Book Name:Sirat ul jinan jild 6

(5)…حضرت عثمان بن عفان رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُسے روایت ہے ،  رسول اکرم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’قیامت کے دن تین لوگ شفاعت کریں  گے ۔ (1) انبیاءِ کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام۔ (2)پھر علماء۔ (3) پھر شہداء۔(ابن ماجہ ،  کتاب الزہد ،  باب ذکر الشفاعۃ ،  ۴ / ۵۲۶ ،  الحدیث: ۴۳۱۳)

(6)… حضرت انس بن مالک رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے ،  سرکارِ دو عالَم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’قیامت کے دن لوگ صفیں  باندھے ہوئے ہوں  گے ،  (اتنے میں ) ایک دوزخی ایک جنتی کے پاس سے گزرے گا اور اس سے کہے گا: کیا آپ کو یاد نہیں  کہ آپ نے ایک دن مجھ سے پانی مانگا تو میں  نے آپ کوپلا دیا تھا؟ اتنی سی بات پر وہ جنتی اس دوزخی کی شفاعت کرے گا۔ ایک جہنمی کسی دوسرے جنتی کے پاس سے گزرے گا تو کہے گا: کیا آپ کو یاد نہیں  کہ ایک دن میں  نے آپ کووضو کیلئے پانی دیا تھا؟ اتنے ہی پر وہ اس کاشفیع ہوجائے گا۔ ایک کہے گا: آپ کو یاد نہیں  کہ فلاں  دن آپ نے مجھے فلاں  کام کوبھیجا تومیں  چلا گیا تھا؟ اسی قدر پر یہ اس کی شفاعت کرے گا۔( ابن ماجہ ،  کتاب الادب ،  باب فضل صدقۃ الماء ،  ۴ / ۱۹۶ ،  الحدیث: ۳۶۸۵)

یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ وَ لَا یُحِیْطُوْنَ بِهٖ عِلْمًا(۱۱۰)

ترجمۂ کنزالایمان: وہ جانتا ہے جو کچھ ان کے آگے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے اور ان کا علم اسے نہیں  گھیر سکتا ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: وہ جانتا ہے جو کچھ ان لوگوں  کے آگے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے اور لوگوں کا علم اسے نہیں  گھیر سکتا۔

{یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ:وہ جانتا ہے جو کچھ ان لوگوں  کے آگے ہے ۔} یعنی  اللہ تعالیٰ کا علم بندوں  کی ذات و صفات ،  ان کے گزشتہ اور آئندہ کے تمام اَحوال اور دنیا و آخرت کے جملہ اُمور کا اِحاطہ کئے ہوئے ہے ۔

{وَ لَا یُحِیْطُوْنَ بِهٖ عِلْمًا:اور لوگوں کا علم اسے نہیں  گھیر سکتا ۔} یعنی پوری کائنات کا علم  اللہ تعالیٰ کی ذات کا احاطہ نہیں  کر سکتا  ،  اس کی ذات کا اِدراک کائنات کے علوم کی رسائی سے برتر ہے  ،  وہ اپنے اَسماء و صفات  ،  آثارِ قدرت اور حکمت کی صورتوں  سے پہچانا جاتا ہے ۔ فارسی کا ایک شعر ہے:

کجا دریابد او را عقلِ چالاک                                                 کہ اوبالا تر است ازحدِ ادراک

نظر کن اندر اسماء وصفاتَش                                              کہ واقف نیست کس از کنہِ ذاتَش

            یعنی تیز عقل ا س کی ذات کا ادراک کس طرح کر سکتی ہے کیونکہ وہ تو فہم و ادراک کی حد سے ہی بالا تر ہے ،  لہٰذا تم اس کے اسماء و صفات میں  غورو فکر کرو کہ اس کی ذات کی حقیقت سے کوئی واقف ہی نہیں ۔

            بعض مفسرین نے اس آیت کے معنی یہ بیان کئے ہیں  کہ مخلوق کے علوم  اللہ تعالیٰ کی معلومات کا احاطہ نہیں  کر سکتے۔(روح البیان ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۱۱۰ ،  ۵ / ۴۳۰ ،  ابو سعود ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۱۱۰ ،  ۳ / ۴۹۲ ،  ملتقطاً)

