Book Name:Sirat ul jinan jild 6

ترجمۂ کنزُالعِرفان: فرعون بولا: اے موسیٰ ! تو تم دونوں  کارب کون ہے؟ موسیٰ نے فرمایا: ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کی خاص شکل و صورت دی پھر راہ دکھائی۔

{قَالَ:فرعون بولا۔} حضرت موسیٰ و حضرت ہارون عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے جب فرعون کو یہ پیغام پہنچا دیا تو وہ بولا : اے موسیٰ ! تو تم دونوں  کارب کون ہے جس نے تمہیں  بھیجا ہے؟ حضرت موسیٰعَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اسے جواب دیتے ہوئے فرمایا: ہمارا ربعَزَّوَجَلَّ وہ ہے جس نے محض اپنی رحمت سے ہر چیز کو اس کی خاص شکل و صورت دی  ، جیسا کہ ہاتھ کو اس کے لائق ایسی شکل دی کہ وہ کسی چیز کو پکڑ سکے  ،  پاؤں  کو اس کے قابل کہ وہ چل سکے  ،  زبان کو اس کے مناسب کہ وہ بول سکے  ،  آنکھ کو اس کے موافق کہ وہ دیکھ سکے اور کان کو ایسی شکل و صورت دی کہ وہ سن سکے  ،  پھر راہ دکھائی اور اس کی معرفت دی کہ دنیا کی زندگانی اور آخرت کی سعادت کے لئے  اللہ تعالیٰ کی عطا کی ہوئی نعمتوں  کو کس طرح کام میں  لایا جائے۔( مدارک ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۴۹-۵۰ ،  ص۶۹۲-۶۹۳ ،  روح البیان ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۴۹-۵۰ ،  ۵ / ۳۹۴ ،  ملتقطاً)

قَالَ فَمَا بَالُ الْقُرُوْنِ الْاُوْلٰى(۵۱)

ترجمۂ کنزالایمان: بولا اگلی سنگتوں  کا کیا حال ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: فرعون بولا: پہلی قوموں  کا کیا حال ہے؟

{قَالَ:فرعون بولا۔} جب حضرت موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی وحدانیت اور اس کے رب عَزَّوَجَلَّ ہونے پر اتنی واضح دلیل دی توفرعون گھبرا گیا اور اس کواپنی خود ساختہ خدائی تباہ ہوتی نظر آئی تو اس نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی توجہ بدلنے کے لیے آپعَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کودوسری باتوں  میں  الجھانے لگا اور کہنے لگا کہ جو پہلی قومیں  گزر چکی ہیں  مثلاً قومِ عاد ،  قومِ ثمودوغیرہ اور وہ بتوں  کوپوجتی تھیں  اور مرنے کے بعد زندہ کیے جانے کی منکر تھیں  ان کا کیا ہوا۔(خازن ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۵۱ ،  ۳ / ۲۵۵)

قَالَ عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّیْ فِیْ كِتٰبٍۚ-لَا یَضِلُّ رَبِّیْ وَ لَا یَنْسَى٘(۵۲)

ترجمۂ کنزالایمان: کہا ان کا علم میرے رب کے پاس ایک کتاب میں  ہے میرا رب نہ بہکے نہ بھولے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: موسیٰ نے فرمایا: ان کا علم میرے رب کے پاس ایک کتاب میں  ہے ،  میرا رب نہ بھٹکتا ہے اور نہ بھولتا ہے۔

{قَالَ:موسیٰ نے فرمایا۔} فرعون کی بات سن کر حضرت موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے فرمایا: پہلی قوموں  کے حال کا علم میرے رب عَزَّوَجَلَّ کے پاس ایک کتاب لَوحِ محفوظ میں  ہے جس میں  ان کے تمام اَحوال لکھے ہوئے ہیں  اور قیامت کے دن انہیں  ان اعمال پر جزا دی جائے گی ۔

            یہاں  یہ بات ذہن میں  رہے کہ آپعَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے جو جواب دیا کہ اس کاعلم لوحِ محفوظ میں  ہے اس کی وجہ یہ نہ تھی کہ آپ کوگذشتہ قوموں  کے حالات معلوم نہ تھے بلکہ وجہ یہ تھی کہ وہ آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کوتبلیغ ِدین سے نہ پھیر سکے ۔ مزید فرمایا کہ میرا رب عَزَّوَجَلَّ نہ بھٹکتا ہے اور نہ بھولتا ہے۔ گویا فرمایا کہ تمام اَحوال کا لوحِ محفوظ میں  لکھنا ،  اس لئے نہیں  کہ رب تعالیٰ کے بھولنے بہکنے کا اندیشہ ہے بلکہ یہ تحریر اپنی دوسری حکمتوں  کی وجہ سے ہے جیسے فرشتوں  اور اپنے محبوب بندوں  کو اطلاع دینے کیلئے ہے جن کی نظر لوحِ محفوظ پر ہے۔

الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ مَهْدًا وَّ سَلَكَ لَكُمْ فِیْهَا سُبُلًا وَّ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءًؕ-فَاَخْرَجْنَا بِهٖۤ اَزْوَاجًا مِّنْ نَّبَاتٍ شَتّٰى(۵۳)

ترجمۂ کنزالایمان: وہ جس نے تمہارے لیے زمین کو بچھونا کیا اور تمہارے لیے اس میں  چلتی راہیں  رکھیں  اور آسمان سے پانی اتارا تو ہم نے اس سے طرح طرح کے سبزے کے جوڑے نکالے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: وہ جس نے تمہارے لیے زمین کو بچھونا بنایا اور تمہارے لیے اس میں  راستے آسان کردئیے اور آسمان سے پانی نازل فرمایا تو ہم نے اس سے مختلف قسم کی نباتات کے جوڑے نکالے ۔

{اَلَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ مَهْدًا:وہ جس نے تمہارے لیے زمین کو بچھونا بنایا۔} حضرت موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے مزید فرمایا کہ میرا ربعَزَّوَجَلَّ وہ ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو بچھونا بنایا تاکہ تمہارے لئے اس پر زندگی بسر کرنا ممکن ہو اور تمہارے لیے اس میں  راستے آسان کردیے تاکہ ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے میں  تمہیں  آسانی ہو اوراس نے آسمان سے پانی نازل فرمایا۔ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا کلام تو یہاں  پورا ہو گیا اب اس کلام کو مکمل کرتے ہوئے  اللہ تعالیٰ اہلِ مکہ کو خطاب کر کے فرماتا ہے کہ اے اہلِ مکہ !تو ہم نے اس پانی سے مختلف قسم کی نباتات کے جوڑے نکالے جن کے رنگ ، خوشبوئیں  اور شکلیں  مختلف ہیں  اور ان میں  سے بعض آدمیوں  کے لئے ہیں  اور بعض جانوروں  کے لئے۔( خازن ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۵۳ ،  ۳ / ۲۵۶ ،  جلالین ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۵۳ ،  ص۲۶۳)

كُلُوْا وَ ارْعَوْا اَنْعَامَكُمْؕ-اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی النُّهٰى۠(۵۴)

ترجمۂ کنزالایمان: تم کھاؤ اور اپنے مویشیوں  کو چَراؤ بیشک اس میں  نشانیاں  ہیں  عقل والوں  کو۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تم کھاؤ اور اپنے مویشیوں  کو چراؤ ،  بیشک اس میں  عقل والوں  کیلئے نشانیاں  ہیں ۔

{كُلُوْا وَ ارْعَوْا اَنْعَامَكُمْ:تم کھاؤ اور اپنے مویشیوں  کو چراؤ۔} ارشاد فرمایا کہ ہم نے جو یہ نباتات نکالی ہیں  ،  ان میں  سے تم خود بھی کھاؤ اور اپنے مویشیوں  کو بھی چراؤ۔ یاد رہے کہ اس آیت میں  جو حکم دیا گیا ہے یہ اِباحت اور  اللہ تعالیٰ کی نعمت یاد دلانے کے لئے ہے یعنی ہم نے یہ نباتات تمہارے لئے اس طور پر نکالی ہیں  کہ انہیں  کھانا اور اپنے جانوروں  کو چَرانا تمہارے لئے مباح و جائز ہے۔( مدارک ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۵۴ ،  ص۶۹۳)

{اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی النُّهٰى:بیشک اس میں  عقل والوں  کیلئے نشانیاں  ہیں ۔} یعنی زمین کو بچھونا بنانے ،  اس میں  سفر کے لئے راستوں  کو آسان کرنے ،  آسمان سے پانی نازل کرنے اور زمین سے مختلف اَقسام کی نباتات اگانے میں  عقل رکھنے والے لوگوں  کے لئے  اللہ تعالیٰ کے صانع ہونے ،  اس کی وحدت ،  اس کی عظیم قدرت اور اس کی ظاہر و باہر حکمت پر دلالت کرنے



Total Pages: 239

Go To