Book Name:Sirat ul jinan jild 6

ترجمۂ کنزُالعِرفان: انہوں  نے کہا: ہم ان روشن دلیلوں  پر ہرگز تجھے ترجیح نہ دیں  گے جو ہمارے پاس آئی ہیں ۔ ہمیں  اپنے پیدا کرنے والے کی قسم ! تو تُوجو کرنے والا ہے کر لے۔ تو اس دنیا کی زندگی میں  ہی توکرے گا ۔

{ قَالُوْا:انہوں  نے کہا۔} فرعون کا یہ مُتکبّرانہ کلمہ سن کر ان جادوگروں  نے کہا: ہم ان روشن دلیلوں  پر ہرگز تجھے ترجیح نہ دیں  گے جو ہمارے پاس آئی ہیں ۔ روشن دلیلوں  کے بارے میں  مفسرین کے مختلف اَقوال ہیں ۔ بعض مفسرین کے نزدیک ان سے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکا روشن ہاتھ اور عصا مراد ہے۔ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ جادو گروں  کا اِستدلال یہ تھا : اگر تو حضرت موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے معجزہ کو بھی جادو کہتا ہے تو بتا وہ رسّے اور لاٹھیاں  کہاں  گئیں  اور بعض مفسرین کہتے ہیں  کہ روشن دلیلوں  سے مراد جنت اور اس میں  اپنی مَنازل کا دیکھنا ہے۔( خازن ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۷۲ ،  ۳ / ۲۵۸)

{وَ الَّذِیْ فَطَرَنَا:ہمیں  اپنے پیدا کرنے والے کی قسم !} جادوگروں  نے فرعون سے کہا کہ ہمیں  اپنے پیدا کرنے والے کی قسم ! تو جو کرنے والا ہے کر لے ہمیں  اس کی کچھ پرواہ نہیں  اور تو ہمارے ساتھ جو کچھ بھی کرے گا اس دنیا کی زندگی میں  ہی توکرے گا  ،  اس سے آگے تو تیری کچھ مجال نہیں  اور دنیا کا حال تو یہ ہے کہ وہ زائل اور یہاں  کی ہر چیز فنا ہونے والی ہے اور اگر تو ہم پر مہربان بھی ہو تو ہمیں  ہمیشہ کے لئے بقا نہیں  دے سکتا ،  پھر دنیا کی زندگانی اور اس کی راحتوں  کے زوال کا کیا غم ،  خاص طور پر اسے جو جانتا ہے کہ آخرت میں  دنیا کے اعمال کی جزا ملے گی۔( تفسیرکبیر ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۷۲ ،  ۸ / ۷۷-۷۸)

            اس آیت میں  بیان ہو اکہ جادوگروں  نے مومن ہو کر فرعون سے کہہ دیا کہ جو ہو سکے تو کرلے ہمیں  اس کی پرواہ نہیں  ،  اس سے معلوم ہوا کہ مومن کے دل میں  جرأت ہوتی ہے اور وہ ایمان لانے کی صورت میں  مخلوق کی طرف سے اَذِیَّت پہنچنے کی پرواہ نہیں  کرتا۔ اس سے واضح ہوا کہ قادیانی کا نبی ہونا تو بڑی دور کی بات وہ تو مومن بھی نہیں  تھا کیونکہ وہ لوگوں  سے اتنا ڈرتا تھا کہ ان کے خوف کی وجہ سے حج ہی نہ کر سکا۔

اِنَّاۤ اٰمَنَّا بِرَبِّنَا لِیَغْفِرَ لَنَا خَطٰیٰنَا وَ مَاۤ اَكْرَهْتَنَا عَلَیْهِ مِنَ السِّحْرِؕ-وَ اللّٰهُ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى(۷۳)

ترجمۂ کنزالایمان: بیشک ہم اپنے رب پر ایمان لائے کہ وہ ہماری خطائیں  بخش دے اور وہ جو تو نے ہمیں  مجبور کیا جادو پر اور  اللہ بہتر ہے اور سب سے زیادہ باقی رہنے والا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک ہم اپنے رب پر ایمان لائے تاکہ وہ ہماری خطائیں  اور وہ جادو بخش دے جس پر تو نے ہمیں مجبور کیا تھا اور  اللہ بہتر ہے اور سب سے زیادہ باقی رہنے والاہے۔

{اِنَّاۤ اٰمَنَّا بِرَبِّنَا:بیشک ہم اپنے رب پر ایمان لائے۔} جادوگروں  نے کہا کہ بیشک ہم اپنے رب عَزَّوَجَلَّپر ایمان لائے تاکہ وہ ہماری خطائیں  بخش دے اور وہ جادو بھی جس پر تو نے ہمیں  حضرت موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے مقابلے میں  مجبور کیا تھا ۔اور اگر ہم  اللہ تعالیٰ کی طاعت کریں  تو وہ تیرے مقابلے میں  فرمانبرداروں  کو ثواب دینے میں  بہتر ہے اور اگر ہم اس کی نافرمانی کریں  تو وہ نافرمانوں  پر عذاب کرنے کے لحاظ سے سب سے زیادہ باقی رہنے والا ہے۔

