Book Name:Sirat ul jinan jild 6

تَعَالٰی  عَنْہُنے خالد بن سفیان ہزلی کو قتل کر دیا اور اس کا سر کاٹ کر مدینہ منورہ لائے اور تاجدارِ دو عالَم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے قدموں  میں  ڈال دیا تو حضور پُر نور صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے حضرت عبد اللہ بن انیس رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ کی بہادری اور جان بازی سے خوش ہو کر انہیں  اپنا عصا عطا فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ تم اسی عصا کو ہاتھ میں  لے کر جنت میں  چہل قدمی کرو گے۔ انہوں  نے عرض کی: یا رسولَ اللّٰہ! صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ،  قیامت کے دن یہ مبارک عصا میرے پاس نشانی کے طور پر رہے گا۔ چنانچہ انتقال کے وقت انہوں  نے یہ وصیت فرمائی کہ اس عصا کو میرے کفن میں  رکھ دیا جائے۔( زرقانی علی المواہب ،  کتاب المغازی ،  سریۃ عبد  اللہ بن انیس ،  ۲ / ۴۷۳-۴۷۴ ملخصًا)

قَالَ اَلْقِهَا یٰمُوْسٰى(۱۹)فَاَلْقٰىهَا فَاِذَا هِیَ حَیَّةٌ تَسْعٰى(۲۰)قَالَ خُذْهَا وَ لَا تَخَفْٙ-سَنُعِیْدُهَا سِیْرَتَهَا الْاُوْلٰى(۲۱)

ترجمۂ کنزالایمان: فرمایا اسے ڈال دے اے موسیٰ۔ تو موسیٰ نے اسے ڈال دیا تو جبھی وہ دوڑتا ہوا سانپ ہوگیا۔ فرمایااسے اٹھالے اور ڈر نہیں  اب ہم اسے پھر پہلی طرح کردیں  گے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: فرمایا: اے موسیٰ اسے ڈال دو۔ تو موسیٰ نے اسے (نیچے) ڈال دیا تو اچانک وہ سانپ بن گیا جو دوڑ رہا تھا۔ ( اللہ نے) فرمایا: اسے پکڑ لو اور ڈرو نہیں  ،  ہم اسے دوبارہ اس کی پہلی حالت پر لوٹادیں  گے۔

{قَالَ: فرمایا۔} اس آیت اور اس کے بعد والی دو آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ  اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے ارشاد فرمایا ’’اے موسیٰ !اس عصا کو زمین پر ڈال دو تاکہ تم اس کی شان دیکھ سکو۔ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے عصا زمین پر ڈال دیا تووہ اچانک سانپ بن کر تیزی سے دوڑنے لگا اور اپنے راستے میں  آنے والی ہر چیز کو کھانے لگا۔ یہ حال دیکھ کر حضرت موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو (طبعی طور پر) خوف ہوا تو  اللہ تعالیٰ نے ان سے ارشاد فرمایا: اسے پکڑ لو اور ڈرو نہیں  ،  ہم اسے دوبارہ پہلی حالت پر لوٹا دیں  گے۔ یہ سنتے ہی حضرت موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکا خوف جاتا رہا ،  حتّٰی کہ آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے اپنا دستِ مبارک اس کے منہ میں  ڈال دیا اور وہ آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے ہاتھ لگاتے ہی پہلے کی طرح عصا بن گیا۔( خازن ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۱۹-۲۱ ،  ۳ / ۲۵۱-۲۵۲ ،  مدارک ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۱۹-۲۱ ،  ص۶۸۹ ،  ملتقطاً)

{فَاِذَا هِیَ حَیَّةٌ تَسْعٰى:تو اچانک وہ سانپ بن گیا جو دوڑ رہا تھا۔} جب حضرت موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہوئے اس وقت ان کے عصا کو سانپ بنائے جانے کی مفسرین نے مختلف حکمتیں  بیان کی ہیں  ،  ان میں  سے دو حکمتیں  درج ذیل ہیں ۔

(1)… اللہ تعالیٰ نے ان کے عصا کو اس لئے سانپ بنایاتاکہ یہ ان کا معجزہ ہو جس سے ان کی نبوت کو پہچانا جائے ۔

