Book Name:Sirat ul jinan jild 6

ترجمۂ کنزالایمان: اس دن پکارنے والے کے پیچھے دوڑیں  گے اس میں  کجی نہ ہوگی اور سب آوازیں  رحمٰن کے حضور پست ہوکر رہ جائیں  گی تو تُو نہ سنے گا مگر بہت آہستہ آواز۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اس دن پکارنے والے کے پیچھے چلیں  گے(لوگوں  کی طرف سے)اس داعی کے لئے اِدھراُدھرہونا نہ ہوگا اور سب آوازیں  رحمٰن کے حضو ر پست ہوکر رہ جائیں  گی تو تُو ہلکی سی آواز کے سوا کچھ نہ سنے گا۔

{یَوْمَىٕذٍ یَّتَّبِعُوْنَ الدَّاعِیَ:اس دن پکارنے والے کے پیچھے چلیں  گے ۔} ارشاد فرمایا کہ جس دن پہاڑ ریزہ ریزہ کر کے اڑا دئیے جائیں  گے اس دن لوگ قبروں  سے نکلنے کے بعد پکارنے والے کے پیچھے چلیں  گے جو انہیں  قیامت کے دن مَوقِف کی طرف بلا ئے گا اور ندا کرے گا: رحمٰن عَزَّوَجَلَّکے حضور پیش ہونے کے لئے چلو  ،  اور یہ پکارنے والے حضرت اسرافیل عَلَیْہِ  السَّلَامہوں  گے ۔ لوگ اس بات پر قادر نہ ہو ں  گے کہ وہ دائیں  بائیں  مڑ جائیں  اور اس کے پیچھے نہ چلیں  بلکہ وہ سب تیزی سے پکارنے والے کے پیچھے چلیں  گے اور اس دن سب آوازیں  رحمٰن کے حضو ر ہیبت و جلال کی وجہ سے پَست ہوکر رہ جائیں  گی اور حال یہ ہو گا کہ تو ہلکی سی آواز کے سوا کچھ نہ سنے گا۔ اس کی کیفیت کے بارے حضرت عبد اللہ بن عباس رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمَانے فرمایا ’’وہ ہلکی سی آواز ایسی ہو گی کہ اس میں  صرف لبوں  کی جنبش ہوگی۔( روح البیان ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۱۰۸ ،  ۵ / ۴۲۸ ،  خازن ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۱۰۸ ،  ۳ / ۲۶۴ ،  جلالین ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۱۰۸ ،  ص۲۶۷ ،  ملتقطاً)

یَوْمَىٕذٍ لَّا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَهُ الرَّحْمٰنُ وَ رَضِیَ لَهٗ قَوْلًا(۱۰۹)

ترجمۂ کنزالایمان: اس دن کسی کی شفاعت کام نہ دے گی مگر اس کی جسے رحمٰن نے اذن دے دیا ہے اور اس کی بات پسند فرمائی۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اس دن کسی کی شفاعت کام نہ دے گی سوائے اس کے جسے رحمٰن نے اجازت دیدی ہو اور اس کی بات پسند فرمائی ہو۔

{یَوْمَىٕذٍ لَّا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ:اس دن کسی کی شفاعت کام نہ دے گی۔} ارشاد فرمایا کہ جس دن یہ ہَولناک اُمور واقع ہوں  گے اس دن شفاعت کرنے والوں  میں  سے کسی کی شفاعت کام نہ دے گی البتہ اس کی شفاعت کام دے گی جسے  اللہ تعالیٰ نے شفاعت کرنے کی اجازت دیدی ہو اور اس کی بات پسند فرمائی ہو۔( روح البیان ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۱۰۹ ،  ۵ / ۴۲۹)

اہلِ ایمان کی شفاعت کی دلیل:

            علامہ علی بن محمد خازن رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  فرماتے ہیں  :یہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے قیامت کے دن مومن کے علاوہ کسی اور کی شفاعت نہ ہو گی اور کہا گیا ہے کہ شفاعت کرنے والے کا درجہ بہت عظیم ہے اور یہ اسے ہی حاصل ہو گا جسے  اللہ تعالیٰ اجازت عطا فرمائے گا اور وہ  اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  پسندیدہ ہو گا۔( خازن ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۱۰۹ ،  ۳ / ۲۶۴)

شفاعت سے متعلق6 اَحادیث:

            یاد رہے کہ  اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنے مقبول بندوں  کو گناہگار مسلمانوں  کی شفاعت کرنے کی اجازت عطا فرمائے گا اور یہ مقرب بندے  اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی اجازت سے گناہگاروں  کی شفاعت کریں  گے ،  اس مناسبت سے یہاں  شفاعت سے متعلق 6 اَحادیث ملاحظہ ہوں

