Book Name:Sirat ul jinan jild 6

خوراک کے لئے زمین جوتنے  ،  کھیتی کرنے  ،  دانہ نکالنے  ،  پیسنے  ،  پکانے کی محنت میں  مبتلا ہو جاؤ گے۔ بیشک تیرے لیے یہ ہے کہ تو جنت میں  بھوکا نہیں  ہوگا کیونکہ جنت کی تمام نعمتیں  ہر وقت حاضر ہوں  گی اور نہ ہی تو اس میں  ننگا ہوگا کیونکہ تمام ملبوسات جنت میں  موجود ہوں  گے  ، اور تیرے لئے یہ بھی ہے کہ تو جنت میں  کبھی پیاسا نہ ہوگاکیونکہ اس میں  ہمیشہ کے لئے نہریں  جاری ہیں  اور نہ تجھے جنت میں  دھوپ لگے گی کیونکہ جنت میں  سور ج نہیں  ہے اور اہلِ جنت ہمیشہ رہنے والے دراز سائے میں  ہوں  گے ،  الغرض ہر طرح کا عیش و راحت جنت میں  موجود ہے اور اس میں  محنت اور کمائی کرنے سے بالکل امن ہے(لہٰذا تم شیطان کے وسوسوں  سے بچ کر رہنا)۔( خازن ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۱۱۷-۱۱۹ ، ۳ / ۲۶۵-۲۶۶ ،  روح البیان ،  طہ ،  تحت الآیۃ:۱۱۷-۱۱۹ ، ۵ / ۴۳۵-۴۳۶ ،  ملتقطاً)

شیطان کی حضرت آدم عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامسے دشمنی کی وجہ:

             آیت نمبر 117 میں  شیطان کا حضرت آدمعَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو سجدہ نہ کرنا آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے ساتھ اس کی دشمنی کی دلیل قرار دیا گیا ہے  ، یہاں  اس دشمنی کی وجہ وضاحت سے بیان کی جاتی ہے ۔ جب ابلیس نے حضرت آدم عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر  اللہ تعالیٰ کا انعام واکرام دیکھا تو وہ ان سے حسد کرنے لگا اور یہ حسد ا س کی دشمنی کا ایک سبب تھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ جسے کسی سے حسد ہو تو وہ اس کا دشمن بن جاتا ہے اور وہ اس کی ہلاکت چاہتا اور اس کا حال خراب کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

 سورۂ طٰہٰ کی آیت نمبر 117 تا 119 سے حاصل ہونے والی معلومات:

            ان آیات سے تین باتیں  معلوم ہوئیں

(1)… فضل و شرف والے کی فضیلت کو تسلیم نہ کرنا اور اس کی تعظیم و احترام بجا لانے سے اِعراض کرنا حسد و عداوت کی دلیل ہے۔

(2)… حضرت آدمعَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اسی مشہور جنت میں  رکھے گئے تھے جو بعد ِقیامت نیکوں  کو عطا ہو گی  ، وہ کو ئی دُنْیَوی باغ نہ تھا کیونکہ اس باغ میں  تو دھوپ بھی ہوتی ہے اور وہاں  بھوک بھی لگتی ہے ۔

(3)…جنتی نعمتوں  کی بڑی اہمیت ہے  ، اس لئے ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ ان نعمتوں  کی قدر کرے اور شیطان کی پیروی کر کے ان عظیم نعمتوں  سے خود کو محروم نہ کرے۔

فَوَسْوَسَ اِلَیْهِ الشَّیْطٰنُ قَالَ یٰۤاٰدَمُ هَلْ اَدُلُّكَ عَلٰى شَجَرَةِ الْخُلْدِ وَ مُلْكٍ لَّا یَبْلٰى(۱۲۰)

ترجمۂ کنزالایمان: تو شیطان نے اسے وسوسہ دیا بولا اے آدم کیا میں  تمہیں  بتادوں  ہمیشہ جینے کا پیڑ اور وہ بادشاہی کہ پرانی نہ پڑے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو شیطان نے اسے وسوسہ ڈالا  ،  کہنے لگا: اے آدم! کیا میں  تمہیں  ہمیشہ رہنے کے درخت اور ایسی بادشاہت کے متعلق بتادوں  جو کبھی فنا نہ ہوگی۔