وَ عَنَتِ الْوُجُوْهُ لِلْحَیِّ الْقَیُّوْمِؕ-وَ قَدْ خَابَ مَنْ حَمَلَ ظُلْمًا(۱۱۱)

ترجمۂ کنزالایمان: اور سب منہ جھک جائیں  گے اس زندہ قائم رکھنے والے کے حضور اور بیشک نامراد رہا جس نے ظلم کا بوجھ لیا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور تمام چہرے اُس کے حضور جھک جائیں  گے جو خود زندہ  ،  دوسروں  کوقائم رکھنے والا ہے اور بیشک وہ شخص ناکام رہا جس نے ظلم کا بوجھ اٹھایا۔

{وَ عَنَتِ الْوُجُوْهُ:اور تمام چہرے جھک جائیں  گے ۔} ارشاد فرمایا کہ حشر کے دن تمام چہرے اس خدا کے حضور جھک جائیں  گے جو خود زندہ  ،  دوسروں  کوقائم رکھنے والا ہے اور ہر ایک شانِ عجز و نیاز کے ساتھ حاضر ہو گا  ،  کسی میں  سرکشی نہ رہے گی اور  اللہ تعالیٰ کے قہر و حکومت کا کامل ظہور ہو گا اور بیشک وہ شخص ناکام رہا جس نے ظلم کا بوجھ اٹھایا۔ یہاں  ظلم سے مراد شرک ہے اور بے شک شرک شدید ترین ظلم ہے اور جو اس ظلم کے بوجھ تلے دبے ہوئے مَوقِفِ قیامت میں  آئے گا تو اس سے بڑھ کر نامراد کون ہے۔( خازن ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۱۱۱ ، ۳ / ۲۶۴ ،  مدارک ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۱۱۱ ،  ص۷۰۳-۷۰۴ ،  ملتقطاً)

وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا یَخٰفُ ظُلْمًا وَّ لَا هَضْمًا(۱۱۲)

ترجمۂ کنزالایمان: اور جو کچھ نیک کام کرے اور ہو مسلمان تو اسے نہ زیادتی کا خوف ہوگا نہ نقصان کا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جو کوئی اسلام کی حالت میں  کچھ نیک اعمال کرے تو اسے نہ زیادتی کا خوف ہوگا اور نہ کمی کا ۔

{وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ وَ هُوَ مُؤْمِنٌ:اور جو کوئی اسلام کی حالت میں  کچھ نیک اعمال کرے۔} ارشاد فرمایا کہ جو کوئی اسلام کی حالت میں  کچھ نیک اعمال کرے تو اسے اس بات کا خوف نہ ہو گا کہ وعدے کے مطابق وہ جس ثواب کا مستحق تھا وہ اسے نہ دے کر اس کے ساتھ زیادتی کی جائے گی اور نہ ہی اسے کم ثواب دئیے جانے کا اندیشہ ہو گا۔( روح البیان ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۱۱۲ ،  ۵ / ۴۳۱)

نیک اعمال کی قبولیت ایمان کے ساتھ مشروط ہے:

            اس آیت سے معلوم ہوا کہ طاعت اور نیک اعمال سب کی قبولیت ایمان کے ساتھ مشروط ہے کہ ایمان ہو تو سب نیکیاں  کار آمد ہیں  اور ایمان نہ ہو تویہ سب عمل بے کار  ، ہاں  ایمان لانے کے بعد کفر کے زمانے کی نیکیاں  بھی قبول ہو جاتی ہیں  ،  جیسا کہ حدیث شریف میں  ہے۔

 نیک اعمال اور لوگوں  کا حال:

            علامہ اسماعیل حقی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  فرماتے ہیں : اس آیت سے معلوم ہو ا کہ ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ نیک اعمال میں  مشغول رہے اور گناہوں  سے رک جائے کیونکہ قیامت کے



Total Pages: 235

Go To