Book Name:Sirat ul jinan jild 6

دن ہر شخص اپنے اعمال کے درخت کا پھل پائے گا اور جیسے اس کے اعمال ہوں  گے ویسے انجام تک وہ پہنچ جائے گا اور نیک اعمال میں  سب سے افضل فرائض کو ادا کرنا اور حرام و ممنوع کاموں  سے بچنا ہے ۔ (اسی سے متعلق ایک حکایت ملاحظہ ہو ، چنانچہ) ایک مرتبہ خلیفہ سلیمان بن عبد الملک نے حضرت ابو حازم رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ سے عرض کی : مجھے نصیحت کیجئے۔ آپ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ نے فرمایا ’’تم اپنے رب عَزَّوَجَلَّکی پاکی بیان کرتے رہو اور اس بات کو بہت بڑ اجانو کہ تمہارا رب عَزَّوَجَلَّ تمہیں  وہاں  دیکھے جہاں  اس نے تمہیں  منع کیا ہے اور وہاں  تجھے موجود نہ پائے جہاں  موجود ہونے کا اس نے تمہیں  حکم دیا ہے۔

            اور نیک اعمال کے سلسلے میں  لوگوں  کی ایک تعدادکا یہ حال ہے کہ وہ نفلی کاموں  میں  تو بہت جلدی کرتے ہیں   ،  لمبے لمبے اور کثیر اوراد ووظائف پابندی سے پڑھتے ہیں  ،  مشکل اور بھاری نفلی کام کرنے میں  رغبت رکھتے ہیں  جبکہ وہ کام جنہیں  کرنا ان پر فرض و واجب ہے ان میں  سستی سے کام لیتے ہیں  اور انہیں  صحیح طریقے سے ادا بھی نہیں  کرتے ۔

            ایک بزرگ فرماتے ہیں  : نفسانی خواہش کی پیروی کی ایک علامت یہ ہے کہ بندہ نفلی نیک کام کرنے میں  تو بہت جلدی کرے اور واجبات کے حقوق ادا کرنے میں  سستی سے کام لے۔

            حضرت ابومحمد مرتعش رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  فرماتے ہیں  :میں  نے کئی حج ننگے پاؤں  اور پید ل سفر کر کے کئے ۔ ایک دن رات کے وقت میری والدہ نے مجھ سے کہا کہ ہاجرہ کو پانی پلا دو ،  تو مجھے یہ کام بہت بھاری لگا ،  اس سے میں  نے جان لیا کہ پیدل حج کرنے پر میں  نے اپنے نفس کی جو بات مانی اس میں  میرے نفس کی لذت کا عمل دخل تھا کیونکہ اگر میرا نفس ختم ہو چکا ہوتا تو (والدہ کی اطاعت کا) وہ کام مجھے بھاری محسوس نہ ہوتا جو شریعت کا حق تھا۔( روح البیان ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۱۱۲ ،  ۵ / ۴۳۱ ،  ملخصاً)

وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا وَّ صَرَّفْنَا فِیْهِ مِنَ الْوَعِیْدِ لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ اَوْ یُحْدِثُ لَهُمْ ذِكْرًا(۱۱۳)

ترجمۂ کنزالایمان: اور یونہی ہم نے اسے عربی قرآن اتارا اور اس میں  طرح طرح سے عذاب کے وعدے دئیے کہ کہیں  انہیں  ڈر ہو یا ان کے دل میں  کچھ سوچ پیدا کرے ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور یونہی ہم نے اسے عربی قرآن نازل فرمایا اور اس میں  مختلف انداز سے عذاب کی وعیدیں  بیان کیں  تاکہ لوگ ڈریں  یا قرآن ان کے دل میں  کچھ غور وفکر پیدا کرے۔

{وَ كَذٰلِكَ:اور یونہی۔} اس آیت میں  قرآنِ مجید کی دو صفات بیان کی گئیں  (1) قرآن کریم کو عربی زبان میں  نازل کیا گیا ،  تاکہ اہلِ عرب اسے سمجھ سکیں  اور وہ اس بات سے واقف ہوجائیں  کہ قرآن پاک کی نظم عاجز کر دینے والی ہے اور یہ کسی انسان کا کلام نہیں ۔ (2) قرآنِ مجیدمیں  مختلف انداز سے فرائض چھوڑنے اور ممنوعات کا اِرتکاب کرنے پر عذاب کی وَعِیدیں  بیان کی گئیں  تاکہ لوگ ڈریں  اور قرآن عظیم ان کے دل میں  کچھ نصیحت اور غوروفکر پیدا کرے جس سے انہیں  نیکیوں  کی رغبت اور بدیوں  سے نفرت ہو اور وہ عبرت و نصیحت حاصل کریں ۔( تفسیرکبیر ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۱۱۳ ،  ۸ / ۱۰۳ ،  خازن ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۱۱۳ ،  ۳ / ۲۶۴-۲۶۵ ،  ملتقطاً)

