Book Name:Sirat ul jinan jild 6

نے تمہیں  دیا ہے اس میں  سے کھاؤ اور اس میں  زیادتی نہ کرو کہ تم پر میرا غضب اترآئے اور جس پر میرا غضب اترآیا توبیشک وہ گرگیا۔ اور بیشک میں  اس آدمی کو بہت بخشنے والا ہوں  جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور نیک عمل کیا پھر ہدایت پر رہا۔

{یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ:اے بنی اسرائیل!} اس آیت اور اس کے بعد والی دو آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ فرعون اور ا س کی قوم کے غرق ہونے کے بعد  اللہ تعالیٰ نے اپنے احسانات کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ’’ اے بنی اسرائیل! بیشک ہم نے تمہیں  تمہارے دشمن فرعون اور ا س کی قوم سے نجات دی جو تمہارے بیٹوں  کو ذبح کرتے  ، بیٹیوں  کو زندہ رکھتے اور تم سے انتہائی محنت و مشقت والے کام لیتے تھے ،  اور ہم نے اپنے نبی عَلَیْہِ  السَّلَامکے ذریعے تمہارے ساتھ کوہِ طور کی دائیں  جانب کا وعدہ کیا کہ ہم حضرت موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو وہاں  توریت عطا فرمائیں  گے جس پر عمل کیا جائے اور ہم نے تم پر تیہ کے میدان میں  مَنّ و سَلْویٰ اتارا اور فرمایا ’’ ہم نے جو پاکیزہ رزق تمہیں  دیا ہے اس میں  سے کھاؤ اور اس میں  ناشکری اور نعمت کا انکار کر کے اور ان نعمتوں  کو مَعاصی اور گناہوں  میں  خرچ کر کے یا ایک دوسرے پرظلم کر کے زیادتی نہ کرو ورنہ تم پر میرا غضب اتر آئے گااور جس پر میرا غضب اتر آیا توبیشک وہ جہنم میں  گرگیا اور ہلاک ہوا اور بیشک میں  اس آدمی کو بہت بخشنے والا ہوں  جس نے شرک سے توبہ کی اور ایمان لایا اور نیک عمل کیا پھر آخری دم تک ہدایت پر رہا۔( روح البیان ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۸۰-۸۲ ،  ۵ / ۴۱۰-۴۱۱ ،  خازن ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۸۰-۸۲ ،  ۳ / ۲۵۹-۲۶۰ ،  مدارک ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۸۰-۸۲ ،  ص۶۹۸-۶۹۹ ،  ملتقطاً)

توبہ کی اہمیت اور ا س کی قبولیت:

            اس سے معلوم ہوا کہ توبہ ایسی اہم ترین چیز ہے جس سے بندہ  اللہ تعالیٰ کی طرف سے بخشش اور مغفرت کا پروانہ حاصل کر سکتا ہے ۔ علامہ اسماعیل حقی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ فرماتے ہیں  :جان لو کہ توبہ صابن کی طرح ہے تو جس طرح صابن ظاہری میل کچیل کو دور کر دیتا ہے اسی طرح توبہ باطنی یعنی گناہوں  کے میل اور گندگیوں  کو صاف کر دیتی ہے۔( روح البیان ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۸۲ ،  ۵ / ۴۱۲)البتہ یہاں  یہ بات یاد رہے کہ وہی توبہ مقبول اور فائدہ مند ہے جو سچی ہو اور سچی توبہ اپنے گناہ کا اقرار کرنے  ،  اس پر نادم و شرمسار ہونے اور آئندہ وہ گناہ نہ کرنے کے پختہ ارادے کا نام ہے اور جو لوگ فقط زبان سے توبہ کے الفاظ دہرا لینے یا ہاتھ سے توبہ توبہ کے اشارے کر لینے کو کافی سمجھتے ہیں  تو وہ یاد رکھیں  کہ یہ حقیقی توبہ نہیں  ہے۔

وَ مَاۤ اَعْجَلَكَ عَنْ قَوْمِكَ یٰمُوْسٰى(۸۳)قَالَ هُمْ اُولَآءِ عَلٰۤى اَثَرِیْ وَ عَجِلْتُ اِلَیْكَ رَبِّ لِتَرْضٰى(۸۴)

