Book Name:Sirat ul jinan jild 6

{یَوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ:جس دن صُور میں  پھونکا جائے گا ۔} ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ،  آپ اپنی قوم کو وہ دن یاد دلائیں  جس دن لوگوں  کومحشر میں  حاضر کرنے کے لئے دوسری بار صُور میں  پھونکا جائے گا اور ہم اس دن کافروں  کو اس حال میں  اٹھائیں  گے کہ ان کی آنکھیں  نیلی اور منہ کالے ہوں  گے۔( روح البیان ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۱۰۲ ،  ۵ / ۴۲۵ ،  خازن ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۱۰۲ ،  ۳ / ۲۶۳ ،  ملتقطاً)

{یَتَخَافَتُوْنَ بَیْنَهُمْ:وہ آپس میں  آہستہ آہستہ باتیں  کریں  گے۔} آخرت کی ہولناکیاں  اور وہاں  کی خوفناک منازل دیکھ کر کفار کو دُنْیَوی زندگی کی مدت بہت قلیل معلوم ہو گی اور وہ آپس میں  آہستہ آہستہ باتیں  کرتے ہوئے کہیں گے کہ ہم تو دنیا میں  زیادہ عرصہ نہیں  رہے بلکہ دس راتیں  رہے ہیں ۔( تفسیرکبیر ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۱۰۳ ،  ۸ / ۹۸)

نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَقُوْلُوْنَ اِذْ یَقُوْلُ اَمْثَلُهُمْ طَرِیْقَةً اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا یَوْمًا۠(۱۰۴)

ترجمۂ کنزالایمان: ہم خوب جانتے ہیں  جو وہ کہیں  گے جبکہ ان میں  سب سے بہتر رائے والا کہے گا کہ تم صرف ایک ہی دن رہے تھے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: ہم خوب جانتے ہیں  جو وہ کہیں  گے جب ان میں  سب سے بہتر رائے والا کہے گا کہ تم صرف ایک ہی دن رہے تھے۔

{نَحْنُ اَعْلَمُ:ہم خوب جانتے ہیں ۔} ارشاد فرمایا کہ کفار دنیا میں  ٹھہرنے کی مدت کے بارے آپس میں  جو آہستہ آہستہ باتیں  کریں  گے اسے ہم خوب جانتے ہیں ۔ کچھ لوگ تو دس راتیں  رہنے کا کہیں  گے جبکہ ان میں  سب سے بہتر رائے والا قیامت کی ہولناکیاں  دیکھ کر کہے گا کہ تم تو صرف ایک ہی دن دنیا میں  رہے تھے۔ بعض مفسرین کے نزدیک کفار کو دنیا میں  ٹھہرنے کی مدت بہت کم معلوم ہو گی جیسا کہ اوپر ذکر ہوا ،  جبکہ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ وہ اس دن کی سختیاں  دیکھ کر اپنے دنیا میں  رہنے کی مقدار ہی بھول جائیں  گے۔( خازن ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۱۰۴ ،  ۳ / ۲۶۳)

 وقت ایک قیمتی جوہر ہے اسے ضائع نہ کریں :

            یہاں  یہ بات یاد رہے کہ وقت ایک نفیس نقدی اور لطیف جوہر ہے ،  اسے کسی حقیر اور فانی چیز کو پانے کے لئے خرچ نہ کیا جائے بلکہ اس سے وہ چیز حاصل کرنے کی کوشش کی جائے جو انتہائی اعلیٰ اور ہمیشہ رہنے والی ہے  ،  لہٰذا ہر عقلمند آدمی کو چاہئے کہ وہ اپنے وقت کو صرف دُنْیَوی زندگی کو پرسکون بنانے ،  اس کی لذتوں  اور رنگینیوں  سے لطف اندوز ہونے اور اس کے عیش و عشرت کے حصول میں  صَرف کر کے اسے ضائع نہ کرے بلکہ اپنی آخرت بہتر سے بہتر بنانے میں  اپنا کامل وقت استعمال کرے کیونکہ دنیا کسی کا مستقل ٹھکانہ نہیں  اور دنیا کا عیش بہت تھوڑا اور ا س کا خطرہ بہت بڑ اہے اور  اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  اس کی قدر انتہائی کم ہے حتّٰی کہ  اللہ تعالیٰ کے نزدیک مچھر کے پر برابر بھی دنیا کی حیثیت نہیں  اس لئے دنیا کے دھوکے میں  مبتلا ہو کر اپنی اُخروی زندگی کو عذاب میں  ڈال دینا سمجھدار کے شایانِ شان نہیں ۔

