Book Name:Sirat ul jinan jild 6

المناقب ،  باب مناقب ابی بکر الصدیق رضی  اللہ عنہ۔۔۔ الخ ،  ۵ / ۳۷۲ ،  الحدیث: ۳۶۷۸)

{وَ ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا مَنْ تَزَكّٰى:اور یہ اس کی جزا ہے جو پاک ہوا۔} اس آیتِ مبارکہ کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے ہر عقلمند کو چاہئے کہ اگر وہ کفر و شرک کی نجاست سے آلودہ ہے تو وہ  اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کے حبیب صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی رسالت کا اقرار کر کے اور اسلام کے بیان کردہ عقائد اختیار کر کے کفر و شرک کی نجاست سے فوری طور پر پاک ہو جائے اور اس کے بعد خود کوگناہوں  کی گندگی سے پاک صاف رکھے ،  یونہی ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ تمام گناہوں  ،  مذموم نَفسانی اَخلاق اور برے شیطانی اَوصاف سے خود کو پاک کرے تاکہ قیامت کے دن اسے  اللہ تعالیٰ کی رحمت سے حصہ ملے اور اس کے فضل وکرم کے صدقے جنت میں  بلند درجات نصیب ہوں ۔

             اے  اللہ !عَزَّوَجَلَّ ،  ہمارے تمام گناہوں  اور ساری خطاؤں  کو معاف فرما ،  ہمیں  گناہوں  سے بچنے اور نیک اعمال کرنے کی توفیق مَرحمت فرما ،  ہماری زندگی اور موت دونوں  کو بہتر فرما ،  دینِ اسلام پر ہمیں  ثابت قدمی نصیب فرما ،  حشر کے دن ہمیں  اپنے حبیبصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی شفاعت اور ان کے صدقے میزانِ عمل اور پل صراط پر آسانی عطا فرما اور ہم تیرے حبیب صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے صدقے تجھ سے جنت  ، اس میں  بلند درجات اور تیرے حبیب صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا پڑوس مانگتے ہیں  ، اے  اللہ !عَزَّوَجَلَّ ،  اپنی رحمت اور فضل و کرم کے صدقے ہمیں  یہ عطا فرما۔اٰمین۔

وَ لَقَدْ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى ﳔ اَنْ اَسْرِ بِعِبَادِیْ فَاضْرِبْ لَهُمْ طَرِیْقًا فِی الْبَحْرِ یَبَسًاۙ-لَّا تَخٰفُ دَرَكًا وَّ لَا تَخْشٰى(۷۷)

ترجمۂ کنزالایمان: اور بیشک ہم نے موسیٰ کو وحی کی کہ راتوں  رات میرے بندوں  کو لے چل اور ان کے لیے دریا میں  سوکھا راستہ نکال دے تجھے ڈر نہ ہوگا کہ فرعون آلے اور نہ خطرہ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور بیشک ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ راتوں  رات میرے بندوں  کو لے چلو اور ان کے لیے دریا میں  خشک راستہ نکال دو۔ تجھے ڈر نہ ہوگا کہ فرعون پکڑ لے اور نہ تجھے خطرہ ہوگا۔

{وَ لَقَدْ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰى:اور بیشک ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی۔} جب حضرت موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے معجزات دیکھ کر فرعون راہ پر نہ آیا اور اس نے نصیحت حاصل نہ کی اور وہ بنی اسرائیل پر پہلے سے زیادہ ظلم و ستم کرنے لگا تو  اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی طرف وحی فرمائی کہ راتوں  رات میرے بندوں  کو مصر سے لے چلو اور جب آپ لوگ دریا کے کنارے پہنچیں  اور فرعونی لشکر پیچھے سے آئے تو اندیشہ نہ کرنا اور ان کے لیے اپنا عصا مار کر دریا میں  خشک راستہ نکال دو۔ تجھے ڈر نہ ہوگا کہ فرعون پکڑ لے اور نہ تجھے دریا میں  غرق ہونے کا خطرہ ہوگا۔( ابو سعود ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۷۷ ،  ۳ / ۴۷۹ ،  مدارک ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۷۷ ،  ص۶۹۸ ،  ملتقطاً)

فَاَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ بِجُنُوْدِهٖ فَغَشِیَهُمْ مِّنَ الْیَمِّ مَا غَشِیَهُمْؕ(۷۸)

ترجمۂ کنزالایمان: تو ان کے پیچھے فرعون پڑا اپنے لشکر لے کر تو انہیں  دریا نے ڈھانپ لیا جیسا ڈھانپ لیا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو فرعون اپنے لشکر کے ساتھ ان کے پیچھے چل پڑا تو انہیں  دریا نے ڈھانپ لیا جیساانہیں  ڈھانپ لیا۔

{فَاَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ بِجُنُوْدِهٖ:تو فرعون اپنے لشکر کے ساتھ ان کے پیچھے چل پڑا ۔} حضرت موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  اللہ تعالیٰ کا حکم پا کررات کے پہلے وقت میں  بنی اسرائیل کو اپنے ہمراہ لے کر مصر سے روانہ ہو گئے تو فرعون قبطیوں  کا لشکر لے کر ان کے پیچھے چل پڑا اور جب فرعون اپنے لشکر کے ساتھ دریا میں  بنے ہوئے راستوں  میں  داخل ہوگیا تو انہیں  دریا نے اس طرح ڈھانپ لیا اور اس کا پانی ان کے سروں  سے اس طرح اونچا ہو گیا جس کی حقیقت  اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے  ،  یوں  فرعون اور اس کا لشکر غرق ہو گیا اور حضرت موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاماپنی قوم کے ساتھ فرعون کے ظلم و ستم اور دریا میں  ڈوبنے سے نجات پا گئے۔( مدارک ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۷۸ ،  ص۶۹۸ ،  خازن ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۷۸ ،  ۳ / ۲۵۹ ،  ملتقطاً)

وَ اَضَلَّ فِرْعَوْنُ قَوْمَهٗ وَ مَا هَدٰى(۷۹)

ترجمۂ کنزالایمان: اور فرعون نے اپنی قوم کو گمراہ کیا اور راہ نہ دکھائی۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور فرعون نے اپنی قوم کو گمراہ کیا اور راہ نہ دکھائی۔

{وَ اَضَلَّ فِرْعَوْنُ قَوْمَهٗ:اور فرعون نے اپنی قوم کو گمراہ کیا۔} یعنی فرعون نے اپنی قوم کو ایسا راستہ دکھایا جس پر چل کر وہ دین اور دنیا دونوں  میں  نقصان اٹھا گئے کہ کفر کی وجہ سے وہ دنیا میں  ہولناک عذاب میں  مبتلا ہو کر مر گئے اور اب وہ آخرت کے اَبدی عذاب کا سامنا کر رہے ہیں  اور فرعون نے اپنی قوم کو کبھی ایسا راستہ نہ دکھایا جس پر چل کر وہ دین اور دنیا کی بھلائیوں  تک پہنچ جاتے۔( ابو سعود ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۷۹ ،   ۳ / ۴۸۰)

            اس سے معلوم ہو ا کہ قوم کے دینی اور دُنْیَوی نقصان یا بھلائی میں  قوم کے سربراہ اور حکمران کا انتہائی اہم کردار ہوتا ہے ،  اگر یہ سدھر جائے تو قوم دنیا میں  بھی حقیقی کامیابی پا سکتی ہے اور آخرت میں  بھی حقیقی فلاح سے سرفراز ہو سکتی ہے اور اگر یہ بگڑ جائے تو قوم دینی اور دنیوی دونوں اعتبار سے بے پناہ نقصان اٹھاتی ہے ۔

یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ قَدْ اَنْجَیْنٰكُمْ مِّنْ عَدُوِّكُمْ وَ وٰعَدْنٰكُمْ جَانِبَ الطُّوْرِ الْاَیْمَنَ وَ نَزَّلْنَا عَلَیْكُمُ الْمَنَّ وَ السَّلْوٰى(۸۰)كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ وَ لَا تَطْغَوْا فِیْهِ فَیَحِلَّ عَلَیْكُمْ غَضَبِیْۚ-وَ مَنْ یَّحْلِلْ عَلَیْهِ غَضَبِیْ فَقَدْ هَوٰى(۸۱)وَ اِنِّیْ لَغَفَّارٌ لِّمَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اهْتَدٰى(۸۲)

ترجمۂ کنزالایمان: اے بنی اسرائیل بیشک ہم نے تم کو تمہارے دشمن سے نجات دی اور تمہیں  طور کی د        ہنی طرف کا وعدہ دیا اور تم پر من اور سلویٰ اتارا ۔ کھاؤ جو پاک چیزیں  ہم نے تمہیں  روزی دیں  اور اس میں  زیادتی نہ کرو کہ تم پر میرا غضب اترے اور جس پر میرا غضب اترا بیشک وہ گرا ۔ اور بیشک میں  بہت بخشنے والا ہوں  اسے جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور اچھا کام کیا پھر ہدایت پر رہا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے بنی اسرائیل! بیشک ہم نے تمہیں  تمہارے دشمن سے نجات دی اور تمہارے ساتھ کوہِ طور کی دائیں  جانب کا وعدہ کیا اور تم پر من اور سلویٰ اتارا ۔ جو پاکیزہ رزق ہم



Total Pages: 235

Go To