Book Name:Sirat ul jinan jild 6

والے کو قیامت کے دن اندھا اٹھائیں  گے اور اس وقت وہ کہے گا: اے میرے رب! عَزَّوَجَلَّ ،  تو نے مجھے اندھا کیوں  اٹھایا حالانکہ میں  تو دنیا میں  دیکھنے والا تھا؟ یاد رہے کہ کافر قیامت کا پورا عرصہ اندھا نہیں  رہے گا بلکہ قیامت کے بعض اَحوال میں  اس کی بینائی نہیں  ہو گی اور بعض احوال میں  اسے بینائی عطا کر دی جائے گی تاکہ وہ قیامت کے ہولناک مَناظِر دیکھ سکے۔

قَالَ كَذٰلِكَ اَتَتْكَ اٰیٰتُنَا فَنَسِیْتَهَاۚ-وَ كَذٰلِكَ الْیَوْمَ تُنْسٰى(۱۲۶)

ترجمۂ کنزالایمان: فرمائے گا یونہی تیرے پاس ہماری آیتیں  آئی تھیں  تو نے انہیں  بھلا دیا اور ایسے ہی آج تیری کوئی خبرنہ لے گا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:  اللہ فرمائے گا: اسی طرح ہماری آیتیں  تیرے پاس آئی تھیں  تو تو نے انہیں  بھلا دیا اور آج اسی طرح تجھے چھوڑ دیا جائے گا۔

{قَالَ: اللہ فرمائے گا۔}اس کے جواب میں   اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا کہ دنیا میں  تیرے پاس میری نشانیاں  آئیں  لیکن تو ان پر ایمان نہ لایا اور تونے انہیں  پسِ پشت ڈال کران سے منہ پھیرلیا ،  اسی طرح آج ہم تجھے آگ میں  ڈال کر چھوڑ دیں گے اور تیرا حال پوچھنے والاکوئی نہ ہوگا۔( خازن ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۱۲۶ ،  ۳ / ۲۶۸)

 دونوں  جہاں  میں  گناہ اور نیکی کانتیجہ:

            اس سے معلوم ہوا کہ جیسے گناہ کا عذاب دنیا و آخرت میں  پڑتا ہے یونہی نیکی کا فائدہ دونوں  جہان میں  ملتا ہے ۔ جو مسلمان پانچوں  نمازیں  پابندی سے جماعت کے ساتھ ادا کرے اسے رزق میں  برکت  ،  قبر میں  فراخی نصیب ہوگی اور پل صراط پر آسانی سے گزرے گا اور جو جماعت کا تارک ہو گا اس کی کمائی میں  برکت نہ ہوگی ،  چہرے پر صالحین کے آثار نہ ہوں  گے  ،  لوگوں  کے دلوں  میں  اس سے نفرت ہوگی ،  پیاس و بھوک میں  جان کنی اور قبر کی تنگی میں  مبتلا ہوگا اور ا س کا حساب بھی سخت ہوگا۔

وَ كَذٰلِكَ نَجْزِیْ مَنْ اَسْرَفَ وَ لَمْ یُؤْمِنْۢ بِاٰیٰتِ رَبِّهٖؕ-وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَشَدُّ وَ اَبْقٰى(۱۲۷)

ترجمۂ کنزالایمان: اور ہم ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں  جو حد سے بڑھے اور اپنے رب کی آیتوں  پر ایمان نہ لائے اور بیشک آخرت کا عذاب سب سے سخت تر اور سب سے دیرپا ہے ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ہم اس شخص کو ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں  جو حد سے بڑھے اور اپنے رب کی آیتوں  پر ایمان نہ لائے اور بیشک آخرت کا عذاب سب سے شدید اور سب سے زیادہ باقی رہنے والا ہے۔

{وَ كَذٰلِكَ نَجْزِیْ:اور ہم ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں ۔} ارشاد فرمایا کہ ہم اس شخص کو ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں  جو اپنے رب کی نافرمانی کرنے میں  حد سے بڑھ جائے اور اپنے رب کی آیتوں  پر ایمان نہ لائے اور بیشک آخرت کا عذاب دُنْیَوی عذاب کے مقابلے میں سب سے شدید اور سب سے زیادہ باقی رہنے والا ہے۔ لہٰذا جو  اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات پانے اور ا س کا ثواب حاصل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے تو اسے چاہئے کہ وہ  اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے میں  آنے والی دنیوی سختیوں  پر صبر کرے اور دنیا کی نفسانی خواہشات اور گناہوں  سے بچتا رہے کیونکہ جنت کو مصیبتوں  سے اور جہنم کو شہوتوں سے چھپایا گیا ہے۔( روح البیان ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۱۲۷ ،  ۵ / ۴۴۲)

            حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے ،  نبی کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’ اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرئیل عَلَیْہِ  السَّلَامکو بلاکر جنت کی طرف بھیجا اور ان سے فرمایا ’’تم جنت اور ان نعمتوں  کو دیکھو جو میں  نے اہلِ جنت کے لئے تیار کی ہیں۔ حضرت جبرئیل عَلَیْہِ  السَّلَام دیکھ کر واپس آئے اور عرض کی :تیری عزت کی قسم! جو ان نعمتوں  کے بارے میں  سن لے گا وہ ان میں  داخل ہو گا۔ جنت کو مصیبتوں  سے چھپا دیا گیا ،  پھر ارشاد فرمایا ’’تم جنت کی طرف دوبارہ جاؤ اور اسے دیکھو۔ حضرت جبرئیل عَلَیْہِ  السَّلَامدیکھ کر واپس لوٹے اور عرض کی: تیری عزت کی قسم! مجھے ڈر ہے کہ اس میں  کوئی داخل نہ ہو سکے گا۔ پھر  اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرئیل عَلَیْہِ  السَّلَامکو جہنم کی طرف بھیجا اور ارشاد فرمایا ’’تم جہنم کی طرف جاؤ اور ان عذابات کو دیکھو جو میں  نے اہلِ جہنم کے لئے تیار کئے ہیں  ۔ حضرت جبرئیل عَلَیْہِ  السَّلَامانہیں  دیکھ کر واپس آئے اور عرض کی :تیری عزت کی قسم! جس نے ان عذابات کے بارے میں  سنا وہ جہنم میں  داخل نہیں  ہو گا۔ جہنم کو شہوتوں  سے ڈھانپ دیا گیا  ، پھر ارشاد فرمایا ’’جہنم کی طرف لوٹو اور اسے دیکھو۔ حضرت جبرئیل عَلَیْہِ  السَّلَامدیکھ کر آئے اور عرض کی :تیری عزت کی قسم! مجھے ڈر ہے کہ اس میں  داخل ہونے سے کوئی نہ بچے گا۔( مسند امام احمد ،  مسند ابی ہریرۃ رضی  اللہ عنہ ،  ۳ / ۳۰۸ ،  الحدیث: ۸۸۷۰)

اَفَلَمْ یَهْدِ لَهُمْ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ یَمْشُوْنَ فِیْ مَسٰكِنِهِمْؕ-اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی النُّهٰى۠(۱۲۸)

ترجمۂ کنزالایمان: تو کیا انہیں  اس سے راہ نہ ملی کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی سنگتیں  ہلاک کردیں  کہ یہ ان کے بسنے کی جگہ چلتے پھرتے ہیں  بیشک اس میں  نشانیاں  ہیں  عقل والوں  کو۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو کیا انہیں  اس بات نے ہدایت نہ دی کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی قومیں  ہلاک کردیں  جن کی رہائش کی جگہوں  میں  یہ چلتے پھرتے ہیں  بیشک اس میں  عقل والوں  کیلئے نشانیاں  ہیں ۔

 {اَفَلَمْ یَهْدِ لَهُمْ:تو کیا انہیں  اس بات نے ہدایت نہ دی۔} ارشاد فرمایا کہ کیا کفارِقریش کو اس بات نے ہدایت نہ دی کہ ہم نے ان سے پہلے رسولوں  کو نہ ماننے والی کتنی قومیں  ہلاک کردیں  جن کی رہائش کی جگہوں  میں  یہ لوگ چلتے پھرتے ہیں  اور اپنے سفروں  میں  ان کے علاقوں  سے گزرتے اور ان کی ہلاکت کے نشان دیکھتے ہیں ۔بیشک سابقہ قوموں  کو عذاب کے ذریعے ہلاک کر دینے میں  ان عقل والوں  کیلئے نشانیاں  ہیں  جو عبرت حاصل کریں  اور یہ سمجھ سکیں  کہ انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی تکذیب اور ان کی مخالفت کا انجام برا ہے۔(خازن ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۱۲۸ ،  ۳ / ۲۶۹ ،  مدارک ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۱۲۸ ،  ص۷۰۶ ،  ملتقطاً)

وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَكَانَ لِزَامًا وَّ اَجَلٌ مُّسَمًّىؕ(۱۲۹)

ترجمۂ کنزالایمان: اور اگر تمہارے رب کی ایک بات نہ گزر چکی ہوتی تو ضرور عذاب انھیں  لپٹ جاتا اور اگر نہ ہوتا ایک وعدہ ٹھہرایا ہوا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور اگر تمہارے رب کی طرف سے ایک بات پہلے (طے) نہ ہو چکی ہوتی اور ایک مقررہ مدت نہ ہوتی تو ضرور عذاب انہیں  لپٹ جاتا ۔

{وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ:اور اگر تمہارے رب کی طرف سے ایک بات پہلے نہ ہو چکی ہوتی۔} ارشاد فرمایا کہ اگر تمہارے رب عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے ایک بات پہلے طے نہ ہو چکی



Total Pages: 235

Go To