Book Name:Sirat ul jinan jild 6

ماجوج کی قوم آباد تھی جو کہ دو پہاڑوں  کے درمیانی راستے سے اِس طرف آکر قتل و غارت کیا کرتی تھی۔ یہ جگہ ترکستان کے مشرقی کنارہ پر واقع تھی۔ یہاں  حضرت ذوالقرنین رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ  نے ایک ایسی قوم کو پایا جو کوئی بات سمجھتے معلوم نہ ہوتے تھے کیونکہ اُن کی زبان عجیب و غریب تھی اس لئے اُن کے ساتھ اشارہ وغیرہ کی مدد سے بہ مشقت بات کی جاسکتی تھی۔( روح البیان ،  الکہف ،  تحت الآیۃ: ۹۳ ، ۵ / ۲۹۶-۲۹۷ ،  خازن ،  الکہف ،  تحت الآیۃ: ۹۳ ،  ۳ / ۲۲۴ ،  ملتقطاً)

قَالُوْا یٰذَا الْقَرْنَیْنِ اِنَّ یَاْجُوْجَ وَ مَاْجُوْجَ مُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ فَهَلْ نَجْعَلُ لَكَ خَرْجًا عَلٰۤى اَنْ تَجْعَلَ بَیْنَنَا وَ بَیْنَهُمْ سَدًّا(۹۴)

ترجمۂ کنزالایمان: انھوں  نے کہا اے ذوالقرنین بیشک یاجوج و ماجوج زمین میں  فساد مچاتے ہیں  تو کیا ہم آپ کے لیے کچھ مال مقرر کردیں  اس پر کہ آپ ہم میں  اور ان میں  ایک دیوار بنادیں  ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: انہوں  نے کہا ،  اے ذوالقرنین! بیشک یاجوج اور ماجوج زمین میں  فساد مچانے والے لوگ ہیں  تو کیا ہم آپ کے لیے کچھ مال مقرر کردیں  اس بات پر کہ آپ ہمارے اور ان کے درمیان ایک دیوار بنادیں ۔

{قَالُوْا:انہوں  نے کہا۔} ان لوگوں  نے کسی ترجمان کے ذریعے یا بلاواسطہ حضرت ذوالقر نین رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ سے اس طور پر گفتگو کی کہ آپ ان کا کلام سمجھ سکتے تھے۔ آپ کا ان لوگوں  کی زبان کو سمجھ لینا بھی  اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ جملہ اَسباب میں  سے ہے۔( ابو سعود ،  الکہف ،  تحت الآیۃ: ۹۴ ،  ۳ / ۴۰۴)

{اِنَّ یَاْجُوْجَ وَ مَاْجُوْجَ:بیشک یاجوج اور ماجوج۔} یہیافث بن نوح عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی اولاد سے فسادی گروہ ہیں  ،  اِن کی تعداد بہت زیادہ ہے ،  زمین میں  فساد کرتے تھے  ، بہار کے موسم میں  نکلتے تھے تو کھیتیاں  اور سبزے سب کھا جاتے اور ان میں  سے کچھ نہ چھوڑتے تھے اور خشک چیزیں  لاد کر لے جاتے تھے ،  یہ لوگ آدمیوں  کو کھالیتے تھے اور درندوں  ،  وحشی جانوروں  ،  سانپوں  اور بچھوؤں  تک کو کھا جاتے تھے۔ حضرت ذوالقرنین رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ  سے لوگوں  نے ان کی شکایت کی کہ وہ زمین میں  فساد مچانے والے لوگ ہیں  تو کیا ہم آپ کے لیے اس بات پر کچھ مال مقرر کردیں  کہ آپ ہمارے اور ان کے درمیان ایک دیوار بنادیں  تاکہ وہ ہم تک نہ پہنچ سکیں  اور ہم ان کے شرواِیذا سے محفوظ رہیں ۔( خازن ،  الکہف ،  تحت الآیۃ: ۹۴ ،  ۳ / ۲۲۴-۲۲۵ ،  روح البیان ،  الکہف ،  تحت الآیۃ: ۹۴ ،  ۵ / ۲۹۷-۲۹۸ ،  ملتقطاً)

قَالَ مَا مَكَّنِّیْ فِیْهِ رَبِّیْ خَیْرٌ فَاَعِیْنُوْنِیْ بِقُوَّةٍ اَجْعَلْ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهُمْ رَدْمًاۙ(۹۵) اٰتُوْنِیْ زُبَرَ الْحَدِیْدِؕ-حَتّٰۤى اِذَا سَاوٰى بَیْنَ الصَّدَفَیْنِ قَالَ انْفُخُوْاؕ-حَتّٰۤى اِذَا جَعَلَهٗ نَارًاۙ-قَالَ اٰتُوْنِیْۤ اُفْرِغْ عَلَیْهِ قِطْرًاؕ(۹۶) فَمَا اسْطَاعُوْۤا اَنْ یَّظْهَرُوْهُ وَ مَا اسْتَطَاعُوْا لَهٗ نَقْبًا(۹۷)