(1)…حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے ،  رسول کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’میں  قیامت کے دن حضرت آدم عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی اولاد کا سردار ہوں  گا ،  سب سے پہلے میری قبر کھلے گی ،  سب سے پہلے میں  شفاعت کروں  گا اور سب سے پہلے میری شفاعت قبول کی جائے گی۔( مسلم ،  کتاب الفضائل ،  باب تفضیل نبیّنا صلی  اللہ علیہ وسلم علی جمیع الخلائق ،  ص۱۲۴۹ ،  الحدیث: ۳(۲۲۷۸))

(2)…حضرت عبد اللہ بن عباس رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمَا سے روایت ہے ،  چند صحابۂ کرام رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمْ نبی اکرم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے انتظار میں  بیٹھے ہوئے تھے ،  اتنے میں  آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تشریف لے آئے ،  جب قریب پہنچے تو صحابۂ کرام رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمْ کو کچھ گفتگو کرتے ہوئے سنا۔ ان میں  سے بعض نے کہا: تعجب کی بات ہے کہ  اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق میں  سے حضرت ابراہیم عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو اپنا خلیل بنایا ،  دوسرے نے کہا: یہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامسے  اللہ تعالیٰ کے ہم کلام ہونے سے زیادہ تعجب خیز تو نہیں ۔ ایک نے کہا حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  اللہ تعالیٰ کاکلمہ اور روح ہیں ۔ کسی نے کہا :حضرت آدم عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو  اللہ تعالیٰ نے چن لیا ،  حضور پُرنور صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَان کے پاس تشریف لائے ،  سلام کیا اور فرمایا ’’ میں  نے تمہاری گفتگو اور تمہارا تعجب کرنا سنا کہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام خلیلُ  اللہ ہیں  ،  بیشک وہ ایسے ہی ہیں  ،  حضرت موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نَجِیُّ  اللہ ہیں   ،  بے شک وہ اسی طرح ہیں  ،  حضرت عیسیٰعَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام روح ُ اللہ اور کلمۃُ  اللہ ہیں  ،  واقعی وہ اسی طرح ہیں ۔ حضرت آدم عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو  اللہ تعالیٰ نے چن لیا وہ بھی یقینا ایسے ہی ہیں ۔ سن لو! میں   اللہ تعالیٰ کا حبیب ہوں  اور کوئی فخر نہیں ۔ میں  قیامت کے دن حمد کا جھنڈا اٹھانے والا ہوں  اور کوئی فخر نہیں ۔ قیامت کے دن سب سے پہلے شفاعت کرنے والا بھی میں  ہی ہوں  اور سب سے پہلے میری ہی شفاعت قبول کی جائے گی اور کوئی فخر نہیں ۔ سب سے پہلے جنت کا کُنڈا کھٹکھٹانے والا بھی میں  ہی ہوں  ،   اللہ تعالیٰ میرے لئے اسے کھولے گا اور مجھے داخل کرے گا ،  میرے ساتھ فقیر   مومن ہوں  گے اور کوئی فخر نہیں ۔ میں  اَوّلین و آخرین میں  سب سے زیادہ مکرم ہوں  لیکن کوئی فخر نہیں ۔( ترمذی ،  کتاب المناقب ،  باب ما جاء فی فضل النبی صلی  اللہ علیہ وسلم ،  ۵ / ۳۵۴ ،  الحدیث: ۳۶۳۶)

(3)… حضرت ابوہریرہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُسے روایت ہے ،  رسولُ  اللہ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’ہرنبی کی ایک دعا قبول ہوتی ہے ،  پس ہرنبی نے وہ دعا جلد مانگ لی اور میں  نے اس دعا کو قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کے لیے بچا کر رکھا ہوا ہے اور یہ اِنْ شَاءَ اللّٰہعَزَّوَجَلَّ میری امت میں  سے ہرشخص کوحاصل ہوگی جواس حال میں  مرا کہ اس نے اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کے ساتھ شرک نہ کیا ہو۔( مسلم ،  کتاب الایمان ،  باب اختباء النبیصلی  اللہ علیہ وسلم دعوۃ الشفاعۃ لامّتہ ،  ص۱۲۹ ،  الحدیث: ۳۳۸(۱۹۹))

(4)…حضرت انس بن مالک رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے ،  رسول انور صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’میری شفاعت میری امت کے ان لوگوں  کے لئے ہو گی جن سے کبیرہ گناہ سرزد ہوئے ہوں  گے۔( سنن ابوداؤد ،  کتاب السنّۃ ،  باب فی الشفاعۃ ،  ۴ / ۳۱۱ ،  الحدیث: ۴۷۳۹)

 



Total Pages: 235

Go To