Book Name:Sirat ul jinan jild 6

قَالُوْا مَاۤ اَخْلَفْنَا مَوْعِدَكَ بِمَلْكِنَا وَ لٰكِنَّا حُمِّلْنَاۤ اَوْزَارًا مِّنْ زِیْنَةِ الْقَوْمِ فَقَذَفْنٰهَا فَكَذٰلِكَ اَلْقَى السَّامِرِیُّۙ(۸۷)

ترجمۂ کنزالایمان: بولے ہم نے آپ کا وعدہ اپنے اختیار سے خلاف نہ کیا لیکن ہم سے کچھ بوجھ اٹھوائے گئے اس قوم کے گہنے کے تو ہم نے انہیں  ڈال دیا پھر اسی طرح سامری نے ڈالا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: انہوں  نے کہا: ہم نے اپنے اختیار سے آپ کے وعدے کی خلاف ورزی نہیں  کی لیکن قوم کے کچھ زیورات کے بوجھ ہم سے اٹھوائے گئے تھے تو ہم نے ان زیورات کو ڈال دیا پھر اسی طرح سامری نے ڈال دیا۔

{قَالُوْا:انہوں  نے کہا۔} حضرت موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی بات سن کر لوگوں  نے کہا: ہم نے اپنے اختیار سے آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے وعدے کی خلاف ورزی نہیں  کی لیکن فرعون کی قوم کے کچھ زیورات جو ہم نے ان سے عارِیَّت کے طور پر لئے تھے انہیں  ہم نے سامری کے حکم سے آگ میں  ڈال دیا  ، پھر اسی طرح سامری نے ان زیوروں  کوڈال دیا جو اس کے پاس تھے اور اس خاک کو بھی ڈال دیا جو حضرت جبریل عَلَیْہِ  السَّلَام کے گھوڑے کے قدم کے نیچے سے اس نے حاصل کی تھی۔(خازن ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۸۷ ،  ۳ / ۲۶۰-۲۶۱)

فَاَخْرَ جَ لَهُمْ عِجْلًا جَسَدًا لَّهٗ خُوَارٌ فَقَالُوْا هٰذَاۤ اِلٰهُكُمْ وَ اِلٰهُ مُوْسٰى۬-فَنَسِیَؕ(۸۸)

ترجمۂ کنزالایمان: تو اس نے ان کے لیے ایک بچھڑا نکالا بے جان کا دھڑ گائے کی طرح بولتا توبولے یہ ہے تمہارا معبود اور موسیٰ کا معبود موسیٰ تو بھول گئے ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو اس نے ان لوگوں  کے لیے ایک بے جان بچھڑا نکال دیا جس کی گائے جیسی آواز تھی تو لوگ کہنے لگے: یہ تمہارا معبود ہے اور موسیٰ کا معبود ہے اور موسیٰ بھول گئے ہیں ۔

{فَاَخْرَ جَ لَهُمْ عِجْلًا جَسَدًا:تو اس نے ان لوگوں  کے لیے ایک بے جان بچھڑا نکال دیا۔}یہ بچھڑا سامری نے بنایا اور اس میں  کچھ سوراخ اس طرح رکھے کہ جب ان میں  ہوا داخل ہو تو اس سے بچھڑے کی آواز کی طرح آواز پیدا ہو ۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ وہ اَسْپِ جبریل کی خاک زیرِ قدم ڈالنے سے زندہ ہو کر بچھڑے کی طر ح بولتا تھا۔( خازن ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۸۸ ،  ۳ / ۲۶۱)

{فَقَالُوْا:تولوگ کہنے لگے۔} یعنی بچھڑے سے آواز نکلتی دیکھ کرسامری اور اس کے پیروکار کہنے لگے: یہ تمہارا معبود ہے اور حضرت موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکا معبود ہے اور حضرت موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاممعبود کو بھول گئے اور اسے یہاں  چھوڑ کر اس کی جستجو میں  کوہِ طور پر چلے گئے ہیں ۔ (مَعَاذَ اللہ عَزَّوَجَلَّ) بعض مفسرین نے کہا کہ اس آیت کے آخری لفظ ’’نَسِیَ‘‘ کا فاعِل سامری ہے اور اس کا معنی یہ ہے کہ سامری نے بچھڑے کو معبود بنایا اور وہ اپنے ربّ کو بھول گیا یا یہ معنی ہے کہ سامری اَجسام کے حادث ہونے سے اِستدلال کرنا بھول گیا۔( مدارک ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۸۸ ،  ص۷۰۰ ،  خازن ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۸۸ ،  ۳ / ۲۶۱ ،  ملتقطاً)