ترجمۂ کنزالایمان: کہا وہ جس پر مجھے میرے رب نے قابو دیا ہے بہتر ہے تو میری مدد طاقت سے کرو میں  تم میں  اور ان میں  ایک مضبوط آڑ بنادوں ۔ میرے پاس لوہے کے تختے لاؤ یہاں  تک کہ وہ جب دیوار دونوں  پہاڑوں  کے کناروں  سے برابر کردی کہا دھونکو یہاں  تک کہ جب اُسے آگ کردیا کہا لاؤ میں  اس پر گلا ہوا تانبہ اُونڈیل دوں ۔ تو یاجوج و ماجوج اس پر نہ چڑھ سکے اور نہ اس میں  سوراخ کرسکے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: ذوالقرنین نے کہا: جس چیزپر مجھے میرے رب نے قابو دیا ہے وہ بہتر ہے توتم میری مدد قوت کے ساتھ کرو ،  میں  تمہارے اور ان کے درمیان ایک مضبوط رکاوٹ بنادوں گا۔ میرے پاس لوہے کے ٹکڑے لاؤ یہاں  تک کہ جب وہ دیوار دونوں  پہاڑوں  کے کناروں  کے درمیان برابر کردی تو ذوالقرنین نے کہا: آگ دھنکاؤ۔ یہاں  تک کہ جب اُس لوہے کو آگ کردیا توکہا : مجھے دو تا کہ میں  اس گرم لوہے پر پگھلایا ہوا تانبہ اُنڈیل دوں ۔ تو یاجوج و ماجوج اس پر نہ چڑھ سکے اور نہ اس میں  سوراخ کرسکے۔

{قَالَ:کہا۔} حضرت ذوالقر نین رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ نے ان سے فرمایا’’ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے فضل سے میرے پاس کثیر مال اور ہرقسم کا سامان موجود ہے تم سے کچھ لینے کی حاجت نہیں  ،  البتہ تم جسمانی قوت کے ساتھ میری مدد کرو اور جو کام میں  بتاؤں  وہ انجام دو  ، میں  تم میں  اور ان میں  ایک مضبوط رکاوٹ بنادوں  گا۔( مدارک ،  الکہف ،  تحت الآیۃ: ۹۵ ،  ص۶۶۳-۶۶۴ ،  خازن ،  الکہف ،  تحت الآیۃ: ۹۵ ،  ۳ / ۲۲۵ ،  ملتقطاً)

{اٰتُوْنِیْ زُبَرَ الْحَدِیْدِ:میرے پاس لوہے کے ٹکڑے لاؤ ۔} ان لوگوں  نے عرض کی: پھر ہمارے متعلق کیا خدمت ہے؟ آپ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُنے فرمایا ’’میرے پاس پتھر کے سائز کے لوہے کے ٹکڑے لاؤ ۔جب وہ لے آئے تواس کے بعد ان سے بنیاد کھدوائی  ،  جب وہ پانی تک پہنچی تو اس میں  پتھر پگھلائے ہوئے تانبے سے جمائے گئے اور لوہے کے تختے اوپر نیچے چن کر اُن کے درمیان لکڑی اور کوئلہ بھروا دیا اور آگ دے دی اس طرح یہ دیوار پہاڑ کی بلندی تک اونچی کردی گئی اور دونوں  پہاڑوں  کے درمیان کوئی جگہ نہ چھوڑی گئی ،  پھر اوپر سے پگھلایا ہوا تانبہ دیوار میں  پلا دیا گیا تو یہ سب مل کر ایک سخت جسم بن گیا۔( خازن ،  الکہف ،  تحت الآیۃ: ۹۶ ،  ۳ / ۲۲۵-۲۲۶ ،  مدارک ،  الکہف ،  تحت الآیۃ: ۹۶ ،  ص۶۶۴ ،  جلالین ،  الکہف ،  تحت الآیۃ: ۹۶ ،  ص۲۵۲ ،  ملتقطاً)

{فَمَا اسْطَاعُوْۤا اَنْ یَّظْهَرُوْهُ:تو یاجوج و ماجوج اس پر نہ چڑھ سکے۔} جب حضرت ذوالقر نین رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ نے دیوار مکمل کر لی تو یاجوج اور ماجوج آئے اور انہوں  نے اس دیوار پر چڑھنے کا ارادہ کیا تو اس کی بلندی اور ملائمت کی وجہ سے اس پر نہ چڑھ سکے ،  پھر انہوں  نے نیچے سے اس میں  سوراخ کرنے کی کوشش کی تو اس دیوار کی سختی اور موٹائی کی وجہ  سے اس میں  سوراخ نہ کر سکے۔( روح البیان ،  الکہف ،  تحت الآیۃ: ۹۷ ،  ۵ / ۲۹۹)

قَالَ هٰذَا رَحْمَةٌ مِّنْ رَّبِّیْۚ-فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ رَبِّیْ جَعَلَهٗ دَكَّآءَۚ-وَ كَانَ وَعْدُ رَبِّیْ حَقًّاؕ(۹۸)

ترجمۂ کنزالایمان: کہایہ میرے رب کی رحمت ہے پھر جب میرے رب کا وعدہ آئے گا اسے پاش پاش کردے گا اور میرے رب کا وعدہ سچا ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: ذوالقرنین نے کہا: یہ میرے رب کی رحمت ہے پھر جب میرے رب کا وعدہ آئے گا تواسے پاش پاش کردے گا اور میرے رب کا وعدہ سچا ہے۔

{قَالَ:کہا۔} حضرت ذوالقرنین رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ نے کہا کہ یہ دیوار میرے ربعَزَّوَجَلَّ کی رحمت اور اس کی نعمت ہے کیونکہ یہ یاجوج اور ماجوج کے نکلنے میں  رکاوٹ ہے ،  پھر جب میرے



Total Pages: 235

Go To