Book Name:Sirat ul jinan jild 6

اس لئے تم سامری کی بجائے میری پیروی کرو ،  اس کے بعد آپ نے انہیں  شریعت کے احکام پر عمل کرنے کا حکم دیا کہ میں  نے تمہیں  بچھڑے کی پوجا نہ کرنے کا جو حکم دیا ہے اسے پورا کرو۔ یہ وعظ و نصیحت کرنے کے معاملے میں  انتہائی عمدہ ترتیب ہے اور سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی سیرتِ مبارکہ میں  وعظ و نصیحت کی اس ترتیب کا انتہائی اعلیٰ نمونہ موجود ہے کہ آپ صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے اپنی جا ن کے دشمنوں  کو اعلانیہ طور پر ان کے باطل معبودوں  اور بتوں  کی عبادت کے معاملے میں  تنبیہ فرمائی اور انہیں  بتایا کہ یہ مٹی ،  پتھر اور دھاتوں  سے بنائے گئے خود ساختہ اور ہر طرح سے عاجز بت تمہارے معبود ہو ہی نہیں  سکتے بلکہ تمہارا معبود وہ ہے جس نے تمہیں  اور تم سے پہلے لوگوں  کو یہ انسانی وجود عطا کیا اور وہی حقیقی طور پر نعمتیں  عطا فرمانے والا اور نقصانات دور کرنے والا ہے  ، پھرآپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے انہیں  اپنی نبوت و رسالت اور اپنے مقام و مرتبے کی پہچان کروائی اور اس کے بعد انہیں  دینِ اسلام کے اَحکامات پر عمل کا حکم دیا۔

قَالُوْا لَنْ نَّبْرَحَ عَلَیْهِ عٰكِفِیْنَ حَتّٰى یَرْجِعَ اِلَیْنَا مُوْسٰى(۹۱)قَالَ یٰهٰرُوْنُ مَا مَنَعَكَ اِذْ رَاَیْتَهُمْ ضَلُّوْۤاۙ(۹۲) اَلَّا تَتَّبِعَنِؕ-اَفَعَصَیْتَ اَمْرِیْ(۹۳)

ترجمۂ کنزالایمان: بولے ہم تو اس پر آسن مارے جمے رہیں  گے جب تک ہمارے پاس موسیٰ لوٹ کے آئیں ۔موسیٰ نے کہا اے ہارون تمہیں  کس بات نے روکا تھا جب تم نے انہیں  گمراہ ہوتے دیکھا تھا کہ میرے پیچھے آتے ۔ تو کیا تم نے میرا حکم نہ مانا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بولے ہم تو اس پر جم کر بیٹھے رہیں  گے جب تک ہمارے پاس موسیٰ لوٹ کر نہ آجائیں  ۔ موسیٰ نے فرمایا: اے ہارون! جب تم نے انہیں  گمراہ ہوتے دیکھا تھا تو تمہیں  کس چیز نے میرے پیچھے آنے سے منع کیا تھا؟ کیا تم نے میرا حکم نہ مانا؟

{قَالُوْا:بولے ۔} اس آیت اور اس کے بعد والی دو آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت ہارون عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی نصیحت کے جواب میں  لوگوں  نے کہا ’’ہم تو اس وقت تک بچھڑے کی پوجا کرنے پر قائم رہیں  گے اور آپ کی بات نہ مانیں  گے جب تک ہمارے پاس حضرت موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام لوٹ کر نہ آجائیں  اور ہم دیکھ لیں  کہ وہ بھی ہماری طرح اس کی پوجا کرتے ہیں  یا نہیں  اور کیا سامری نے سچ کہا ہے یا نہیں ۔ اس پر حضرت ہارون عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ان سے علیحدہ ہو گئے اور ان کے ساتھ بارہ ہزار وہ لوگ بھی جدا ہو گئے جنہوں  نے بچھڑے کی پوجا نہ کی تھی ۔ جب حضرت موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام واپس تشریف لائے تو آپ نے ان لوگوں  کے شور مچانے اور باجے بجانے کی آوازیں  سنیں  جو بچھڑے کے گرد ناچ رہے تھے ،  تب آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنے ہمراہ ستر لوگوں  سے فرمایا ’’یہ فتنہ کی آواز ہے۔ جب آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام قریب پہنچے اور حضرت ہارون عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو دیکھا تو اپنی فطری دینی غیرت سے جوش میں  آکر ان کے سر کے بال دائیں  ہاتھ اور داڑھی بائیں  میں  پکڑلی اور فرمایا ’’اے ہارون! عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ،  جب تم نے انہیں  گمراہ ہوتے دیکھا تھا تو تمہیں  کس چیز نے میرے پیچھے آکر مجھے خبر دینے سے منع کیا تھا اور جب انہوں  نے تمہاری بات نہ مانی تھی تو تم مجھ  سے کیوں  نہیں  آ ملے تا کہ تمہارا ان سے جدا ہونا بھی ان کے حق میں  ایک سرزنش ہوتی ،  کیا تم نے میرا حکم نہ مانا؟( خازن ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۹۱-۹۳ ،  ۳ / ۲۶۱-۲۶۲ ،  مدارک ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۹۱-۹۳ ،  ص۷۰۰ ،  ملتقطاً)