اَفَلَا یَرَوْنَ اَلَّا یَرْجِعُ اِلَیْهِمْ قَوْلًا ﳔ وَّ لَا یَمْلِكُ لَهُمْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا۠(۸۹)

ترجمۂ کنزالایمان: تو کیا نہیں  دیکھتے کہ وہ انہیں  کسی بات کا جواب نہیں  دیتا اور ان کے کسی برے بھلے کا اختیار نہیں  رکھتا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو کیا وہ نہیں  دیکھتے کہ وہ بچھڑا انہیں  کسی بات کا جواب نہیں  دیتا اور ان کیلئے نہ کسی نقصان کا مالک ہے اور نہ نفع کا۔

{اَفَلَا یَرَوْنَ:تو کیا وہ نہیں  دیکھتے۔} ارشاد فرمایا کہ بچھڑے کو پوجنے والے کیا اس بات پر غور نہیں  کرتے کہ وہ بچھڑا انہیں  کسی بات کا جواب نہیں  دیتا اور نہ ہی وہ ان سے کسی نقصان کو دور کر سکتا ہے اور نہ انہیں  کوئی نفع پہنچا سکتا ہے اور جب وہ بات کا جواب دینے سے عاجز ہے اور نفع نقصان سے بھی بے بس ہے تو وہ معبود کس طرح ہوسکتا ہے۔( خازن ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۸۹ ،  ۳ / ۲۶۱ ،  مدارک ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۸۹ ،  ص۷۰۰ ،  ملتقطاً)

            اس آیت سے معلوم ہو اکہ روشن آیات اور معجزات دیکھنے کے بعد بصیرت کا اندھا پن اور عقل والوں  کی عقل و فَہم کا سَلب ہو جانا بہت بڑی بد بختی ہے۔  اللہ تعالیٰ اس سے محفوظ فرمائے۔ اٰمین۔

وَ لَقَدْ قَالَ لَهُمْ هٰرُوْنُ مِنْ قَبْلُ یٰقَوْمِ اِنَّمَا فُتِنْتُمْ بِهٖۚ-وَ اِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحْمٰنُ فَاتَّبِعُوْنِیْ وَ اَطِیْعُوْۤا اَمْرِیْ(۹۰)

ترجمۂ کنزالایمان: اور بیشک ان سے ہارون نے اس سے پہلے کہا تھا کہ اے میری قوم یونہی ہے کہ تم اس کے سبب فتنے میں  پڑے اور بیشک تمہارا رب رحمٰن ہے تو میری پیروی کرو اور میرا حکم مانو۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور بیشک ہارون نے ان سے پہلے ہی کہا تھا کہ اے میری قوم ! تمہیں  اس کے ذریعے صرف آزمایا جارہا ہے اور بیشک تمہارا رب رحمٰن ہے تو میری پیروی کرو اور میرے حکم کی اطاعت کرو۔

{وَ لَقَدْ قَالَ لَهُمْ هٰرُوْنُ مِنْ قَبْلُ:اور بیشک ہارون نے ان سے پہلے ہی کہا تھا۔} ارشاد فرمایا کہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے قوم کی طرف لوٹنے سے پہلے بے شک حضرت ہارون عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے لوگوں  کو نصیحت کی اور انہیں  اس معاملے کی حقیقت سے آگاہ کیا اور فرمایا تھا’’ اے میری قوم ! اس بچھڑے کے ذریعے صرف تمہاری آزمائش کی جارہی ہے تو تم اسے نہ پوجو اور بیشک تمہارا رب جو عبادت کا مستحق ہے وہ رحمٰن عَزَّوَجَلَّ ہے نہ کہ بچھڑا ،  تو میری پیروی کرو اور بچھڑے کی پوجا چھوڑ دینے میں  میرے حکم کی اطاعت کرو۔(مدارک ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۹۰ ، ص۷۰۰ ،  روح البیان ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۹۰ ،  ۵ / ۴۱۷ ،  ملتقطاً)

وعظ و نصیحت کی عمدہ ترتیب:

            حضرت ہارون عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے قوم کو اس ترتیب سے نصیحت فرمائی کہ سب سے پہلے انہیں  باطل چیز کے بارے میں  تنبیہ فرمائی کہ تمہیں  بچھڑے کے ذریعے آزمایا جا رہا ہے ، پھر آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے انہیں   اللہ تعالیٰ کو پہچاننے کی دعوت دی کہ تمہارا رب بچھڑا نہیں  بلکہ تمہارا رب رحمٰن عَزَّوَجَلَّ ہے ،  پھر انہیں  نبوت کو پہچاننے کی دعوت دی کہ میں  نبی ہوں  



Total Pages: 235

Go To