Book Name:Sirat ul jinan jild 6

{ اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ:وہ  اللہ ہے  ،  اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ۔}یعنی  اللہ تعالیٰ معبودِ حقیقی ہے اس کے سوا کوئی خدا نہیں  اوروہ حقیقتاً واحد ہے اور اَسماء و صِفات کی کثرت اس کی ذات کو تعبیر کرنے کے مختلف ذرائع ہیں  ۔یہ نہیں  کہ صفات کی کثرت ذات کی کثرت پر دلالت کرے جیسے کسی آدمی کو کہیں  کہ یہ عالم بھی ہے اور سخی بھی تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اسے عالم بھی کہہ سکتے ہیں  اور سخی بھی  ،  نہ یہ کہ دو نام رکھنے سے وہ ایک سے دو آدمی بن گئے۔

وَ هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ مُوْسٰىۘ(۹)

ترجمۂ کنزالایمان: اور کچھ تمہیں  موسیٰ کی خبر آئی۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور کیا تمہارے پاس موسیٰ کی خبر آئی۔

{وَ هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ مُوْسٰى:اور کیا تمہارے پاس موسیٰ کی خبر آئی۔}اس سے پہلی آیات میں  قرآنِ مجید اور نبی کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا حال بیان کیا گیا اور اب یہاں  سے انبیاءِ کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے حالات بیان کئے جا رہے ہیں  تاکہ اس سے حضور پُر نور صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے دل کو تَقْوِیَت حاصل ہو اور اس سلسلے میں  سب سے پہلے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکا واقعہ بیان کیا گیا کیونکہ انہیں  نبوت و رسالت کے فرائض کی ادائیگی میں  جس قدر مشقتوں  اور سختیوں  کا سامنا کرنا پڑا ہے اس میں  حضور اقدس صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے قلب مبارک کے لئے بہت تسلی ہے ،  چنانچہ یہاں  حضرت موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے اس سفر کا واقعہ بیان فرمایا جارہا ہے جس میں  آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام حضرت شعیب عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے اجازت لے کرمَدْیَن سے مصر کی طرف اپنی والدہ ماجدہ سے ملنے کے لئے روانہ ہوئے تھے  ،  آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے اہلِ بیت ہمراہ تھے اور آپ نے شام کے بادشاہوں  (کی طرف سے نقصان پہنچنے) کے اندیشہ سے سڑک چھوڑ کر جنگل میں  مسافت طے کرنا اختیار فرمایا  ، اس وقت زوجۂ محترمہ حاملہ تھیں   ،  چلتے چلتے طور پہاڑکے مغربی جانب پہنچے تویہاں  رات کے وقت زوجۂ محترمہ کو دردِ زہ شروع ہوا  ،  یہ رات اندھیری تھی ،  برف پڑ رہی تھا اور سردی شدت کی تھی  ، اتنے میں  آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو دور سے آگ معلوم ہوئی۔( تفسیرکبیر ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۹ ،  ۸ / ۱۵ ،  خازن ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۹ ،  ۳ / ۲۴۹-۲۵۰ ،  ملتقطًا)

اِذْ رَاٰ نَارًا فَقَالَ لِاَهْلِهِ امْكُثُوْۤا اِنِّیْۤ اٰنَسْتُ نَارًا لَّعَلِّیْۤ اٰتِیْكُمْ مِّنْهَا بِقَبَسٍ اَوْ اَجِدُ عَلَى النَّارِ هُدًى(۱۰)

ترجمۂ کنزالایمان: جب اس نے ایک آگ دیکھی تو اپنی بی بی سے کہا ٹھہرو مجھے ایک آگ نظر پڑی ہے شاید میں  تمہارےلیے اس میں  سے کوئی چنگاری لاؤں  یا آگ پر راستہ پاؤں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: جب اس نے ایک آگ دیکھی تو اپنی اہلیہ سے فرمایا: ٹھہرو ،  بیشک میں  نے ایک آگ دیکھی ہے شاید میں  تمہارے پاس اس میں  سے کوئی چنگاری لے آؤں  یا آگ کے پاس کوئی راستہ بتانے والا پاؤں ۔

