Book Name:Sirat ul jinan jild 6

آنے کا وقت چھپانے کی جو حکمت اوپر بیان ہوئی کہ لوگ اس وجہ سے خوفزدہ رہیں  گے اور گناہ چھوڑ کر نیکیاں  زیادہ کریں  گے اور توبہ کرنے میں  مصروف رہیں  گے یہی حکمت موت کا وقت چھپانے میں  بھی ہے کیونکہ جب کسی انسان کو اپنی عمر ختم ہونے اور موت آنے کا وقت معلوم ہو گا تو وہ اس وقت کے قریب آنے تک گناہوں  میں  مشغول رہے گا اور جب موت کا وقت آنے والا ہو گا تو وہ گناہوں  سے توبہ کر کے نیک اعمال کرنے میں  مصروف ہو جائے گا اور اس طرح وہ گناہوں  کی سزا پانے سے بچ جائے گا اور جب انسان کو اپنی موت کا وقت ہی معلوم نہ ہو گا تو وہ ہر وقت خوف اور دہشت میں  مبتلا رہے گا اور یا تو گناہوں  کو مکمل طور پر چھوڑ دے گا یا ہر وقت اس ڈر سے گناہوں  سے توبہ کرتا رہے گا کہ کہیں  ابھی موت نہ آ جائے۔

            افسوس! فی زمانہ لوگوں کی اکثریت حشر کے ہولناک دن اور اپنی موت کو یاد کرنے ،  اپنی آخرت کو بہتر بنانے کی جستجو کرنے اور اپنی موت کے لئے تیاری کرنے سے انتہائی غفلت کا شکار ہے اور قیامت کے دن راحت و چین مل جانے اور دنیا میں  اپنی عمر زیادہ ہونے کی لمبی لمبی امیدیں  باندھے ہوئے ہے۔  اللہ تعالیٰ انہیں  ہدایت عطا فرمائے اور اپنی قبر و آخرت کی بہتری کے لئے فوری طور پر بھرپور کوشش کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

            نوٹ: یاد رہے کہ قیامت آنے کا وقت  اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں  سے چھپایا ہے ،  اس کا یہ مطلب نہیں  کہ  اللہ تعالیٰ نے اپنے کسی بھی بندے کو اس کی اطلاع نہیں  دی بلکہ اَحادیث سے یہ بات ثابت ہے کہ  اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کوقیامت آنے کا وقت بھی بتا دیا ہے اور نبی کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا قیامت کی نشانیاں  بیان فرمانا اور اس کامُتَعَیَّن  وقت امت کو نہ بتانا بھی حکمت کے پیشِ نظر ہے۔

فَلَا یَصُدَّنَّكَ عَنْهَا مَنْ لَّا یُؤْمِنُ بِهَا وَ اتَّبَعَ هَوٰىهُ فَتَرْدٰى(۱۶)

ترجمۂ کنزالایمان: تو ہرگز تجھے اس کے ماننے سے وہ باز نہ رکھے جو اس پر ایمان نہیں  لاتا اور اپنی خواہش کے پیچھے چلا پھر تو ہلاک ہوجائے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو قیامت پر ایمان نہ لانے والا اور اپنی خواہش کی پیروی کرنے والا ہرگز تجھے اس کے ماننے سے باز نہ رکھے ورنہ تو ہلاک ہوجائے گا۔

{فَلَا یَصُدَّنَّكَ عَنْهَا مَنْ لَّا یُؤْمِنُ بِهَا:تو قیامت پر ایمان نہ لانے والا ہرگز تجھے اس کے ماننے سے باز نہ رکھے ۔} یہاں  آیت میں  خطاب بظاہر حضرت موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامسے ہے اور اس سے مراد آپعَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی اُمت ہے۔ چنانچہگویا کہ ارشاد فرمایا :اے میرے کلیم موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے امتی! قیامت پر ایمان نہ لانے والا اور  اللہ تعالیٰ کے حکم کے مقابلے میں  اپنی خواہش کی پیروی کرنے والا ہرگز تجھے قیامت کو ماننے سے باز نہ رکھے ورنہ تو ہلاک ہوجائے گا۔(مدارک ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۱۶ ،  ص۶۸۸)

وَ مَا تِلْكَ بِیَمِیْنِكَ یٰمُوْسٰى(۱۷)

ترجمۂ کنزالایمان: اور یہ تیرے داہنے ہاتھ میں  کیا ہے اے موسیٰ ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اے موسیٰ! یہ تمہارے دائیں  ہاتھ میں  کیا ہے؟