ترجمۂ کنزالایمان: اور تو نے اپنی قوم سے کیوں  جلدی کی اے موسیٰ۔ عرض کی کہ وہ یہ ہیں  میرے پیچھے اور اے میرے رب تیری طرف میں  جلدی کرکے حاضر ہوا کہ تو راضی ہو۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اے موسیٰ! تجھے اپنی قوم سے کس چیز نے جلدی میں  مبتلا کردیا؟ عرض کی :وہ یہ میرے پیچھے ہیں  اور اے میرے رب !میں  نے تیری طرف اس لئے جلدی کی تاکہ تو راضی ہوجائے۔

{وَ مَاۤ اَعْجَلَكَ:اور تجھے کس چیز نے جلدی میں  مبتلا کردیا؟} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کاخلاصہ یہ ہے کہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام جب اپنی قوم میں  سے ستر آدمیوں  کو منتخب کر کے توریت شریف لینے کوہِ طور پر تشریف لے گئے ،  پھر  اللہ تعالیٰ سے کلام کے شوق میں  ان آدمیوں  سے آگے بڑھ گئے اور انہیں  پیچھے چھوڑتے ہوئے فرمایا کہ میرے پیچھے پیچھے چلے آؤ  ،  تواس پر  اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ’’ اے موسیٰ! عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ،  تجھے اپنی قوم سے کس چیز نے جلدی میں  مبتلا کردیا؟ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے عرض کی :وہ یہ میرے پیچھے ہیں  اور اے میرے رب! عَزَّوَجَلَّ ،  میں  نے تیری طرف اس لئے جلدی کی تاکہ تیرے حکم کو پورا کرنے میں  میری جلدی دیکھ کر تیری رضا اور زیادہ ہو۔( مدارک ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۸۳-۸۴ ،  ص۶۹۹ ،  روح البیان ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۸۳-۸۴ ،  ۵ / ۴۱۲ ،  ملتقطاً)

کلیم اور حبیب کی رضا میں  فرق:

            یہاں  ایک نکتہ قابلِ ذکر ہے کہ  اللہ تعالیٰ نے یہاں  حضرت موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے بارے میں  بتایا کہ ’’ انہوں  نے خدا کی رضاچاہی ‘‘ اور اپنے حبیب صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے لیے اور مقامات پر بتایا: خدا نے ان کی رضا چاہی۔ چنانچہ  اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے

’’ فَلَنُوَلِّیَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضٰىهَا‘‘(بقرہ:۱۴۴)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو ضرور ہم تمہیں  اس قبلہ کی طرف پھیر دیں  گے جس میں  تمہاری خوشی ہے۔

اور ارشاد فرماتا ہے

’’وَ لَسَوْفَ یُعْطِیْكَ رَبُّكَ فَتَرْضٰى‘‘(والضحی)

ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور بیشک قریب ہے کہ تمہارا رب تمہیں  اتنا دے گا کہ تم راضی ہوجاؤ گے۔

            اس سے معلوم ہوا کہ حضرت موسیٰ  اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے اور اس میں  اضافہ کرنے کیلئے کوشاں  ہیں  جبکہ  اللہ تعالیٰ اپنے حبیب صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی رضا چاہ رہاہے۔اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  کیا خوب فرماتے ہیں :

خدا کی رضا چاہتے ہیں  دو عالَم   خدا چاہتا ہے رضائے محمد

قَالَ فَاِنَّا قَدْ فَتَنَّا قَوْمَكَ مِنْۢ بَعْدِكَ وَ اَضَلَّهُمُ السَّامِرِیُّ(۸۵)

ترجمۂ کنزالایمان: فرمایا تو ہم نے تیرے آنے کے بعد تیری قوم کو بلا میں  ڈالا اور انہیں  سامری نے گمراہ کردیا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: فرمایا ،  تو ہم نے تیرے آنے کے بعد تیری قوم کو آزمائش میں  ڈال دیا اور سامری نے انہیں گمراہ کردیا۔

{قَالَ:فرمایا۔}  اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو خبر دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اے موسیٰ!عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ،  ہم نے تیرے پہاڑ کی طرف آنے کے بعد تیری قوم جنہیں  



Total Pages: 235

Go To