Book Name:Sirat ul jinan jild 6

             ان میں  فرق یہ ہے کہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کوجو بڑی بڑی نشانیاں  دکھائی گئیں  ان کا تعلق فقط زمین کے عجائبات سے ہے جبکہ سیّد المرسَلین صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے اپنے رب عَزَّوَجَلَّکی جو بڑی نشانیاں  دیکھی ہیں  ان کا تعلق زمین کے عجائبات سے بھی ہے اور آسمانوں  کے عجائبات سے بھی ہے۔( روح البیان ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۲۳ ،  ۵ / ۳۷۷)

اِذْهَبْ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰى۠(۲۴)

ترجمۂ کنزالایمان: فرعون کے پاس جا اس نے سر اٹھایا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: فرعون کے پاس جاؤ ،  بیشک وہ سرکش ہوگیا ہے۔

{اِذْهَبْ اِلٰى فِرْعَوْنَ:فرعون کے پاس جاؤ۔} ارشاد فرمایا کہ اے موسیٰ! عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ،  تم ہمارے رسول ہو کر فرعون کے پاس جاؤ ،  بیشک وہ سرکش ہوگیا ہے اور کفر میں  حد سے گزر گیا اور خدائی کا دعویٰ کرنے لگا ہے۔ حقیقت میں  تو حضرت موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو فرعون اور اس کے تمام ماننے والوں  کی طرف بھیجا گیا تھاالبتہ فرعون کوخاص طور پر ذکر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ اس نے خدا ہونے کادعویٰ کیا تھا اور کفر میں  حد سے گزر گیا تھا۔( جلالین ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۲۴ ،  ص۲۶۲ ،  خازن ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۲۴ ،  ۳ / ۲۵۲ ،  ملتقطاً)

قَالَ رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْۙ(۲۵) وَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْۙ(۲۶) وَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْۙ(۲۷) یَفْقَهُوْا قَوْلِیْ۪(۲۸)

ترجمۂ کنزالایمان: عرض کی اے میرے رب میرے لیے میرا سینہ کھول دے ۔ اور میرے لیے میرا کام آسان کر۔ اور میری زبان کی گرہ کھول دے۔ کہ وہ میری بات سمجھیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: موسیٰ نے عرض کی: اے میرے رب! میرے لیے میرا سینہ کھول دے ۔اور میرے لیے میرا کام آسان فرما دے۔ اور میری زبان کی گرہ کھول دے۔ تاکہ وہ میری بات سمجھیں ۔

{قَالَ رَبِّ:موسیٰ نے عرض کی: اے میرے رب!}اس آیت اور اس کے بعد والی تین آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ جب حضرت موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو سر کش فرعون کی طرف جانے کا حکم دیا گیا اور آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام جان گئے کہ انہیں  ایک ایسے عظیم کا م کا پابند کیا گیا ہے جس کے لئے سینہ کشادہ ہونے کی حاجت ہے تو آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے  اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  عرض کی: اے میرے رب! عَزَّوَجَلَّ ،  میرے لیے میرا سینہ کھول دے اور اسے رسالت کا بوجھ اٹھانے کے لئے وسیع فرما دے اور اسباب پیدا فرما کر دیگر رکاوٹیں  ختم کر کے میرے لیے میرا وہ کام آسان فرما دے جس کاتو نے مجھے حکم دیا ہے اور میری زبان کی گرہ کھول دے جو بچپن میں  آگ کا انگارہ منہ میں  رکھ لینے سے پڑ گئی ہے تاکہ وہ لوگ رسالت کی تبلیغ کے وقت میری بات سمجھیں ۔( مدارک ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۲۵-۲۸ ،  ص۶۸۹-۶۹۰ ،  خازن ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۲۵-۲۸ ،  ۳ / ۲۵۲-۲۵۳ ،  روح البیان ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۲۵-۲۸ ،  ۵ / ۳۷۸ ،  ملتقطاً)

{وَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْ:اور میری زبان سے گرہ کھول دے۔} حضرت موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی زبان میں  لُکْنت پیدا ہونے کی وجہ یہ تھی کہ بچپن میں  ایک دن فرعون نے آپ کواٹھایا تو آپ نے اس کی داڑھی پکڑ کر اس کے منہ پر زور سے طمانچہ مار دیا ،  اِس پر اُسے غصہ آیا اور اُس نے آپعَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو قتل کرنے کا ارادہ کرلیا ،  یہ دیکھ کر حضرت آسیہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہانے کہا: اے بادشاہ! یہ ابھی بچہ ہے اسے کیا سمجھ؟ اگر تو تجربہ کرنا چاہے تو تجربہ کرلے۔ اس تجربہ کے لئے ایک طشت میں  آگ اور ایک طشت میں  سرخ یاقوت آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے سامنے پیش کئے گئے۔ آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے یاقوت لینا چاہا مگر فرشتے نے آپعَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا ہاتھ انگارہ پر رکھ دیا اور وہ انگارہ آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے منہ میں  دے دیا اس سے زبان مبارک جل گئی اور لکنت پیدا ہوگئی۔( بغوی ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۲۷ ،  ۳ / ۱۸۲)

وَ اجْعَلْ لِّیْ وَزِیْرًا مِّنْ اَهْلِیْۙ(۲۹) هٰرُوْنَ اَخِیۙ(۳۰) اشْدُدْ بِهٖۤ اَزْرِیْۙ(۳۱) وَ اَشْرِكْهُ فِیْۤ اَمْرِیْۙ(۳۲) كَیْ نُسَبِّحَكَ كَثِیْرًاۙ(۳۳) وَّ نَذْكُرَكَ كَثِیْرًاؕ(۳۴) اِنَّكَ كُنْتَ بِنَا بَصِیْرًا(۳۵)

ترجمۂ کنزالایمان: اور میرے لئے میرے گھر والوں  میں  سے ایک وزیر کردے۔ وہ کون میرا بھائی ہارون۔ اس سے میری کمر مضبوط کر۔ اور اسے میرے کام میں  شریک کر۔ کہ ہم بکثرت تیری پاکی بولیں ۔ اور بکثرت تیری یاد کریں ۔ بیشک تو ہمیں  دیکھ رہا ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور میرے لیے میرے گھر والوں  میں  سے ایک وزیر کردے۔ میرے بھائی ہارون کو ۔ اس کے ذریعے میری کمر مضبوط فرما۔ اور اسے میرے کام میں  شریک کردے۔ تاکہ ہم بکثرت تیری پاکی بیان کریں ۔ اور بکثرت تیرا ذکر کریں  ۔ بیشک تو ہمیں  دیکھ رہا ہے ۔

{وَ اجْعَلْ لِّیْ وَزِیْرًا مِّنْ اَهْلِیْ:اور میرے لیے میرے گھر والوں  میں  سے ایک وزیر کردے۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی چھ آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے مزید عرض کی: میرے لیے میرے گھر والوں  میں  سے ایک وزیر کر دے جو میرا معاون اور مُعتمد ہواور وہ میرا بھائی ہارون ہو ،  اس کے ذریعے میری کمر مضبوط فرما اور  اسے رسالت کی تبلیغ اور نبوت کے کام میں  میرا شریک کردے تاکہ ہم بکثرت تیری پاکی بیان کریں  اور نمازوں  میں  اور نمازوں  کے علاوہ بھی بکثرت تیرا ذکر کریں  بیشک تو ہمیں  دیکھ رہا ہے اور ہمارے اَحوال کو جانتا ہے۔( مدارک ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۲۹-۳۵ ،  ص۶۹۰ ،  خازن ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۲۹-۳۵ ،  ۳ / ۲۵۳ ،  ملتقطاً)

سورۂ طٰہٰ کی آیت نمبر 29 تا 35 سے حاصل ہونے والی معلومات:

            ان آیات سے8 باتیں  معلوم ہوئیں :

(1)… اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  حضرت موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکا مقام اتنا بلند ہے کہ  اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا سے ان کے بھائی حضرت ہارون عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو نبوت جیسا عظیم منصب عطا فرما دیا۔

(2)… اپنے عزیز کو اپنا جانشین بنا نا حرام نہیں  ،  اصل مدار اہلیّت پر ہے ،  اگر اولاد اہل ہے تو اسے جانشین بنانا درست ہے کہ اہل آدمی کا اولاد ہونا کوئی ایسا جرم نہیں  کہ اسے جانشین نہ بنایا جاسکے  ، ہاں  کسی خارجی وجہ سے یہ فعل نہ کیا جائے تو وہ جدا بات ہے۔ اس معاملے میں  لوگوں  کی آراء میں  بہت اِفراط و تفریط پایا جاتا ہے  ،  لہٰذا انہیں  اِعتدال کی راہ اختیار کرنی چاہیے۔

(3)…  اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور سے قوت اور مدد حاصل کرنا نہ توکّل کے خلاف ہے اور نہ توحید کے مُنافی ہے۔

 



Total Pages: 235

Go To