Book Name:Sirat ul jinan jild 6

۲۹(۲۶۶۱))

باطن کا حال جان کر کسی کو قتل کرنا جائز ہے یا نہیں  ؟

            یہ بھی یاد رہے کہ ہمارے زمانے میں  اگر کوئی ولی کسی کے ایسے باطنی حال پر مطلع ہوجائے کہ یہ آگے جا کر کفر اختیار کر لے گا اور دوسروں  کو کافر بھی بنا دے گا اور اس کی موت بھی حالتِ کفر میں  ہوگی تو وہ ولی اس بنا پر اسے قتل نہیں  کر سکتا ،  جیسا کہ امام سُبکیرَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  فرماتے ہیں  کہ باطن کاحال جان کر بچے کو قتل کردینا حضرت خضر عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے ساتھ خاص ہے ،  انہیں  اس کی اجازت تھی ۔اب اگر کوئی ولی کسی بچے کے ایسے حال پر مطلع ہو تو اُس کے لئے قتل کرنا جائز نہیں  ہے۔( جمل ،  الکہف ،  تحت الآیۃ: ۸۰ ،  ۴ / ۴۴۸)

{خَیْرًا مِّنْهُ زَكٰوةً:پاکیزگی میں  پہلے سے بہتر۔} مفسرین کا ایک قول یہ ہے کہ  اللہ تعالیٰ نے انہیں  اس کے بدلے ایک مسلمان لڑکا عطا کیا اور ایک قول یہ ہے کہ  اللہ تعالیٰ نے انہیں  ایک بیٹی عطا کی جو ایک نبی عَلَیْہِ  السَّلَام کے نکاح میں  آئی اور اس سے نبی عَلَیْہِ  السَّلَام پیدا ہوئے جن کے ہاتھ پر  اللہ تعالیٰ نے ایک اُمت کو ہدایت دی۔( خازن ،  الکہف ،  تحت الآیۃ: ۸۱ ،  ۳ / ۲۲۱)

آیت’’فَاَرَدْنَاۤ اَنْ یُّبْدِلَهُمَا رَبُّهُمَا‘‘ سے حاصل ہونے والی معلومات:

            اس آیت سے دو باتیں  معلوم ہوئیں :

(1)… بندے کو  اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قضا پر راضی رہنا چاہئے کہ اسی میں  بہتری ہوتی ہے۔ اسی بات کو ایک اور آیتِ مبارکہ میں  اس طرح بیان کیاگیا ہے کہ:

’’وَ عَسٰۤى اَنْ تَكْرَهُوْا شَیْــٴًـا وَّ هُوَ خَیْرٌ لَّكُمْۚ-وَ عَسٰۤى اَنْ تُحِبُّوْا شَیْــٴًـا وَّ هُوَ شَرٌّ لَّكُمْؕ-وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ‘‘(بقرہ:۲۱۶)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور قریب ہے کہ کوئی بات تمہیں  ناپسند ہو حالانکہ وہ تمہارے حق میں  بہتر ہو اور قریب ہے کہ کوئی بات تمہیں  پسند آئے حالانکہ وہ تمہارے حق میں  بری ہو اور  اللہ  جانتا ہے اور تم نہیں  جانتے۔

(2)… بسا اوقات  اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندے کی محبوب اور پسندیدہ چیزوں میں  سے کوئی چیز لے لیتا ہے کیونکہ اس چیز میں  بندے کا نقصان ہوتا ہے اور وہ اس کے نقصان سے غافل ہوتا ہے ،  پھر اگر وہ صبر کرے اور  اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے تو  اللہ تعالیٰ اس چیز کے بدلے اس سے بہتر چیز عطا کر دیتا ہے جس میں  مومن بندے کا نفع ہوتا ہے نقصان نہیں  ہوتا اور یہ  اللہ تعالیٰ کا اپنے مومن بندوں  پر ایک بہت بڑا احسان ہے۔( روح البیان ،  الکہف ،  تحت الآیۃ: ۸۱ ،  ۵ / ۲۸۶ ،  ملخصاً)

وَ اَمَّا الْجِدَارُ فَكَانَ لِغُلٰمَیْنِ یَتِیْمَیْنِ فِی الْمَدِیْنَةِ وَ كَانَ تَحْتَهٗ كَنْزٌ لَّهُمَا وَ كَانَ اَبُوْهُمَا صَالِحًاۚ-فَاَرَادَ رَبُّكَ اَنْ یَّبْلُغَاۤ اَشُدَّهُمَا وَ یَسْتَخْرِجَا كَنْزَهُمَا ﳓ رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَۚ-وَ مَا فَعَلْتُهٗ عَنْ اَمْرِیْؕ-ذٰلِكَ تَاْوِیْلُ مَا لَمْ تَسْطِعْ عَّلَیْهِ صَبْرًاؕ۠(۸۲)

