَهُمْ فِیْهِؕ-وَ رِزْقُ رَبِّكَ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى(۱۳۱)

ترجمۂ کنزالایمان: اور اے سننے والے اپنی آنکھیں  نہ پھیلا اس کی طرف جو ہم نے کافروں  کے جوڑوں  کو برتنے کے لئے دی ہے جیتی دنیا کی تازگی کہ ہم انہیں  اس کے سبب فتنہ میں  ڈالیں  اور تیرے رب کا رزق سب سے اچھا اور سب سے دیرپا ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اے سننے والے! ہم نے مخلوق کے مختلف گروہوں  کو دنیا کی زندگی کی جوتروتازگی فائدہ اٹھانے کیلئے دی ہے تاکہ ہم انہیں  اس بارے میں  آزمائیں  تو اس کی طرف تو اپنی آنکھیں  نہ پھیلا اور تیرے رب کا رزق سب سے اچھا اور سب سے زیادہ باقی رہنے والاہے۔

{وَ لَا تَمُدَّنَّ عَیْنَیْكَ اِلٰى:اوراس کی طرف تو اپنی آنکھیں  نہ پھیلا۔} اس آیت میں  بظاہر خطاب نبی کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے ہے اور اس سے مراد آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی امت ہے اور آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے سننے والے! ہم نے کافروں  کے مختلف گروہوں  جیسے یہودیوں  ،  عیسائیوں  اور مشرکوں  وغیرہ کودنیا کا جو ساز و سامان فائدہ اٹھانے کیلئے دیا ہے وہ اس وجہ سے دیا ہے تاکہ ہم انہیں  اس کے سبب اس طرح آزمائش میں  ڈالیں  کہ ان پر جتنی نعمت زیادہ ہو اتنی ہی ان کی سرکشی اور ان کا طُغیان بڑھے اور وہ سزائے آخرت کے سزاوار ہوں   ، لہٰذا تو تعجب اور اچھائی کے طور پر اس کی طرف اپنی آنکھیں  نہ پھیلا اور آخرت میں  تیرے ربعَزَّوَجَلَّ کا رزق جنت اور ا س کی نعمتیں سب سے اچھا اور سب سے زیادہ باقی رہنے والا رزق ہے۔( البحر المحیط ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۱۳۱ ،  ۶ / ۲۶۹ ،  مدارک ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۱۳۱ ، ص۷۰۷ ،  خازن ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۱۳۱ ،  ۳ / ۲۶۹-۲۷۰ ،  ملتقطاً)

 کفار کی ترقی ان کے لئے آزمائش ہے:

            اس آیت سے معلوم ہو اکہ کافروں  کے دُنْیَوی سازو سامان ، مال و دولت اور عیش و عشرت کافروں  کے لئے  اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک آزمائش ہیں  اس لئے مومن کو چاہئے کہ وہ کفار کی ان چیزوں  کو تعجب اور اچھائی کی نظر سے نہ دیکھے۔ حضرت حسن بصری رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ فرماتے ہیں  کہ نافرمانوں  کی شان و شوکت اور رعب داب نہ دیکھو بلکہ یہ دیکھو کہ گناہ اور معصیت کی ذلت کس طرح ان کی گردنوں  سے نمودار ہے۔( مدارک ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۱۳۱ ، ص۷۰۷)