(2)…اس مقام پر عصا کو سانپ اس لئے بنایا گیا تاکہ حضرت موسیٰعَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اس کا پہلے سے مشاہدہ کر لیں  اور جب فرعون کے سامنے یہ عصا سانپ بنے تو آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اسے دیکھ کر خوفزدہ نہ ہوں ۔( تفسیرکبیر ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۲۰ ،  ۸ / ۲۷)

وَ اضْمُمْ یَدَكَ اِلٰى جَنَاحِكَ تَخْرُ جْ بَیْضَآءَ مِنْ غَیْرِ سُوْٓءٍاٰیَةً اُخْرٰىۙ(۲۲)

ترجمۂ کنزالایمان: اور اپنا ہاتھ اپنے بازو سے ملا خوب سپید نکلے گا بے کسی مرض کے ایک اور نشانی ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اپنے ہاتھ کو اپنے بازو سے ملاؤ  ، بغیر کسی مرض کے خوب سفید ہوکر ،  ایک اور معجزہ بن کرنکلے گا۔

{وَ اضْمُمْ یَدَكَ اِلٰى جَنَاحِكَ:اور اپنے ہاتھ کو اپنے بازوسے ملا لو۔}  اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو ایک اور معجزہ عطا فرمایا جس کے بارے میں  یہاں  ارشاد فرمایا کہ اے موسیٰ! آپ اپنے دائیں  ہاتھ کی ہتھیلی بائیں  بازو کی بغل کے نیچے ملا کر نکالئے تو وہ ہاتھ سورج کی طرح چمکتا ،  نگاہوں  کو خیرہ کرتا اور کسی مرض کے بغیرخوب سفید ہو کر نکلے گا اور یہ عصا کے بعد آپ کی نبوت کی صداقت کی ایک اور نشانی ہے اسے بھی لیجئے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمَافرماتے ہیں  کہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے دست مبارک سے رات میں  چاند اور دن میں  سورج کی روشنی کی طرح نور ظاہر ہوتا تھا۔( مدارک ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۲۲ ،  ص۶۸۹ ،  خازن ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۲۲ ،  ۳ / ۲۵۲ ،  ملتقطاً)

              جب حضرت موسیٰعَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام دوبارہ اپنا دست مبارک بغل کے نیچے رکھ کر بازو سے ملاتے تو وہ دستِ اَقدس اپنی سابقہ حالت پر آ جاتا تھا۔

لِنُرِیَكَ مِنْ اٰیٰتِنَا الْكُبْرٰىۚ(۲۳)

ترجمۂ کنزالایمان: کہ ہم تجھے اپنی بڑی بڑی نشانیاں  دکھائیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تاکہ ہم تجھے اپنی بڑی بڑی نشانیاں  دکھائیں ۔

{لِنُرِیَكَ مِنْ اٰیٰتِنَا الْكُبْرٰى:تاکہ ہم تجھے اپنی بڑی بڑی نشانیاں  دکھائیں ۔} یعنی اے موسیٰ! عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ،  ہم نے آپ کو عصا سانپ بن جانے اور ہاتھ روشن ہو جانے کے دو معجزات اس لئے عطا کئے تاکہ ان کے ذریعے ہم آپ کو اپنی بڑی بڑی نشانیاں  دکھائیں ۔( روح البیان ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۲۳ ،  ۵ / ۳۷۷)

کلیم اور حبیب کو دکھائی گئی نشانیوں  میں  فرق:

            اس آیت میں   اللہ تعالیٰ نے اپنے کلیم حضرت موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامسے ارشاد فرمایا:

’’لِنُرِیَكَ مِنْ اٰیٰتِنَا الْكُبْرٰى‘‘

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تاکہ ہم تجھے اپنی بڑی بڑی نشانیاں  دکھائیں ۔

 اور اپنے حبیب صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے بارے میں  ارشاد فرمایا کہ

’’ لَقَدْ رَاٰى مِنْ اٰیٰتِ رَبِّهِ الْكُبْرٰى‘‘ (نجم:۱۸)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک اس نے اپنے رب کی بہت بڑینشانیاں  دیکھیں ۔

 



Total Pages: 235

Go To