             دنیا کے بارے میں  امام محمد غزالی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ فرماتے ہیں  : جو شخص دنیا کے دھوکے میں  آتا ہے اس کا ٹھکانہ ذلت ہے اور جو آدمی اس کے ذریعے تکبر کرتا ہے اس کی منزل کفِ افسوس ملنا ہے۔ دنیا کا کام طلب کرنے والوں  سے بھاگنا اور بھاگنے والوں  کو تلاش کرنا ہے۔ جو دنیا کی خدمت کرتا ہے تو یہ اس سے چلی جاتی ہے اور جو اس سے منہ پھیرتا ہے یہ اس کے پاس آتی ہے۔ دنیا صاف بھی ہو تو آلودگیوں  کے شائبے سے خالی نہیں  ہوتی اور اگر یہ سُرور بھی پہنچائے تو وہ پریشانیوں  سے خالی نہیں  ہوتا۔ دنیا کی سلامتی اپنے پیچھے بیماری لاتی ہے اور اس کی جوانی بڑھاپے کی طرف لے جاتی ہے۔ دنیا کی نعمتیں  حسرت اور ندامت کے سوا کچھ نہیں  دیتیں  تو یہ دنیا دھوکے باز ،  مکار ،  اڑنے والی اور بھاگنے والی ہے اور اپنے چاہنے والوں  کے لیے ہمیشہ بن سنور کر رہتی ہے ،  یہاں  تک کہ جب وہ اس کے دوست بن جاتے ہیں  تو یہ ان پر دانت نکالتی (یعنی ان کی بے بسی پر ہنستی یا انہیں  دھمکاتی ) ہے۔ دنیا اپنے اَسباب کے مقامات بکھیر دیتی ہے اور اپنے تعجب کے خزانے ان دوستوں  کے لیے کھول دیتی ہے ،  پھر انہیں  اپنے زہر سے ہلاکت کا مزہ چکھاتی اور اپنے تیروں  سے زخمی کرتی ہے۔ جب دنیا دار خوشی کی حالت میں  ہوتے ہیں  تو یہ اچانک ان سے منہ پھیرلیتی ہے اور یوں  لگتا ہے گویا وہ پریشان خواب تھے  ، پھر ان پر حملہ آور ہوکر انہیں  کفن میں  چھپا کر مٹی کے نیچے رکھ دیتی ہے۔ اگر ان میں  سے کوئی ایک پوری دنیا کا مالک بھی بن جائے تویہ اسے یوں  کاٹ کر رکھ دیتی ہے کہ گویا کل اس کا وجودہی نہ تھا۔ دنیا کو چاہنے والے خوشی کی تمنا کرتےہیں  اور یہ ان کو دھوکے کا وعدہ دیتی ہے حتّٰی کہ وہ بہت زیادہ امید رکھتے ہیں  اور محلات بناتے ہیں  اور پھر ان کے محلات قبروں  کی شکل اختیار کرلیتے ہیں ۔ ان کی جماعت ہلاک ہوجاتی ہے ان کی کوشش بکھرا ہوا غبار بن جاتی ہے اور ان کی دعا تباہ و برباد ہوجاتی ہے۔( احیاء علوم الدین ،  کتاب ذمّ الدنیا ،  ۳ / ۲۴۸)

وَ یَسْــٴَـلُوْنَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ یَنْسِفُهَا رَبِّیْ نَسْفًاۙ(۱۰۵) فَیَذَرُهَا قَاعًا صَفْصَفًاۙ(۱۰۶) لَّا تَرٰى فِیْهَا عِوَجًا وَّ لَاۤ اَمْتًاؕ(۱۰۷)

ترجمۂ کنزالایمان: اور تم سے پہاڑوں  کو پوچھتے ہیں  تم فرماؤ انہیں  میرا رب ریزہ ریزہ کرکے اڑا دے گا۔ تو زمین کو پٹ پر ہموار کر چھوڑے گا۔ کہ تو اس میں  نیچا اونچا کچھ نہ دیکھے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور آپ سے پہاڑوں  کے بارے میں  سوال کرتے ہیں  ۔تم فرماؤ! انہیں  میرا رب ریزہ ریزہ کرکے اڑا دے گا۔ تو زمین کو ہموار چٹیل میدان بنا چھوڑے گا۔ تو اس میں  کوئی ناہمواری دیکھے گا اورنہ اونچائی ۔

{وَ یَسْــٴَـلُوْنَكَ عَنِ الْجِبَالِ:اور آپ سے پہاڑوں  کے بارے میں  سوال کرتے ہیں ۔} اس آیت کے شانِ نزول کے بارے میں  حضرت عبد اللہ بن عباس رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمَا نے فرمایا کہ قبیلہ ثقیف کے ایک آدمی نے رسول کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے دریافت کیا کہ قیامت کے دن پہاڑوں  کا کیا حال ہوگا؟ اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی  ،  اور  اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ،  آپ سے پہاڑوں  کے بارے میں  سوال کرتے ہیں ۔ آپ ان سے فرما دیں  کہ انہیں  میرا رب عَزَّوَجَلَّ ریت کے ذروں  کی طرح ریزہ ریزہ کر دے گا پھر انہیں  ہواؤں  کے ذریعے اڑا دے گا اور پہاڑوں  کے مقامات کی زمین کو ہموار چٹیل میدان بنا چھوڑے گا اور زمین اس طرح ہموار کر دی جائے گی کہ تو اس میں  کوئی پستی اور اونچائی نہ دیکھے گا۔( خازن ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۱۰۵-۱۰۷ ،  ۳ / ۲۶۳-۲۶۴ ،  جلالین ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۱۰۵-۱۰۷ ،  ص۲۶۷ ،  ملتقطاً)

یَوْمَىٕذٍ یَّتَّبِعُوْنَ الدَّاعِیَ لَا عِوَجَ لَهٗۚ-وَ خَشَعَتِ الْاَصْوَاتُ لِلرَّحْمٰنِ فَلَا تَسْمَعُ اِلَّا هَمْسًا(۱۰۸)

 



Total Pages: 235

Go To