                 اس میں  ان لوگوں  کے لئے بڑی نصیحت ہے جو فی زمانہ کفار کی دنیوی ٹیکنالوجی میں  ترقی ،  مال و دولت اور عیش عشرت کی فراوانی دیکھ کرتو ان سے انتہائی مرعوب اور دین ِاسلام سے ناراض دکھائی دیتے ہیں  جبکہ انہیں  یہ دکھائی نہیں  دیتا کہ اس ترقی اور دولت مندی کی وجہ سے وہ  اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرنے اور ا س کے احکام سے سرکشی کرنے میں  کتنا آگے بڑھ چکے ہیں  ،  کیا انہوں  نے دیکھا نہیں  کہ اسی ترقی کے سبب آج کونسا گناہ ایسا ہے جو وہ نہیں  کر رہے …؟ فحاشی  ،  عُریانی  ،  بے حیائی اور بے شرمی کی کونسی ایسی حد ہے جو وہ پار نہیں  کر چکے…؟ ظلم و ستم  ،  سفاکی اور بے رحمی کی کونسی ایسی لکیر ہے جسے وہ مٹا نہیں  چکے…؟ مسلمانوں  کو ذلت و رسوائی میں  ڈبونے کے لئے کون سا ایسا دریا ہے جس کے بند وہ توڑ نہیں  چکے…؟ افسوس! ان سب چیزوں  کو اپنی جیتی جاگتی آنکھوں  سے دیکھنے  ، سماعت سے بھر پور کانوں  سے سننے کے باوجود بھی لوگ عبرت نہیں  پکڑتے اور کفار کے عیش و عشرت اور ترقی و دولت کی داستانیں  سن سنا کر اور مسلمانوں  کی ذلت و غربت کا رونا رو کر نہ صرف خود اسلام سے دور ہوتے چلے جا رہے ہیں  بلکہ دوسرے مسلمانوں  کو بھی دین ِاسلام سے دور کرنے کی کوششوں  میں  مصروف ہیں ۔  اللہ تعالیٰ انہیں  عقلِ سلیم اور ہدایت عطا فرمائے۔

وَ اْمُرْ اَهْلَكَ بِالصَّلٰوةِ وَ اصْطَبِرْ عَلَیْهَاؕ-لَا نَسْــٴَـلُكَ رِزْقًاؕ-نَحْنُ نَرْزُقُكَؕ-وَ الْعَاقِبَةُ لِلتَّقْوٰى(۱۳۲)

ترجمۂ کنزالایمان: اور اپنے گھر والوں  کو نماز کا حکم دے اور خود اس پر ثابت رہ کچھ ہم تجھ سے روزی نہیں  مانگتے ہم تجھے روزی دیں  گے اور انجام کا بھلا پرہیزگاری کے لیے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اپنے گھر والوں  کو نماز کا حکم دو اور خود بھی نماز پر ڈٹے رہو۔ ہم تجھ سے کوئی رزق نہیں  مانگتے (بلکہ) ہم تجھے روزی دیں  گے اور اچھاانجام پرہیزگاری کے لیے ہے۔

{وَ اْمُرْ اَهْلَكَ بِالصَّلٰوةِ:اور اپنے گھر والوں  کو نماز کا حکم دو۔}  ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ،  جس طرح ہم نے آپ کو نماز ادا کرنے کا حکم دیا اسی طرح آپ بھی اپنے گھر والوں  کو نماز پڑھنے کا حکم دیں  اور خود بھی نماز ادا کرنے پر ثابت قدم رہیں ۔( روح البیان ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۱۳۲ ،  ۵ / ۴۴۸)

            حضرت ابوسعید خدری رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ فرماتے ہیں ’’ جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی تونبی کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ آٹھ ماہ تک حضرت علی کَرَّمَ  اللہ  تَعَالٰی  وَجْہَہُ الْکَرِیْم کے دروازے پرصبح کی نمازکے وقت تشریف لاتے رہے اور فرماتے ’’اَلصَّلَاۃُ رَحِمَکُمُ اللّٰہُ ، اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَیْتِ وَ یُطَهِّرَكُمْ تَطْهِیْرًا‘‘(ابن عساکر ،  حرف الطاء فی آباء من اسمہ علی ،  علی بن ابی طالب۔۔۔ الخ ،  ۴۲ / ۱۳۶)

نماز اور مسلمانوں  کا حال:

            یاد رہے کہ اس خطاب میں  حضور پُر نور صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی امت بھی داخل ہے اور آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ہر امتی کو بھی یہ حکم ہے کہ وہ اپنے گھروالوں  کو نماز ادا کرنے کا حکم دے اور خود بھی نماز ادا کرنے پر ثابت قدم رہے ۔

 



Total Pages: 235

Go To