ترجمۂ کنزالایمان: رہی وہ دیوار وہ شہر کے دو یتیم لڑکوں  کی تھی اور اس کے نیچے ان کا خزانہ تھا اور ان کا باپ نیک آدمی تھا تو آپ کے رب نے چاہا کہ وہ دونوں  اپنی جوانی کو پہنچیں  اور اپنا خزانہ نکالیں  آپ کے رب کی رحمت سے اور یہ کچھ میں  نے اپنے حکم سے نہ کیا یہ پھیر ہے ان باتوں  کا جس پر آپ سے صبر نہ ہوسکا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور بہرحال دیوار (کا جہاں  تک تعلق ہے) تو وہ شہرکے دو یتیم لڑکوں  کی تھی اور اس دیوارکے نیچے ان دونوں کا خزانہ تھا اور ان کا باپ نیک آدمی تھا تو آپ کے رب نے چاہا کہ وہ دونوں  اپنی جوانی کو پہنچیں  اور اپنا خزانہ نکالیں  (یہ سب ) آپ کے رب کی رحمت سے ہے اور یہ سب کچھ میں  نے اپنے حکم سے نہیں  کیا ۔ یہ ان باتوں  کا اصل مطلب ہے جس پر آپ صبر نہ کرسکے۔

{وَ اَمَّا الْجِدَارُ:اور بہرحال دیوار۔} حضرت خضر عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے اپنے تیسرے فعل یعنی دیوار سیدھی کرنے کی حکمت بیان کرتے ہوئے فرمایا ’’اور بہرحال دیوار کا جہاں  تک تعلق ہے تو وہ شہرکے دو یتیم لڑکوں  کی تھی جن کے نام اصرم اور صریم تھے اور اس دیوار کے نیچے ان دونوں  کا خزانہ تھا اور ان کا باپ نیک آدمی تھا تو  اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ وہ دونوں  اپنی جوانی کو پہنچیں  اور اُن کی عقل کا مل ہوجائے اور وہ قوی و توانا ہوجائیں  اور اپنا خزانہ نکالیں  یہ سب اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی رحمت سے ہے اور جو کچھ میں  نے کیا وہ میری اپنی مرضی سے نہ تھا بلکہ  اللہ  عَزَّوَجَلَّکے حکم سے تھا۔یہ ان باتوں  کا اصل مطلب ہے جس پر آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام صبر نہ کرسکے۔( خازن ،  الکہف ،  تحت الآیۃ: ۸۲ ،  ۳ / ۲۲۱-۲۲۲ ،  ملخصاً)

یتیم کے ساتھ نیکی کرنے کا ثواب:

            اس سے معلوم ہو اکہ یتیموں  کے ساتھ نیکی کرنی چاہئے اور ان کے ساتھ ایسا معاملہ کرنا چاہئے جس میں  ان کا بھلا ہو۔ اَحادیث میں  یتیم کے ساتھ نیکی کرنے والے کے لئے بہت اجر و ثواب بیان کیا گیا ہے  ،  چنانچہ حضرت عبد اللہ بن عباس رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمَا سے روایت ہے ،  حضور اکرم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’مسلمانوں  میں  سے جو شخص کسی یتیم کے کھانے پینے کی کفالت کرے تو  اللہ تعالیٰ اسے جنت میں  داخل کرے گا مگر یہ کہ وہ کوئی ایسا گناہ کرے جس کی بخشش نہ ہو۔( ترمذی ،  کتاب البرّ والصلۃ ،  باب ما جاء فی رحمۃ الیتیم وکفالتہ ،  ۳ / ۳۶۸ ،  الحدیث: ۱۹۲۴)اور حضرت عبد اللہ بن عمررَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمَا سے روایت ہے ،  حضور پُر نور صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ گھر وہ ہے جس میں  کوئی یتیم ہو اور ا س کی عزت کی جاتی ہو۔( معجم الکبیر ،  عبد اللہ بن عمر بن الخطاب رضی  اللہ عنہما۔۔۔ الخ ،  محمد بن طلحۃ عن ابن عمر ،  ۱۲ / ۳۸۸ ،   الحدیث: ۱۳۴۳۴)

{وَ كَانَ تَحْتَهٗ كَنْزٌ لَّهُمَا:اور اس دیوار کے نیچے ان دونوں  کا خزانہ تھا۔} ترمذی شریف کی حدیث میں  ہے کہ اس دیوار کے نیچے سونا اور چاندی مدفون تھا۔( ترمذی ،  کتاب التفسیر ،  باب ومن سورۃ الکہف ،   ۵ / ۱۰۳ ،  الحدیث: ۳۱۶۳)

عبرت انگیز عبارات:

            حضرت عبد اللہ بن عباس رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمَافرماتے ہیں   کہ اس (خزانے) میں  سونے کی ایک تختی تھی ،  اس پر ایک طرف لکھا تھا ’’اس شخص کا حال عجیب ہے جسے موت کا یقین ہو ،  اسے (اپنی قلیل اور مختصر زندگی پر) خوشی کس طرح ہوتی ہے۔ اس شخص کا حال عجیب ہے جو قضاو قدر کا یقین رکھتا ہو  ، اس کو (نعمت چھن جانے اور مصیبت آنے پر) غصہ کیسے آتا ہے۔ اس شخص



Total Pages: 239

Go To