{اِذْ رَاٰ نَارًا:جب اس نے ایک آگ دیکھی۔} جب حضرت موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے آگ دیکھی تواپنی زوجۂ محترمہ سے فرمایا: آپ یہیں  ٹھہرو ،  میں  نے ایک جگہ آگ دیکھی ہے ،  اس لئے میں جا تا ہوں  ،  شاید میں  تمہارے پاس اس آگ میں  سے کوئی چنگاری لے آؤں  یا مجھے آگ کے پاس کو ئی ایسا شخص مل جائے جس سے درست راستہ پوچھ کر ہم مصرکی طرف روانہ ہو سکیں ۔

زوجہ اہلِ بیت میں  داخل ہے:

            اس آیت میں  حضرت موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی زوجہ کو’’ اہل ‘‘فرمایا گیا ،  اس سے معلوم ہوا کہ بیوی اہلِ بیت میں  سے ہوتی ہے اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ سرکارِ دو عالَم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اَزواجِ مُطَہّرات رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُنَّ آپصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے اہلِ بیت میں  داخل ہیں  ۔  

فَلَمَّاۤ اَتٰىهَا نُوْدِیَ یٰمُوْسٰىؕ(۱۱) اِنِّیْۤ اَنَا رَبُّكَ فَاخْلَعْ نَعْلَیْكَۚ-اِنَّكَ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًىؕ(۱۲)

ترجمۂ کنزالایمان: پھر جب آگ کے پاس آیا ندا فرمائی گئی کہ اے موسیٰ۔ بیشک میں  تیرا رب ہوں  تو تو اپنے جوتے اتار ڈال بیشک تو پاک جنگل طُویٰ میں  ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: پھر وہ جب آگ کے پاس آئے تو ندا فرمائی گئی کہ اے موسیٰ۔ بیشک میں  تیرا رب ہوں  تو تو اپنے جوتے اتار دے بیشک تو پاک وادی طویٰ میں  ہے۔

{فَلَمَّاۤ اَتٰىهَا:پھر وہ جب آگ کے پاس آئے۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جب حضرتموسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اس آگ کے پاس تشریف لائے تو وہاں  آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے ایک سرسبز و شاداب درخت دیکھا جو اوپر سے نیچے تک انتہائی روشن تھا اور آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام جتنا اس کے قریب جاتے اتنا وہ دور ہوجاتا اور جب آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامٹھہر جاتے ہیں  تو وہ قریب ہوجاتا  ،  اس وقت آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو ندا فرمائی گئی کہ اے موسیٰ! بیشک میں  تیرا رب ہوں  تو تو اپنے جوتے اتار دے کہ اس میں  عاجزی کا اظہار ،  مقدس جگہ کا احترام اور پاک وادی کی خاک سے برکت حاصل کرنے کا موقع ہے  ،  بیشک تو اس وقت پاک وادی طُویٰ میں  ہے۔( مدارک ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۱۱-۱۲ ،  ص۶۸۷)

آیت’’ فَاخْلَعْ نَعْلَیْكَ‘‘ سے حاصل ہونے والی معلومات:

            اس آیت اور ا س کی تفسیر سے چار باتیں  معلوم ہوئیں :

(1)…پاک اور مقدس جگہ پر جوتے اتار کر حاضر ہونا چاہئے کہ یہ ادب کے زیادہ قریب ہے۔

(2)… اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  دعا اور مُناجات کرتے وقت جوتے اتار دینے چاہئیں ۔

(3)…مقدس جگہ سے برکت حاصل کرنے کے لئے اس کے ساتھ اپنابدن مَس کرسکتے ہیں ۔

(4)…مقدس جگہ کا ادب و احترام کرنا چاہئے کہ یہ انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی سنت ہے۔ اسی وجہ سے انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور اولیاءِ عظام رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِم کے مزارات اور اس سرزمین کا ادب کیا جاتا ہے جہاں  وہ آرام فرما ہیں ۔ ہمارے بزرگانِ دین مقدس مقامات کا ادب کس طرح کیا کرتے تھے اس سلسلے میں ایک حکایا ت ملاحظہ ہو  ،  چنانچہ

             حضرت امام شافعی رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ فرماتے ہیں  : میں  نے (مدینہ منورہ میں ) حضرت امام مالک رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ کے دروازے پر خراسان کے گھوڑوں  کا ایک ایسا ریوڑ دیکھا کہ میں  نے



Total Pages: 239

Go To