             فرعون نے جادوگروں  کو جو جادو پر مجبور کیا تھا اس کے بارے میں  بعض مفسرین نے فرمایا کہ فرعون نے جب جادوگروں  کو حضرت موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے ساتھ مقابلہ کرنے کے لئے بلایا تو جادوگروں  نے فرعون سے کہا تھا کہ ہم حضرت موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو سوتا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں   ، چنانچہ اس کی کوشش کی گئی اور انہیں  ایسا موقع فراہم کر دیا گیا  ،  انہوں  نے دیکھا کہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام خواب میں  ہیں  اور عصاء شریف پہرہ دے رہا ہے۔ یہ دیکھ کر جادوگروں  نے فرعون سے کہا کہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام جادوگر نہیں  ،  کیونکہ جادوگر جب سوتا ہے تو اس وقت اس کا جادو کام نہیں  کرتا مگر فرعون نے انہیں  جادو کرنے پر مجبور کیا ۔ اس کی مغفرت کے وہ جادوگر  اللہ تعالیٰ سے طالب اور امیدوار ہیں۔( خازن ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۷۳ ،  ۳ / ۲۵۹)

اِنَّهٗ مَنْ یَّاْتِ رَبَّهٗ مُجْرِمًا فَاِنَّ لَهٗ جَهَنَّمَؕ-لَا یَمُوْتُ فِیْهَا وَ لَا یَحْیٰى(۷۴)وَ مَنْ یَّاْتِهٖ مُؤْمِنًا قَدْ عَمِلَ الصّٰلِحٰتِ فَاُولٰٓىٕكَ لَهُمُ الدَّرَجٰتُ الْعُلٰىۙ(۷۵) جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاؕ-وَ ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا مَنْ تَزَكّٰى۠(۷۶)

ترجمۂ کنزالایمان: بیشک جو اپنے رب کے حضور مجرم ہوکر آئے تو ضرور اس کے لئے جہنم ہے جس میں  نہ مرے نہ جئے۔اور جو اس کے حضور ایمان کے ساتھ آئے کہ اچھے کام کئے ہوں  تو انہیں  کے درجے اونچے ۔  بسنے کے باغ جن کے نیچے نہریں  بہیں  ہمیشہ ان میں  رہیں  اور یہ صلہ ہے اس کا جو پاک ہوا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک جو اپنے رب کے حضور مجرم ہوکر آئے گاتو ضرور اس کے لیے جہنم ہے جس میں  نہ مرے گا اور نہ (ہی چین سے)زندہ رہے گا۔  اور جو اس کے حضور ایمان والا ہوکر آئے گاکہ اس نے نیک اعمال کئے ہوں  تو ان کیلئے بلند درجات ہیں ۔ہمیشہ رہنے کے باغات ہیں  جن کے نیچے نہریں  جاری ہیں  ، ہمیشہ ان میں  رہیں  گے اور یہ اس کی جزا ہے جو پاک ہوا۔

{اِنَّهٗ مَنْ یَّاْتِ رَبَّهٗ مُجْرِمًا:بیشک جو اپنے رب کے حضور مجرم ہوکر آئے گا۔} اس آیت اور اس کے بعد والی دو آیات کے بارے میں  ایک قول یہ ہے کہ یہ جادو گروں  کے کلام کا حصہ ہے اور ایک قول یہ ہے کہ یہاں  سے  اللہ تعالیٰ کا کلام شروع ہو رہا ہے ،  اور ان آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ بیشک جو اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کے حضور فرعون کی طرح کافر ہوکر آئے گا تو ضرور اس کے لیے جہنم ہے جس میں  نہ مرے گا کہ مرکر ہی اس سے چھوٹ سکے اور نہ ہی اس طرح زندہ رہے گا جس سے کچھ نفع اٹھا سکے اور جن کا ایمان پر خاتمہ ہوا ہو اور انہوں  نے اپنی زندگی میں  نیک عمل کئے ہوں   ،  فرائض اور نوافل بجا لائے ہوں  تو ان کیلئے بلند درجات ہیں  اور وہ درجات ہمیشہ رہنے کے باغات ہیں  جن کے نیچے نہریں  جاری ہیں  ،  ہمیشہ ان میں  رہیں  گے اور یہ اس کی جزا ہے جو کفر کی نجاست اور گناہوں  کی گندگی سے پاک ہوا۔( خازن ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۷۴ ،  ۳ / ۲۵۹)

{فَاُولٰٓىٕكَ لَهُمُ الدَّرَجٰتُ الْعُلٰى:تو ان کیلئے بلند درجات ہیں ۔} ارشاد فرمایا کہ جو لوگ ایمان لائے اور انہوں  نے نیک اعمال کئے ان کے لئے بلند درجات ہیں ۔ بلند درجات والوں  کے مقام کے بارے میں  سننِ ترمذی اورا بنِ ماجہ میں  حضرت ابوسعید خدری رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُسے روایت ہے  ،  رسولُ  اللہ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا ’’بلند درجات والوں  کو نچلے درجات والے ایسے دیکھیں  گے جیسے تم اُفق میں  طلوع ہونے والے ستاروں  کو دیکھتے ہو۔ حضرت ابو بکر اور حضرت عمر رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمَا ان میں  سے ہیں  اوریہ اسی کے اہل ہیں ۔( ترمذی ،  کتاب



Total Pages: 235

Go To