{فَوَسْوَسَ اِلَیْهِ الشَّیْطٰنُ:تو شیطان نے اسے وسوسہ ڈالا۔} اس سے پہلی آیات میں   اللہ تعالیٰ نے حضرت آدمعَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی عظمت بیان فرمائی کہ اس نے انہیں  فرشتوں  سے سجدہ کروایا اور اس کے بعد بیان فرمایا کہ  اللہ تعالیٰ نے حضرت آدمعَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ان کی زوجہ حضرت حوا رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی  عَنْہاکو شیطان کی دشمنی کی پہچان کروا دی اور جنتی نعمتوں  کی اہمیت بیان فرما دی اور اب اس آیت میں  بیان فرمایا جا رہا ہے کہ شیطان نے حضرت آدم عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو وسوسہ ڈالا اور کہنے لگا: اے آدم! عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ،  کیا میں  آپ کو ایک ایسے درخت کے بارے میں  بتادوں  جسے کھا کر کھانے والے کو دائمی زندگی حاصل ہو جاتی ہے اور ایسی بادشاہت کے متعلق بتادوں  جو کبھی فنا نہ ہوگی اور اس میں  زوال نہ آئے گا۔(تفسیرکبیر ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۱۲۰ ،  ۸ / ۱۰۷ ،  جلالین ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۱۲۰ ،  ص۲۶۸ ،  ملتقطاً)

فَاَكَلَا مِنْهَا فَبَدَتْ لَهُمَا سَوْاٰتُهُمَا وَ طَفِقَا یَخْصِفٰنِ عَلَیْهِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّةِ٘-وَ عَصٰۤى اٰدَمُ رَبَّهٗ فَغَوٰى۪ۖ(۱۲۱)

ترجمۂ کنزالایمان: تو ان دونوں  نے اس میں  سے کھالیا اب ان پر ان کی شرم کی چیزیں  ظاہر ہوئیں  اور جنت کے پتے اپنے اوپر چپکانے لگے اور آدم سے اپنے رب کے حکم میں  لغزش واقع ہوئی تو جو مطلب چاہا تھا اس کی راہ نہ پائی۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو ان دونوں  نے اس درخت میں  سے کھا لیا تو ان پر ان کی شرم کے مقام ظاہر ہوگئے اور وہ جنت کے پتے اپنے اوپر چپکانے لگے اور آدم سے اپنے رب کے حکم میں  لغزش واقع ہوئی تو جو مقصد چاہا تھا وہ نہ پایا۔

{فَاَكَلَا مِنْهَا:تو ان دونوں  نے اس درخت میں  سے کھالیا۔} ابلیس کے وسوسہ دلانے کے بعد حضرت آدم عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور حضرت حوا رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہانے اس درخت میں  سے کھا لیا تو ان کے جنتی لباس اتر گئے اور ان پر ان کی شرم کے مقام ظاہر ہوگئے اور وہ اپنا ستر چھپانے اور جسم ڈھانکنے کے لئے جنت کے پتے اپنے اوپر چپکانے لگے اور درخت سے کھا کر حضرت آدمعَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے اپنے رب عَزَّوَجَلَّکے حکم میں  لغزش واقع ہوئی توانہوں  نے اس سے جو مقصد چاہا تھا وہ نہ پایا اور اس درخت کے کھانے سے انہیں  دائمی زندگی نہ ملی۔( خازن ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۱۲۱ ،  ۳ / ۲۶۶)

انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی عِصمت سے متعلق اہلسنّت و جماعت کا عقیدہ:

            یاد رہے کہ حضرت آدم عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے لغزش کا واقع ہونا ارادے اور نیت سے نہ تھا بلکہ آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکا ارادہ اور نیت حکم کو پورا کرنے اور اس چیز سے بچنے کا تھا جو جنت سے نکال دئیے جانے کا سبب بنے ،  لہٰذا کسی شخص کے لئے تاویل کے بغیر حضرت آدم عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی طرف نافرمانی کی نسبت کرنا جائز نہیں ۔  اللہ تعالیٰ حضرت آدم عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامسے راضی ہے اور آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نبوت سے پہلے اور نبوت کے بعد بھی  اللہ تعالیٰ کے کسی حکم کی مخالفت کرنے سے معصوم ہیں۔( صاوی ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۱۲۱ ،  ۴ / ۱۲۸۳)

            یہاں  انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی عِصمت سے متعلق اہلسنّت و جماعت کے عقیدے کے بارے میں   اعلیٰ حضرت امام احمد ر ضا خان رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  کے ایک کلام کا خلاصہ ملاحظہ ہو ’’اہلِ حق یعنی اہلِ اسلام اور اہلسنّت وجماعت شاہراہِ عقیدت پر چل کر منزلِ مقصود کو پہنچے جبکہ سرکشی کرنے والے اور اہلِ باطل تفصیلات میں  ڈوب کر اور ان میں  ناحق غور



Total Pages: 235

Go To