{وَ مَا تِلْكَ بِیَمِیْنِكَ یٰمُوْسٰى:اور اے موسیٰ! یہ تمہارے دائیں  ہاتھ میں  کیا ہے؟}اس سوال کی حکمت یہ ہے کہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اپنے عصا کو دیکھ لیں  اور یہ بات قلب میں  خوب راسخ ہوجائے کہ یہ عصا ہے تاکہ جس وقت وہ سانپ کی شکل میں  ہو تو آپ کے خاطر مبارک پر کوئی پریشانی نہ ہو یا یہ حکمت ہے کہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو مانوس کیا جائے تاکہ  اللہ عَزَّوَجَلَّ سے کلام کی ہیبت کا اثر کم ہو۔( مدارک ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۱۷ ،  ص۶۸۸)

سوال پوچھنے کی وجہ لاعلمی ہونا ضرور ی نہیں :

            اس آیت سے معلوم ہوا کہ سوال ہمیشہ پوچھنے والے کی لا علمی کی بنا پر نہیں  ہوتا بلکہ اس میں  کچھ اور بھی حکمتیں  ہوتی ہیں ۔ لہٰذا کسی موقعہ پر حضور پُرنور صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا کسی سے کچھ پوچھنا حضور انور صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے بے خبر ہونے کی دلیل نہیں ۔

قَالَ هِیَ عَصَایَۚ-اَتَوَكَّؤُا عَلَیْهَا وَ اَهُشُّ بِهَا عَلٰى غَنَمِیْ وَ لِیَ فِیْهَا مَاٰرِبُ اُخْرٰى(۱۸)

ترجمۂ کنزالایمان: عرض کی یہ میرا عصا ہے میں  اس پر تکیہ لگاتا ہوں  اور اس سے اپنی بکریوں  پر پتے جھاڑتا ہوں  اور میرے اس میں  اور کام ہیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: عرض کی: یہ میرا عصا ہے میں  اس پر تکیہ لگاتا ہوں  اور اس سے اپنی بکریوں  پر پتے جھاڑتا ہوں  اور میری اس میں  اور بھی کئی ضرورتیں  ہیں ۔

{قَالَ هِیَ عَصَایَ:عرض کی: یہ میرا عصا ہے۔} حضرت موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے عرض کی: یہ میرا عصا ہے  ،  جب تھک جاتا ہوں  تو اس پر ٹیک لگاتا ہوں  اور اس سے اپنی بکریوں  کے لیے خشک درختوں  سے پتے جھاڑتا ہوں  اور میری کئی ضروریات میں  بھی یہ میرے کام آتا ہے جیسے اس کے ذریعے توشہ اور پانی اٹھانا  ،  مُوذی جانوروں  کو دفع کرنا اور دشمنوں  سے لڑائی میں  کام لینا وغیرہ ۔ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکا اپنے عصا کے ان فوائد کو بیان کرنا  اللہ تعالیٰ کی نعمتوں  کےشکر کے طور پر تھا۔( خازن ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۱۸ ،  ۳ / ۲۵۱ ،  مدارک ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۱۸ ،  ص۶۸۸ ،  ملتقطًا)

عصا رکھنے کے فوائد:

            اس آیت سے معلوم ہوا کہ اپنے پاس عصا رکھنا انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی سنت ہے اور اس سے کئی فوائد حاصل ہوتے ہیں ۔ حضرت حسن بصری رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُفرماتے ہیں  ’’عصا رکھنے میں  چھ فضیلتیں  ہیں۔ (1) یہ انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی سنت ہے،  (2)صُلحاکی زینت ہے،  (3) دشمنوں  کے خلاف ہتھیار ہے،  (4)کمزورں  کا مددگار ہے،  (5)منافقین کے لیے پریشانی کاباعث ہے  ،  (6)عبادت میں  زیادتی کاباعث ہے۔( قرطبی ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۱۸ ،  ۶ / ۸۹ ،  الجزء الحادی عشر)

عصا کے ساتھ جنت میں  چہل قدمی:

            تاجدارِ رسالت صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ بھی عصا مبارک استعمال فرمایا کرتے تھے  ، اسی سلسلے میں  ایک بہت پیاری حکایت ملاحظہ ہو ،  چنانچہ جب حضرت عبد اللہ بن انیس رَضِیَ  اللہ  



Total Pages: 235

Go To