قَالَ یَبْنَؤُمَّ لَا تَاْخُذْ بِلِحْیَتِیْ وَ لَا بِرَاْسِیْۚ-اِنِّیْ خَشِیْتُ اَنْ تَقُوْلَ فَرَّقْتَ بَیْنَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ وَ لَمْ تَرْقُبْ قَوْلِیْ(۹۴)

ترجمۂ کنزالایمان: کہا اے میرے ماں  جائے نہ میری داڑھی پکڑو اور نہ میرے سر کے بال مجھے یہ ڈر ہوا کہ تم کہو گے تم نے بنی اسرائیل میں  تفرقہ ڈال دیا اور تم نے میری بات کا انتظار نہ کیا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: ہارون نے کہا: اے میری ماں  کے بیٹے! میری داڑھی اور میرے سر کے بال نہ پکڑو بیشک مجھے ڈر تھا کہ تم کہو گے کہ (اے ہارون!) تم نے بنی اسرائیل میں  تفرقہ ڈال دیا اور تم نے میری بات کا انتظار نہ کیا۔

{قَالَ:کہا۔}حضرت ہارون عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے حضرت موسیٰعَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے کہا: اے میری ماں  کے بیٹے! میری داڑھی اور میرے سر کے بال نہ پکڑو بیشک مجھے ڈر تھا کہ اگر میں  انہیں  چھوڑ کر آپ کے پیچھے چلا گیا تو یہ گروہوں  میں  تقسیم ہو کر ایک دوسرے سے لڑنے لگیں گے اور یہ دیکھ کر آپ کہیں  گے کہ اے ہارون!تم نے بنی اسرائیل میں  تَفْرِقہ ڈال دیا اوران کے بارے میں  تم نے میرے حکم کا انتظار نہ کیا۔( خازن ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۹۴ ،  ۳ / ۲۶۲ ،  جلالین ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۹۴ ،  ص۲۶۶ ،  ملتقطاً)

قَالَ فَمَا خَطْبُكَ یٰسَامِرِیُّ(۹۵) قَالَ بَصُرْتُ بِمَا لَمْ یَبْصُرُوْا بِهٖ فَقَبَضْتُ قَبْضَةً مِّنْ اَثَرِ الرَّسُوْلِ فَنَبَذْتُهَا وَ كَذٰلِكَ سَوَّلَتْ لِیْ نَفْسِیْ(۹۶)

ترجمۂ کنزالایمان: موسیٰ نے کہا اب تیرا کیا حال ہے اے سامری۔ بولا میں  نے وہ دیکھا جو لوگوں  نے نہ دیکھا تو ایک مٹھی بھر لی فرشتے کے نشان سے پھر اسے ڈال دیا اور میرے جی کو یہی بھلا لگا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: موسیٰ نے فرمایا:اے سامری! تو تیرا کیا حال ہے؟ اس نے کہا: میں  نے وہ دیکھا جو لوگوں  نے نہ دیکھا تو میں  نے فرشتے کے نشان سے ایک مٹھی بھر لی پھر اسے ڈال دیا اور میرے نفس نے مجھے یہی اچھا کر کے دکھایا۔

{فَمَا خَطْبُكَ یٰسَامِرِیُّ:اے سامری! تو تیرا کیا حال ہے؟} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت ہارون عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا جواب سن کر حضرت موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سامری کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا ’’اے سامری! تو نے ایسا کیوں  کیا؟ اس کی وجہ بتا ۔ سامری نے کہا: میں  نے وہ دیکھا جو بنی اسرائیل کے لوگوں  نے نہ دیکھا۔ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے فرمایا ’’تو نے کیا دیکھا؟ اس نے کہا: میں  نے حضرت جبریل عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو دیکھا اور انہیں  پہچان لیا  ، وہ زندگی کے گھوڑے پر سوار تھے  ، اس وقت میرے دل میں  یہ بات آئی کہ میں  ان کے گھوڑے کے نشانِ قدم کی خاک لے لوں  تو میں  نے وہاں  سے ایک مٹھی بھر لی پھر اِسے اُس بچھڑے میں  ڈال دیا جو میں  نے بنایا تھا اور میرے نفس نے مجھے یہی اچھا کر کے دکھایا اور یہ فعل میں  نے اپنی ہی نفسانی خواہش کی وجہ سے کیا کوئی دوسرا اس کا باعث و مُحرِّک نہ تھا۔( مدارک ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۹۵-۹۶ ،  ص۷۰۱ ،  خازن ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۹۵-۹۶ ،  ۳ / ۲۶۲ ،  ملتقطاً)

 



Total Pages: 235

Go To