فَتَعٰلَى اللّٰهُ الْمَلِكُ الْحَقُّۚ-وَ لَا تَعْجَلْ بِالْقُرْاٰنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یُّقْضٰۤى اِلَیْكَ وَحْیُهٗ٘-وَ قُلْ رَّبِّ زِدْنِیْ عِلْمًا(۱۱۴)

ترجمۂ کنزالایمان: تو سب سے بلند ہے  اللہ سچا بادشاہ اور قرآن میں  جلدی نہ کرو جب تک اس کی وحی تمہیں  پوری نہ ہولے اور عرض کرو کہ اے میرے رب مجھے علم زیادہ دے ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو وہ  اللہ بہت بلند ہے جو سچا بادشاہ ہے اور آپ کی طرف قرآن کی وحی کے ختم ہونے سے پہلے قرآن میں  جلدی نہ کرو اور عرض کرو: اے میرے رب! میرے علم میں  اضافہ فرما۔

{فَتَعٰلَى اللّٰهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ:تو وہ  اللہ بہت بلند ہے جو سچا بادشاہ ہے۔}ارشاد فرمایا کہ وہ اللّٰہعَزَّوَجَلَّ بہت بلند ہے جو سچا بادشاہ اور اصل مالک ہے اور تمام بادشاہ اس کے محتاج ہیں  اور اے حبیب! صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ،  آپ اپنی طرف قرآن کی وحی کے ختم ہونے سے پہلے قرآن پڑھنے میں  جلدی نہ کریں ۔ اس کاشانِ نزول یہ ہے کہ جب حضرت جبریل عَلَیْہِ  السَّلَامقرآنِ کریم لے کر نازل ہوتے تھے توسیّد المرسَلین صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ان کے ساتھ ساتھ پڑھتے تھے اور جلدی کرتے تھے تاکہ خوب یاد ہو جائے ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا گیا کہ اے حبیب! صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ،  آپ یاد کرنے کی مشقت نہ اٹھائیں  ۔ سورۂ قیامہ میں   اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید کو جمع کرنے اور اسے آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی زبان مبارک پر جاری کرنے کا خود ذمہ لے کر آپ کی اور زیادہ تسلی فرما دی ۔

{وَ قُلْ رَّبِّ زِدْنِیْ عِلْمًا: اور عرض کرو:اے میرے رب! میرے علم میں  اضافہ فرما۔} اس آیت میں   اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکو علم میں  اضافے کی دعا مانگنے کی تعلیم دی  ،  اس سے معلوم ہوا کہ علم سے کبھی سیر نہیں  ہونا چاہیے بلکہ مزید علم کی طلب میں  رہنا چاہئے ۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ علم کی حرص اچھی چیز ہے ،  جیسے نبی اکرم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تمام مخلوق میں  سب سے بڑے عالم ہیں  مگر انہیں حکم دیا گیا کہ زیادتی ٔعلم کی دعا مانگو۔ نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ حضور پُر نور صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا علم ہمیشہ ترقی میں  ہے ،   اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

’’وَ لَلْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لَّكَ مِنَ الْاُوْلٰى‘‘(والضحی:۴)

ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور بیشک تمہارے لئے ہر پچھلی گھڑی پہلیسے بہتر ہے۔

وَ لَقَدْ عَهِدْنَاۤ اِلٰۤى اٰدَمَ مِنْ قَبْلُ فَنَسِیَ وَ لَمْ نَجِدْ لَهٗ عَزْمًا۠(۱۱۵)

ترجمۂ کنزالایمان: اور بیشک ہم نے آدم کو اس سے پہلے ایک تاکیدی حکم دیا تھا تو وہ بھول گیا اور ہم نے اس کا قصد نہ پایا ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور بیشک ہم نے آدم کو اس سے پہلے تاکیدی حکم دیا تھا تو وہ بھول گیا اور ہم نے اس کا کوئی مضبوط ارادہ نہ پایاتھا ۔

{وَ لَقَدْ عَهِدْنَاۤ اِلٰۤى اٰدَمَ مِنْ قَبْلُ:اور بیشک ہم نے آدم کو اس سے پہلے تاکیدی حکم دیا تھا۔} اس سے پہلے سورۂ بقرہ ،  سورۂ اَعراف ،  سورۂ حجر ،  سورۂ بنی اسرائیل اور سورۂ کہف میں  



Total Pages: 235

Go To